یوٹیوب سے پیسے کمانے کا طریقہ تبدیل سخت پالیسی متعارف

YouTube monetization rules in Urdu 2018

یوٹیوب سے پیسے کمانے کا طریقہ تبدیل سخت پالیسی متعارف

نئی پالیسی کے مطابق مانیٹائزیشن کے لیے کسی چینل پر پچھلے بارہ مہینے میں ایک ہزار سبسکرائبرز اور چار ہزار گھنٹے کا واچ ٹائم ہونا لازمی ہے

انٹرنیٹ پر کاروبار کے حوالے سے یوٹیوب سب سے آسان اور موثر ذریعہ ہے۔ شروع شروع میں یوٹیوب پر چینل بنا کر چند ویڈیوز اپلوڈ کر کے لوگ مانیٹائزیشن یعنی اشتہارات کے لیے اپلائی کرتے تھے اور اپنی ویڈیوز پر اشتہارات چلانے کے بدلے رقم وصول کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ جب چینلز کی بھرمار ہوگئی اور ہر شخص ایک آدھ ویڈیو بنا کر اشتہار حاصل کرنے لگا تو یوٹیوب کو اشتہارات فراہم کرنے والی بڑی کمپنیوں نے احتجاجا اپنے اشتہارات ہٹا دیے تو یوٹیوب نے اپنی پالیسی تبدیل کر کے یہ شرط عائد کر دی کہ جب تک کسی چینل کی تمام ویڈیوز کے views کل ملا کر دس ہزار ویووز ہوجائیں وہ چینل اپنی ویڈیوز پر اشتہارات حاصل کرنے کا اہل ہوجائے گا۔
یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن اب حال ہی میں یوٹیوب نے اس سے بھی سخت پالیسی اختیار کی ہے۔
نئی پالیسی کے مطابق مانیٹائزیشن کے لیے کسی چینل پر پچھلے بارہ مہینے میں ایک ہزار سبسکرائبرز اور چار ہزار گھنٹے کا واچ ٹائم ہونا لازمی ہے۔ یہ قوانین نئے اور پرانے تمام چینلز پر لاگو ہوں گے۔
وہ تمام چینلز جو پہلے دس ہزار ویوز پورے ہونے کے بعد یا پہلے اپلائی کر چکے ہیں اور اپروول کے انتظار میں ہیں تو ان پر بھی یہ قانون لاگو کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ بیس فروری دوہزار اٹھارہ تک اگر کوئی چینل جس پر اشتہارات پہلے سے لگا دیے گئے ہوں تب بھی اگر نئے شرائط و ضوابط یعنی چار ہزار گھنٹے کا واچ ٹائم اور ایک ہزار سبسکرائبرز کے مطابق پورا نہیں اترتا تو اس چینل سے بھی اشتہارات ہٹا دیے جائیں گے۔
یوٹیوب کے مطابق یہ قوانین ایڈورٹائزرز کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ یوٹیوب نے تمام بڑے چینلز کی چھان بین بھی شروع کر دی ہے اگر کسی چینل پر ایسی ویڈیو جو یوٹیوب کی کمیونٹی گائیڈلائنس یعنی مقررہ حدود پر پورا نہیں اترتا تو اس ویڈیو یا چینل کو بھی یوٹیوب سے ہٹا دیا جائے گا۔
کیونکہ حال ہی جاپان کے ایک بڑے چینل پر ایک ایسی بھیانک ویڈیو سامنے آ گئی جس میں خودکشی اور موت کے مناظر دکھائے گئے تھے جسے کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے یوٹیوب نے اس ویڈیو کو ہٹا کر چینل کو بند کر دیا اور اس بات کو بنیاد بنا کر نئے سخت قوانین متعارف کروائے ہیں جبکہ بعض نیوز چینلز کے مطابق اس ویڈیو کو چینل کے مالک نے عوام کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے خود منظر عام سے ہٹا دیا۔
یوٹیوب کی نئی پالیسی سے یقینی طور پر بہت سے لوگوں کی امیدوں پر پانی پھر گیا لیکن کچھ لوگ اب بھی یہ چیلنج قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔
بقول فیض احمد فیض
دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

جواب دیجئے