تازہ ترین
لوڈ ہو رہا ہے۔۔۔۔
Thursday, 28 December 2017

کوئی ایسا جادو ٹونہ کر مرے عشق میں وہ دیوانہ ہو

December 28, 2017
کوئی ایسا جادو ٹونا کر



دل کے تار چھیڑنے والا ایک خوبصورت نظم




کوئی ایسا جادو ٹونہ کر





کوئی ایسا جادو ٹونہ کر مرے عشق میں وہ دیوانہ ہو

یوں الٹ پلٹ کر گردش کی میں شمع، وہ پروانہ ہو
زرا دیکھ کے چال ستاروں کی کوئی زائچہ کھینچ قلندر سا
کوئی ایسا جنتر منتر پڑھ۔ جو کر دے بخت سکندر سا
کوئی چلہ ایسا کاٹ کہ پھر۔ کوئی اسکی کاٹ نہ کر پائے 
کوئی ایسا دے تعویز مجھے وہ مجھ پر عاشق ہو جائے
کوئی فال نکال کرشمہ گر مری راہ میں پھول گلاب آئیں
کوئی پانی پھوک کے دے ایسا وہ پئے تو میرے خواب آئیں
کوئی ایسا کالا جادو کر جو جگمگ کر دے میرے دن
وہ کہے مبارک جلدی آ اب جیا نہ جائے تیرے بن
کوئی ایسی رہ پہ ڈال مجھے جس رہ سے وہ دلدار ملے
کوئی تسبیح دم درود بتا جسے پڑھوں تو میرا یار ملے
کوئی قابو کر بے قابو جن کوئی سانپ نکال پٹاری سے
کوئی دھاگہ کھینچ پراندے کا کوئی منکا اکشا دھاری سے
کوئی ایسا بول سکھا دے نا وہ سمجھے خوش گفتار ہوں میں
کوئی ایسا عمل کرا مجھ سے وہ جانے ، جان نثار ہوں میں
کوئی ڈھونڈھ کے وہ کستوری لا اسے لگے میں چاند کے جیسا ہوں
جو مرضی میرے یار کی ہے اسے لگے میں بالکل ویسا ہوں
کوئی ایسا اسم اعظم پڑھ۔ جو اشک بہا دے سجدوں میں
اور جیسے تیرا دعوی ہے محبوب ہو میرے قدموں میں
پر عامل رک، اک بات کہوں یہ قدموں والی بات ہے کیا ؟
محبوب تو ہے سر آنکھوں پر مجھ پتھر کی اوقات ہے کیا
اور عامل سن یہ کام بدل یہ کام بہت نقصان کا ہے
سب دھاگے اس کے ہاتھ میں ہیں جو مالک کل جہان کا ہے




شاعر نا معلوم

0 تبصرے:

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.
 
فوٹر کھولیں