فیس بک انسٹنٹ آرٹیکلز سے پیسے کمائیں

 

فیس بک انسٹنٹ آرٹیکلز سے پیسے کمائیں

فیس بک انسٹنٹ آرٹیلکز کیسے اپرو کریں۔


فیس بک انسٹنٹ آرٹیکلز تیزی سے لوڈ ہوتے ہیں

فیس بک انسٹنٹ آرٹیلکز کیا ہیں ؟

عام طور پر فیس بک پر شیئر کیے گئے آرٹیکلز , خبریں , کالم وغیرہ پڑھنے کے لیے آپ کو دیے گئے لنک پر کلک کر کے اس ویب سائٹ میں جانا پڑتا ہے۔ اگر آپ کا انٹرنیٹ سلو ہے یا آپ کے پاس صرف فیس بک پیکج ہے یا ویب سائٹ دیر سے لوڈ ہوتا ہے تو آپ وہ تحریر پڑھ نہیں پاتے۔ اب فیس بک انسٹنٹ آرٹیکلز نے اس مسئلے کو حال کر دیا ہے۔ اب آپ ان آرٹیلکز کو فیس بک کے اندر رہتے ہوئے پڑھ سکتے ہیں۔ جیسے ہی آپ آرٹیکل کے لنک پر کلک کریں گے پلک جھپکتے ہی آرٹیکل آپ کی نظروں کے سامنے ایک ونڈو کی طرح کھل جائے گا جیسے ویگن اور کوچ وغیرہ شیشے کھلتے اور بند ہوتے ہیں اسی طرح آپ اس ونڈو کو بند کر کے فیس بک پہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہ لنک ویب سائٹ کے مقابلے میں دس گنا تیزی سے کھلتا ہے۔

انسٹینٹ آرٹیکل کیسے کام کرتا ہے۔

ویسے تو لوگوں کو آرٹیکل پڑھنے کے لیے ویب سائٹ پر جانا پڑتا ہے مگر ویب سائٹ کا مالک اپنے جب اپنے آرٹیکلز فیس بک پر امپورٹ کرتا ہے تو وہ فیس بک کے سرورز پر منتقل ہوجاتے ہیں۔ فیس بک چونکہ ویب سائٹ کا سائیڈ بار ، مینو اور پیجز وغیرہ ظاہر کرنے کے بجائے صرف آرٹیکل کو ظاہر کرتا ہے اس لیے زیادہ لوڈنگ نہیں ہوتی اور وہ آرٹیکل جلدی سے کھلتا ہے۔ آرٹیکل میں تصاویر اور ویڈیوز بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان تصاویر کو زوم کر کے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سی تصاویر سلائیڈ شو میں بھی دیے جا سکتے ہیں۔
یاد رہے یہ آرٹیکلز صرف موبائل پر یعنی فیس بک کے انڈرائد اور آئی فون ایپلیکیشن پر اس طرح کھلتے ہیں باقی براؤزر اور لیپ ٹاپ پر ویب سائٹ کا لنک کھلتا ہے۔ فیس بک پر دیا گیا ہر لنک یا آرٹیکل اس طرح نہیں کھلتا صرف وہ آرٹیکلز اس طرح ظاہر ہوں گے جن کے مالک نے اپنی ویب سائٹ پر انسٹنٹ آرٹیکلز  کی سیٹنگز کی ہوں گی۔

فوائد

انسٹنٹ آرٹیکلز سے فیس بک کو فائدہ ہوتا ہے کہ لوگ فیس بک سے نکلے بغیر آرٹیکلز پڑھیں گے اور زیادہ وقت فیس بک پہ گزاریں گے۔ آرٹیکل پڑھنے والے کو وقت اور ڈیٹا کی بچت ہوتی ہے۔ اور آرٹیکلز شائع کرنے والے کو فیس بک کی طرف سے آرٹیکل پر اشتہارات دکھانے کے پیسے ملتے ہیں۔

اہلیت کا معیار

فیس بک انسٹنٹ آرٹیکلز کے لیے آپ کے پاس ایک ویب سائٹ یا بلاگ ہونا لازمی ہے۔ ویب سائٹ پر دس آرٹیکلز ہونا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ ایک فیس بک پیج اور بینک اکاؤنٹ ہونا بھی ضروری ہے۔ آرٹیکلز کے لیے کاپی رائٹ کی کوئی شرط نہیں ہے۔

سیٹ اپ

اگر آپ اپنی ویب سائٹ کو فیس بک آرٹیکلز سے جوڑ کر پیسے کمانا چاہتے ہیں تو سب سے اپنی فیس بک آئی ڈی سے لاگ ان ہو کر اس لنک پر جائیں
اور سائن اپ پر کلک کریں۔ اس کے بعد آپ اپنے جس پیج پر آرٹیکلز شیئر کرنا چاہتے ہیں وہ پیج منتخب کریں۔
اس کے بعد configuration میں بہت سے سیٹنگز کرنے ہوں گے۔ سب سے پہلے تو اپنا ویب سائٹ فیس بک سے link کرنے کا آپشن ہے اس پر کلک کر کے اپنے ویب سائٹ لنک دیجیے۔ پھر وہاں سے meta کوڈ کاپی کر کے ویب سائٹ کے <head> ٹیگ میں پیسٹ کر کے ویریفائی کیجیے۔  ویب سائٹ کنیکٹ کرنے کے بعد نیچے پروڈکشن آر ایس ایس فیڈ میں اپنے ویب سائٹ یا بلاگ کا RSS Feed لنک دیجیے جیسا کہ اس ویب سائٹ کا آر ایس ایس لنک ہے
https://www.urduzameen.com/feeds/posts/default?alt=rss
اگر آپ کو Rss Feed کے بارے میں نہیں پتہ تو اسی لنک سے اردو زمین ہٹا کر اپنی ویب سائٹ کا لنک ڈال دیجیے۔
اگر آپ ورڈپریس استعمال کر رہے ہیں آپ Rss Feed کے بجائے ورڈپریس کا Plugin استعمال کریں۔
اگر بلاگر استعمال کر رہے ہیں تو آر ایس ایس فیڈ لنک کے نیچے http authentication پر بھی ٹک کر کے اپنا بلاگر ای میل اور پاسورڈ انٹر کیجیے۔
آر ایس ایس فیڈ داخل کرنے کے بعد آپ کے ویب سائٹ کی تمام آرٹیکلز فیس بک کے پروڈکشن آرٹیکلز میں ظاہر ہوجائیں گے۔
اس کے بعد سٹائل میں جا کر اپنا تھیم منتخب کیجیے یعنی اگر اپنے آرٹیکلز کے فونٹ وغیرہ کو چھوٹا بڑا کرنا چاہتے ہیں تو اپنا اسٹائل اسی حساب سے بنائیے یا ڈیفالٹ تھیم سلیکٹ کیجیے۔ Default تھیم میں ایک لوگو ضرور اپلوڈ کیجیے۔ اسٹائل کے بعد آڈینس نیٹ ورک کی سیٹنگز بھی ترتیب دیجیے۔ آڈینس نیٹ ورک سے آپ اپنے آرٹیکلز پر اشتہارات ڈالتے ہیں۔ آڈینس نیٹ ورک بھی گوگل ایڈسینس کی طرح ہوتا ہے جس کا کوڈ آپ کو اپنی آرٹیکلز پر لگانا پڑتا ہے اور آپ کا بیلنس وغیرہ بھی آڈینس نیٹ ورک میں ظاہر ہوتا ہے۔ آڈینس نیٹ ورک میں پے آؤٹ پر کلک کر کے اپنے بینک اکاؤنٹ کی معلومات بھی درج کیجیے۔

اب اپنے انڈرائڈ یا آئی فون سے Pages Manager ایپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کیجیے اور وہاں لاگ ان ہونے کے بعد انسٹنٹ آرٹیککز پر کلک کیجیے۔ یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آپ کے آرٹیکل کس طرح نظر آ رہے ہیں۔

اگر آرٹیکل کے بجائے صرف تصاویر نظر آ رہی ہیں یا ہر آرٹیکل پر ایک ہی تصویر نظر آ رہا ہے تو دو بارہ پروڈکشن آرٹیکلز میں جا کر ان کو ایڈٹ کریں۔ اس کے علاوہ آرٹیکل میں آڈینس نیٹ ورک کا کوڈ ضرور ڈالیں تاکہ آرٹیکل میں اشتہارات نظر آئیں۔ یا پھر آٹو میٹک ایڈ placenment کا آپشن استعمال کریں۔
جب پیجز منیجر میں آپ کا آرٹیکل مکمل اور صحیح نظر آنے لگے تو انسٹنٹ آرٹیکلز میں جا کر اپنی درخواست بھیج دیجیے یعنی Submit for review پر کلک کر دیجیے۔ تقریبا دو دن کے اندر آپ کو فیس بک کی طرف سے پیغام آئے گا کہ آپ کی آرٹیکلز اپروو ہوچکے ہیں یا نہیں۔
اگر اپروو ہوجائے تو پروڈکشن آرٹیکلز میں جا کر تمام آرٹیکلز کو مارک کر کے پبلش کر دیجیے۔
اس کے بعد اپنی ویب سائٹ سے اپنے مطلوبہ آرٹیکل کا لنک پیج پر شیئر کر دیجیے۔
اب جو بھی ممبر اپنے انڈرائڈ یا آئی فون موبائل سے فیس بک ایپلیکیشن کے ذریعے اس لنک پر کلک کرے گا وہ لنک جلدی سے اوپن ہوجائے گا اور  آپ کی آرٹیکلز پر فیس بک کے اشتہارات بھی چلیں گے جن سے آپ آمدنی حاصل کر پائیں گے۔
فیس بک کلک کے بجائے امپریشن کے پیسے دیتا ہے جتنے لوگ آپ کے آرٹیکلز کو دیکھیں گے اسی حساب سے آپ آمدنی حاصل کریں گے۔ ایک دفعہ آپ کے اکاؤنٹ کی رقم سو ڈالر تک پہنچ جائے تو آپ  رقم وصول کر پائیں گے۔

ضروری نوٹ

 انسٹینٹ آرٹیکلز کی سیٹنگز آپ کو اپنے فیس بک پیج کے Publishing Tools میں ملیں گے۔
اگر آپ کی درخواست قبول نہ ہو تو گھبرانے کی کوئی بات نہیں آپ اپنے Errors کو Fix کرنے کے بعد دوبارہ اپلائی کر سکتے ہیں۔
چونکہ فیس بک اور دیگر ویب سائٹس کی کوڈنگ میں بہت فرق ہے اس لیے کافی سارے Errors آئیں گے ۔ ان Errors کو درست کرنے کے لیے ایک الگ مضمون لکھنے کا ارادہ ہے۔ بہت جلد آپ کی خدمت میں پیش کروں گا۔
مزید معلومات کے لیے آپ اس ناچیز کو فیس بک پہ فالو کر سکتے ہیں۔

فیس بک لنک یہ رہا۔
Raheem Baloch

دوستوں سے شیئر کریں

6 تبصرے

  1. ahmad faruq نے کہا:

    Waitng For your nest article keeep it up Or next main previous yani is article ka link bi add kar dana

  2. SultanOf Cricket نے کہا:

    Can I get Instant Article on my this site Sultan of Cricket. I have a Page but i don't have much likes

  3. Raja Atif نے کہا:

    Great Raheem Baloch Sahb
    Approve hony key kitny chances hoty hn?
    kia waqai copyrights ka koi issue nahen hota???
    how thats possible

تبصرہ کریں