بھینس پر ایک مزاحیہ مضمون

بھینس

 بھینس مزاحیہ مضمون

اوج ادب کے انعامی مقابلے کے لیے لکھا گیا ایک مزاحیہ مضمون

 

 بھینس ایک درویش جانور ہے۔
قدرت نے اس کے سر پر دو سینگوں کی صورت میں ایک تاج بنایا ہے مگر اس نے کبھی اس پر غرور نہیں کیا ۔ ویسے بھی جمہوریت کے دور میں تاج  کی کیا اہمیت ہے ؟
بھینس کی صورت بالکل شاعروں کی سی ہوتی ہے ، چہرے پہ ہر وقت سنجیدگی چھائی رہتی ہے۔
دنیا کی بے ثباتی پر غور کرتی ہوئی شرابی آنکھیں جیسے بعض عاشقوں کی ہوتی ہیں،
گاڑی کے سائیڈ شیشوں کی طرح باہر کو نکلے ہوئے کان، جنہیں وہ ہلا ہلا کر پنکھے کے طور پر استعمال کرتی ہے۔
بھینس کی چار ٹانگیں ہوتی ہیں، جن سے ہتھوڑی کا کام لیا جا سکتا ہے یعنی کیل ٹھونکے اور نکالے جا سکتے ہیں۔
بھینس کی ایک دم بھی ہوتی ہے جس کا بظاہر کوئی مصرف نظر نہیں آتا شاید بقول یوسفی’’ دم محض اس لیے دی گئی ہے کہ دکھیا کے پاس دبا کر بھاگنے کے لیے کچھ تو ہو بھینس کی نسل کا ہمیں نہیں پتہ لیکن رنگ سے ظاہر ہے کہ افریقی ہے۔
بھینس کے بچے کو کٹا کہتے ہیں جو ہر وقت کچھ نہ کچھ چباتا رہتا ہے شاید جدید دور کے بچوں کی طرح اسے گٹگا کھانے کی عادت ہوتی ہے۔
جس زمانے میں ہمارے ہاں بھینس پالنے کی وباء پھیلی، اس وقت ہماری عمر بکریاں چرانے کی تھی۔
اس وقت کوئی شخص بھینس پالے بغیر شریف اور مہذب نہیں کہلا سکتا تھا، اس لیے ابا حضور بھی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنے کے لیے بھینس پالنے پر مجبور ہوئے۔
شہر کے بڑے بڑے بھینس دانوں سے مشورہ کر کے بالآخر ایک بھینس لے آئے ۔
جس دن بھینس کی تقریب رونمائی تھی، محلے کے تمام بچے اور ان کی مائیں ہمارے گھر جمع تھیں جیسے کسی نئی نویلی دلہن کو دیکھنے آئی ہوں۔
بچے عجیب و غریب سوالات پوچھ رہے تھے۔
مثلاً اس کے سر پر سینگ کیوں ہیں ؟
‘‘کیونکہ یہ گدھا نہیں ہے’’ دوسرا بچہ جواب دیتا۔
چھوٹے بھائی نے سوار ہونے کی خواہش ظاہر کی مگر انہیں منع کیا گیا۔
 اس موقع پر داد جان ( جو بصارت سے محروم تھے ) نے بڑی بصیرت سے ریوڑیاں بانٹیں یعنی زیادہ تر اپنوں کو ترجیح دی۔

بھائیوں میں سب سے بڑا ہونے کے بناء پر ہمیں بھینس کا نگران اعلی منتخب کیا گیا۔
یہ اعزاز ملنے کے بعد ہماری حیثیت اندھوں میں کانا راجا کی سی ہوگئی۔
چھوٹے بھائی کو ہمارے سابقہ عہدے ( بکریاں چرانے ) پر تعینات کیا گیا۔
اس رات سب گھوڑے بیچ کر سو گئے لیکن ہمیں خوشی کے مارے نیند نہیں آئی۔
کہاں بھینس اور کہاں بکری کی چھوٹی ذات۔
کہاں راجہ بھوج، کہاں گنگو تیلی۔
بھینس کی زنجیر کی چھن چھن ہمارے لیے کسی حسینہ کے پایل کی جھنکار سے زیادہ محبوب تھی۔
ہم روزانہ باقاعدگی سے کھیتوں سے چارہ کاٹ کر لاتے اور مشین سے کتر کر بھوسے میں ملا کر بھینس کو کھلاتے۔ پھر بالٹیاں بھر بھر کر اسے پانی پلاتے ، رات کو مچھروں سے بچانے کے لیے اسے آگ کی دھونی دیتے۔
گھر میں ہماری خوب تعریفیں ہوتیں۔ باقی بہن بھائی لسی سے روٹی کھاتے لیکن ہماری تواضع مکھن سے کی جاتی یعنی مکھن لگایا بھی جاتا اور کھلایا بھی۔
بھینس کی ایک ٹانگ ہمارے نام کی گئی۔ (ہمارے ہاں جانوروں کو ان کی ٹانگوں پر تقسیم کیا جاتا ہے)
یعنی ہم بھینس کے ایک چوتھائی حصے کے مالک بن گئے۔
ایک سال بعد بھینس نے ایک پیارا سا کٹا جنا جسے آہستہ آہستہ ہمارے لاڈ پیار نے بگاڑ دیا۔ وہ جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا، آوارہ ہوتا گیا۔
اب وہ اپنی ماں کے ساتھ چرنے کے بجائے دوسرے جانوروں کے ساتھ جاتا اور شام کو لوٹ آتا۔
ایک شام وہ لوٹ کر نہیں آیا۔ ہم رات گئے تک اسے آس پاس کے گاؤں اور باڑوں میں تلاش کرتے رہے۔
صبح خبر ملی کہ کل رات اسے ریل گاڑی نے کچل کر ہلاک دیا۔
یہ سن گھر میں کہرام مچ گیا۔ بچوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا ، ہمارے ساتھ محلے کے دوسرے بچے بھی رونے لگے ۔
بھینس نے رات سے کچھ نہیں کھایا تھا۔
دادا جان نے ہمیں یہ کہہ کر تسلی دی کہ بھینس کا کٹا شہید ہوگیا ہے اور شہید مرتے نہیں، زندہ و جاوید ہوتے ہیں، ان کا ماتم نہیں کرتے۔ ہم چپ ہوگئے لیکن اس کی ماں کو کیسے سمجھاتے کہ آپ کا بیٹا مرا نہیں، شہید ہوگیا ہے

تین دن کی فاقہ کشی کے بعد بے چاری بھینس بھی مرنے کے قریب ہوگئی تو دادا جان اسے کند چھری سے حلال کر کے اس کی کھال بیچ کر ریوڑیاں خرید لائے۔
اس واقعے کے چند ماہ بعد ہم نے پھر بھینس پالنے کی فرمائش کی تو والدین نے کمال شفقت سے ایک بھینس ہمارے پلے باندھ دیی یعنی ہماری شادی کرا دی۔
؏ دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
چونکہ سرائیکی کہاوت کے مطابق بھینس، بھینس کی بہن ہوتی ہے، اس لیے اُس بھینس کی خاطر آج ہم

؏ ہو کر اسیر دابتے ہیں راہزن کے پاؤں۔

تحریر : رحیم بلوچ

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں