موسم گرما پر ایک مزاحیہ مضمون

موسم گرما

موسم گرما

اوج ادب کے انعامی مقابلے کے لیے لکھا گیا مضمون

 

جب سورج سوا نیزے پہ آجائے , آدمی اپنے پسینے میں گرفتار ہو , ہر شخص نفسا نفسی کے عالم میں پریشان حال پھر رہا ہو تو یہ مناظر روز محشر کے نہیں موسم گرما کے بھی ہو سکتے ہیں۔
جب سورج بقول غالب " نگہ گرم سے اک آگ ٹپکتی ہے اسد " کا نقشہ پیش کر رہا ہو تو آدمی کی کیفیت بقول احمد فراز" ہر کوئی اپنے ہی سائے سے ہراساں جاناں " کی سی ہوجاتی ہے۔
شاید اس موسم میں جہنم کا کوئی دروازہ زمین کی طرف کھول دیا جاتا ہے تاکہ اہل زمیں اس کی حدت سے آشنا ہوں اور وقت آنے پر اس سے نبردآزما ہوسکیں۔
جیسے ہی موسم گرما کے آثار نظر آنے لگتے ہیں لوگ اس حقیقت کو جھٹلانے کیلئے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے کمبل اوڑھ کر سونے لگتے ہیں , چند راتیں کمروں میں پسینے سے لت پت گزارنے کے بعد جب سورج تو سورج چاند  کی تپش سے بھی بدن جلنے  لگتا ہے تو چاروناچار چارپائیاں صحن میں ڈال کر پاؤں چادر سے نکال کر آرام کرتے ہیں۔
بعض سرپھرے گرمی کا مقابلہ کرنے کیلئے سر منڈھاتے ہیں اس سے گرمی کی شدت میں کوئی فرق نہیں پڑتا البتہ اولے پڑنے کے امکانات ضرور نظر آتے ہیںکچھ لوگ سر نہیں منڈھاتے لیکن بال اتنے چھوٹے بناتے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے گویا کل ہی منڈھایا ہو۔
جب گرمی اپنی جوبن پہ آتی ہے غریب آدمی کے ڈھیلے ڈھالے کپڑے بھی پسینے کی وجہ سے کڑک کاٹن کے بن جاتے ہیں۔
کپڑوں پر بارش پہلے ہوتی ہے ان پر بادل بعد میں نظر آتے ہیں۔
جبین نیاز پسینوں سے زمین پر سجدے کے نشان چھوڑ کر بندگی کا حق ادا کرتی ہے۔
مومن ہو یا کافر اس موسم میں ہمہ وقت باوضو رہتا ہے۔
کافر نگاہیں ٹھنڈی ٹھنڈی زلفوں کی چھاؤں تلاش کرنے لگتی ہیں۔
مزدوروں کے سنہرے بدن بیلچہ اٹھائے دیہاڑی لگنے کی آس پر دھوپ میں کھڑے کھڑے کندن بن جاتے ہیں۔
جب اس موسم میں کوئی بہادر کسان تھکاوٹ سے چور کسی اجڑے درخت کے نام نہاد سائے میں سستانے کیلیے بیٹھتا ہے تو ہوائیں اسے لوریاں سنا کر بیٹھے بیٹھے سلا دیتی ہیں اور وہ ایسی پرسکون نیند سوتا ہے جس کی طرف حفیظ جالندھری نے اشارہ کیا ہے

کہاں چین یہ بادشاہ کو نصیب
کہ جس بے غمی سے ہیں سوتے غریب۔

دوسری طرف اس موسم میں پھلوں سے لدے درخت , جام کوثر کی مانند شربت , شراب طہور جیسی لسی اور حوروں سی نازک شہزادیاں نظر آئیں تو  لوگ غالب کی طرح خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں۔
موسم گرما نہروں میں ہاؤہو کے لیے بچوں, سمندر میں کھیلنے کے لیے بڑوں , دریاؤں میں مچھلیاں پکڑنے کے لیے مچھیروں اور تالاب میں نہانے کے لیے بھینسوں کا پسندیدہ موسم ہے۔
رات کو مچھروں کی سریلی آواز میں پکے راگوں میں نغمے سننے کا اس سے اچھا موسم اور کوئی نہیں۔
اس موسم میں سو عیب سہی لیکن ایک خوبی جو سو عیبوں پہ بھاری ہے وہ یہ کہ غریب کا چولہا صبح سویرے بغیر کسی پھونک پھانک کے جلتا ہے یہ اور بات کہ چولہے پہ رکھی ہانڈی میں کچھ نہیں ہوتا۔

تحریر رحیم بلوچ

یہ بھی پڑھیں
دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں