شفیق الرحمن مزید حماقتیں

شفیق الرحمان کی کتاب مزید حماقتیں سے اقتباس 

مزید حماقتیں

مزید حماقتیں از شفیق الرحمن

مزاح نگار شفیق الرحمان کی کتاب مزید حماقتیں سے اقتباس

ہم طرح طرح کی آزادیاں چاہتے ہیں۔ سوچنے کی آزادی ، جو جی میں آئے کر گزرنے کی آزادی۔
ایک آزادی نے اس خاکسار کو کمال ذلیل و خوار کیا۔
ہوا یوں کہ ایک روز میں نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ سربازار اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہا ہے۔ سب دیکھتے ہیں اور کوئی کچھ نہیں کہتا۔ مجھ سے رہا نہ گیا۔ قریب جا کر نصیحت شروع ہی کی تھی کہ نوجوان نے ترچھا وار کر کے ایک میرے پاؤں پر بھی جڑ دی۔ دو مہینے ہسپتال میں پڑا رہا۔
قصور نہ میرا تھا نہ اس کا۔۔۔۔۔۔ میں نے آزادئ گفتار دکھائی تھی اور اس نے آزادئ کردار۔

مزید حماقتیں از شفیق الرحمن

یہ بھی پڑھیں

جواب دیجئے