عینک شیطان اور موسم بہار از شفیق الرحمن مزید حماقتین

موسم بہار

 

شیطان

شفیق الرحمان کی مزاحیہ کردار شیطان

عینک لگا کر وہ ضد کرنے لگے کہ موٹرسائیکل چلائیں گے۔ چنانچہ مجھے پیچھے بیٹھنا پڑا۔
ابھی ہم کچھ دور نکلے ہوں گے وہ چلائے ہٹو۔ ہٹو۔ ایک طرف ہوجاؤ۔
موٹر سائیکل جھومی اور بڑے زور سے جھاڑیوں میں جا گھسی۔ ہم دونوں دور دور گرے۔
شیطان کپڑے جھاڑتے ہوئے اٹھے اور میری طرف دیکھ کر کہنے لگے ’’ قبلہ معاف کیجیے۔ میں نے ہارن نہیں دیا تھا۔ ویسے آپ کو فٹ پاتھ پہ چلنا چاہیے تھا۔‘‘
میں نے انہیں ڈانٹا کہ مجھ سے یہ سب کیا کہہ رہے ہو۔ اس سے کہو جس ٹکرائے ہو۔
ہم نے اس شخص کو بہت ڈھونڈا جس سے ٹکر ہوئی تھی۔ مگر سڑک خالی پڑی تھی۔ غالبا شیطان کسی غیر مادی چیز سے ٹکرا گئے تھے۔
جو دیکھتا ہوں تو ان کی عینک چہرے پر نہیں ہے۔
پوچھا تو معلوم ہوا کہ جیب میں رکھ لی تھی۔

 

مزید حماقتیں از شفیق الرحمان

یہ بھی پڑھیں
دوستوں سے شیئر کریں

1 تبصرہ

تبصرہ کریں