قدر ایاز : کرنل محمد خان کی ایک مزاحیہ مضمون

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز

قدر ایاز

 کرنل محمد خان کی ایک مزاحیہ مضمون

کرنیلوں کو رہنے کیلئے اکثر خاصے عمدہ ” سی ” کلاس بنگلے ملتے ہیں۔ مجھے خوش قسمتی سے ایک ایسا بنگلہ مل گیا جو اپنی کلاس میں بھی انتخاب تھا۔ یعنی مجھے کرنیلوں میں وہ امتیاز حاصل نہ تھا جو میرے بنگلے کو بنگلوں میں تھا۔ بوڑھے بیروں سے روایت تھی کہ ولسن روڈ کا یہ لاشریک ولسن صاحب نے خاص طور پر اپنے لیے بنوایا تھا یعنی موصوف نے اسکی تعمیر میں چھاؤنی کے کچھ دوسرے بنگلوں کا خون بھی شامل کر دیا تھا۔
یہ بنگلہ کم و بیش دو ایکڑ قطعہ زمین پر واقع تھا یعنی قسام ازل ہی نے اسے خاصا شاہانہ طول وعرض بخشا تھا۔ عمارت کے سامنے وسیع چمن تھا۔ جس کے حاشیے پر مہندی کی گہری سبز باڑ کے سر پر نیزوں، اونچے سرو اور سفیدے کے پیڑ لہلہاتے تھے۔ چمن میں جابجا سرخ و سپید گلاب کے پودے جن کے پھولوں میں گمنام مالیوں اور میموں کی پرورش اور پیار کا رنگ جھلکتا تھا۔ بنگلے کے دونوں پہلو گزار تھے اور پائیں باغ تو نہایت ہی دلربا سی سیرگاہ تھی۔ جسکی وسعت میں ہمارے فرنگی پیش رو اپنی میموں کی کمر میں بازو ڈالے گل گشت کیا کرتے تھے۔ عمارت کے اندر بیٹھنے، کھانے اور مطالعے کے علاوہ چار سونے کے کمرے تھے اور وہ خواب گاہ کیساتھ احتراماً ڈریسنگ روم اور غسل خانہ بھی ملحق کر دیا گیا تھا اگرچہ ان چھوٹے کمروں کا ایک اپنا اندازِ تکبرانہ بھی تھا کہ ان میں دوسری اشیاء کے علاوہ قدآدم آئینے اور بجلی کے سرکاری حمام بھی لگے ہوئے تھے جو ہر غسل خانے کا نصیب نہیں۔
الغرض ہمارے بنگلے کا مزاج ہر زاویے سے امیرانہ تھا۔ مقابلے میں ہمارے اثاثے کے تیور ہرچند کہ خاکسارانہ تھے تاہم اپنے مکان کی شان کے پیشِ نظر ہم نے جوں توں کر کے ہر کمرے کیلئے ایک قالین یا دری پیدا کر لی اگرچہ اس کارِ خیر کا بیشتر اجر مقامی کباڑیے کو ملا۔ علاوہ ازیں مناسب فرنیچر بھی حاصل کر لیا۔ کچھ اپنا، کچھ ایم ای ایس کا کھانے کا کمرے میں کرائے کا ریفریجریٹر بھی رکھ دیا جو خریدے ہوئے ریفریجریٹروں سے کسی طرح بھی مختلف نہ تھا۔ سوائے اسکے کہ ضعف بیری سے اس کا ذوق برودت کسی قدر سست ہو گیا تھا۔ بہرحال یہ ہمارے ریفریجریٹر کا اندرونی معاملہ تھا۔

ہمارے گول کمرے میں لیفٹینی کے زمانے کا ریڈیو تو تھا ہی جو نئے ریشمی غلاف میں اچھا خاصا کم عمر نظر آتا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہر میں ٹیلیوژن آیا تو ہم ایک ٹیلیویژن سیٹ بھی لے آئے جسے دیکھ کر کوئی نہ کہہ سکتا تھا کہ قسطوں پر خریدا گیا ہے۔ الغرض ہمیں نہیں تو ہمارے ملنے والوں کو ہماری فارغ البالی کا رشک اور احساس ہونا تھا بلکہ ہمارے بچوں نے بھی اس مصنوعی فارغ البالی کی مرصع جالی کے پیچھے کبھی نہ جھانکا تھا اور جالی کے فرنٹ ویو پر ناز کرنے میں حق بجاب تھے اور کرتے تھے۔

سلیم میاں جو ابھی میٹرک کے امتحان سے فارغ ہوئے تھے، دوسرے کرنیل زادوں کیطرح اور انکے ہمراہ دن بھر بے فکری سے بیڈمنٹن کھیلتے اور سرشام ہی دوستوں کیساتھ ٹیلیوژن کے سامنے جم جاتے۔ کیا مجال جو کوئی غیر اس مشاہدے میں مخل یا شریک ہو۔ سوائے اسکے کہ ہمارا بوڑھا ملازم علی بخش انکی تواضع کیلئے کمرے میں خاموشی سے داخل اور خارج ہوتا رہتا۔ علی بخش کو یوں بھی سلیم سے اُنس تھا کہ سلیم اسی کے ہاتھوں پلا تھا۔ ایک دن میں اپنے مطالعے کے کمرے میں بیٹھا تھا کہ علی بخش خلاف معمول رونی صورت بنائے داخل ہوا۔ وجہ گردانی پوچھی تو بولا” سلیم صاحب نے ڈانٹا ہے۔ کہتے ہیں بدتمیز ہو، گنوار ہو، دیہاتی ہو۔ میں نے ارشادات کی شانِ نزول پوچھی تو بولا۔” کل سلیم میاں کی غیر حاضری میں انکے ایک نئے دوست امجد صاحب آئے اور باہر برآمدے ہی میں آرام سے کرسی پر بیٹھ گئے۔ میں نے انکے کہنے پر انہیں ٹھنڈے پانی کا گلاس پیش کیا۔ کافی دیر سلیم کا انتظار کرتے رہے لیکن آخر مایوس ہو کر چل دیے۔ بعد میں سلیم صاحب کو بتایا تو برس پڑے۔ کہنے لگے انہیں گول کمرے میں صوفے پر کیوں نہ بٹھایا؟ ریفریجریٹر سے نکال کر کوکا کولا کیوں نہ پیش کیا؟ اب امجد سمجھے گا کہ ان لوگوں کو تواضع کا سلیقہ نہیں، دیہاتی ہیں، جنگلی ہیں اور پھر جو منہ میں آیا کہ دیا۔ ”
علی بخش کی داستان ختم ہوئی تو سلیم میاں بھی آ گئے۔ علی بخش کے چہرے پر شکایت لکھی ہوئی دیکھی تو اپنے دل پر لکھی ہوئی شکایت بیان کرنے لگے۔ ہم نے سکون سے یہ قصہ بھی سنا۔ طرفین کے بیانوں سے واضح تھا کہ تنازع بہت خفیف ہے اور یہ کہ اس دوطرفہ طوفان کا حدود اربعہ ایک چائے کی پیالی میں سما سکتا ہے۔ علی بخش اس لیے ناخوش تھا کہ اسے دیہاتی کہا گیا تھا اور سلیم میاں اس بات پربر ہم تھے کہ علی بخش کی غلطی کیوجہ سے امجد نے انہیں دیہاتی سمجھا ہو گا۔
ہمارے نزدیک دیہاتی ہونا یا سمجھا جانا ایسی قباحت نہ تھی۔ چنانچہ ہم ہنسی ہنسی میں دیہاتی پن کے فضائل بیان کرنا شروع کیے اور اس بلاغت کیساتھ کہ سلیم اور علی بخش دونوں مسکرا دیے اور باہم راضی ہو گئے۔ باتوں باتوں میں ہم انہیں ایک دیہاتی کا قصہ سنانے لگے۔

ایک تھا دیہاتی لڑکا جو اپنے گاؤں سے پرائمری پاس کرنے کے بعد ایک شہر کے ہائی اسکول میں جا داخل ہوا۔ اپنے گاؤں میں تو وہ چھوٹا موٹا چوہدری یا چوہدری کا بیٹا تھا لیکن تھا ٹھیٹھ دیہاتی۔ پہلے دن کلاس میں گیا، تو ننگے سر پر صافہ باندھ رکھا تھا۔ بدن پر کرتا اور تہمد اور پاؤں میں پوٹھوہاری جوتا۔ ماسٹر جی نے شلوار پہننے کو کہا تو دھیمی آواز میں بولا او خدایا شلوار تو لڑکیاں پہنتی ہیں۔
سلیم میاں یہ سن کر کھلکھلا اٹھے اور بولے۔
سچ مچ پکا پینڈو تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اباجان وہ پتلون نہیں پہنتا تھا؟
میں نے کہا بیٹا یہ آج سے چالیس برس پہلے کی بات ہے۔ ان دونوں اگر ماسٹر خود بھی پتلون پہن لیتے تو شہر کے کتے انہیں ولایت پہنچا آتے۔

سلیم میری بات پوری طرح سمجھے بغیر ہنس دیے۔ بوڑھا علی بخش پوری طرح سمجھ کر مسکرایا۔ ہم نے کہانی جاری رکھی۔ ان دنوں پتلون پوش خال ہی نظر آتے تھے مثلاً سارے اسکول میں ایک سیکنڈ ماسٹر صاحب تھے جو سوٹ پہنتے تھے۔ لڑکے انہیں جنٹلمین کہا کرتے تھے۔ لاہور میں تعلیم پائی تھی۔ وہیں کے رہنے والے تھے۔ ہر فقرے میں دو تین لفظ انگریزی کے بولتے تھے اور لڑکے رشک سے مرنے لگتے تھے۔
آدمی خوش مزاج تھے۔ ہاکی کے کھلاڑی تھے اور شکار کے شوقین۔ ایک دفعہ دسمبر میں شکار کرتے کرتے اسی دیہاتی لڑکے کے گاؤں جا نکلے۔ رات ہو رہی تھی۔ آپ نے اسی کے ہاں ٹھہرنے کا فیصلہ کیا اور انکے دروازے پر جا دستک دی۔ لڑکے نے اچانک ماسٹر جی کو گھر کے دروازے پر دیکھا تو ایک لمحے کیلئے چکرا سا گیا۔
ماسٹر جی نے کئی دفعہ مذاق میں کہا تو تھا کہ ہم ایک دن چھوٹے چوہدری کے مہمان بنیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماسٹر جی اسے چھوٹا چوہدری بھی مذاقاً ہی کہتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن چوہدری کو توقع تھی کہ ماسٹر جی مذاق کو مذاق کی حد تک ہی رکھیں گے مگر آج وہ حد پھلانگ کر اس کے روبرو آ کھڑے ہوئے تو چھوٹے چوہدری کو میزبانی کے بغیر چارہ نہ تھا۔
یہ نہیں کہ چھوٹا چوہدری یا اسکے گھر والے مہمان نواز نہ تھے۔ انہیں صرف اس بات کا یقین نہیں تھا کہ انکی مہمان نوازی ماسٹر جی کو موافق بھی آئیگی یا نہیں۔ بہرحال انہوں نے اپنی تواضع کی ابتدا کی۔

چھوٹا چوہدری اور اسکا بڑا بھائی ماسٹر جی کو بصد تعظیم اپنی چوپال میں لے گئے۔ چوپال کے دو حصے تھے۔ ایک میں گھوڑی بندھی تھی۔ دوسرے کے عین مرکز میں آتشدان تھا جسکی آگ کے شعلے اور دھواں بیک وقت بلند ہو کر چوپال میں روشنی اور تاریکی پھیلا رہا تھا۔ آتشدان کے اردگرد خشک گھاس کا نرم اور گرم فرش تھا جسے مقامی بولی میں ستھر کہتے تھے۔ گاؤں کے بیس بائیس آدمی ستھر پر بیٹھے حقہ پی رہے تھے۔ ماسٹر جی داخل ہوئے تو سب کھڑے ہو گئے۔ ماسٹر جی کو ” آؤ جی خیر نال ” کہا۔ ہر ایک نے ان سے مصافحہ کیا۔ ہر ایک نے انکے بال بچوں کی خیریت پوچھی۔

ماسٹر جی نے چھوٹتے ہی ذرا شرما کر کہہ دیا کہ ابھی بال بچوں کی نوبت نہیں آئی لیکن ان نامولود برخورداروں کی خیریت بہرحال ہر ملاقاتی نے پوچھی کہ یہ انکی تواضع کی ترکیب تھی چونکہ ماسٹر جی نے پتلون پہن رکھی تھی لہذا فرش پر بٹھانے کی بجائے انکیلئے رنگیلی چارپائی بچھا دی۔
سلیم حیران ہو کر بولے، اباجان ان میں اتنی عقل نہیں تھی کہ انکو کرسی دے دیتے؟
میں نے کہا، بیٹا عقل تو تھی، کرسی نہ تھی۔
سلیم نے فیصلہ کن انداز میں کہا” اگر کرسی نہ تھی تو چوہدری کس بات کے تھے؟
میں نے کہا ” ایک تو وہ چوہدری ذرا چھوٹی قسم کے تھے، دوسرے گاؤں میں چوہدری پن کی نمائش کرسیوں سے نہیں کی جاتی۔ ” سلیم دیہاتیوں کی کوئی غلطی یا کمزوری پکڑنے پر تلا ہوا تھا۔ بولا ” مگر کوئی گول کمرے میں بھی گھوڑی باندھتا ہے؟ ”میں نے سلیم کو سمجھایا ” اگر گھوڑی کیلئے کوئی علیحدہ مستطیل کمرہ نہ ہو تو پھر وہ گول کمرے ہی میں رہتی ہے۔ علاوہ ازیں گاؤں کے کمرے اتنے گول بھی نہیں ہوتے۔
سلیم طنز کو پا گیا اور بولا ” گول کمرہ تو ویسے نام پڑ گیا تھا۔ ہمارا اپنا گول کمرہ بھی تو چوکور ہے مگر بات یہ ہے کہ ڈرائنگ روم میں گھوڑے گدھے کا کیا کام؟ میں نے ہنس کر کہا۔
” بیٹا، دیہاتی لوگ اتنے مہذب نہیں ہوتے کہ ڈرائنگ روم میں کتے لے آئیں۔ وہ گھوڑوں ہی سے گزارہ کر لیتے ہیں۔ علی بخش مسکرایا۔ سلیم کسی قدر چکرایا لیکن کہانی بہرحال اشتیاق سے سن رہا تھا۔ بولا پھر کیا ہوا۔

پھر گاؤں کا نائی ماسٹر جی کے پاؤں دابنے لگا۔ ایک نوکر دوڑ کر گیا کہ ماسٹر جی کے تازہ مکئی کے بھٹے بھنوا کر لائے۔

سلیم جھٹ بول اٹھے ” ابا جان مکئی کے بھٹے تو پکنک پر کھائے جاتے ہیں۔ گھر میں تو چائے پلائی جاتی ہے وہ لوگ اتنی بات بھی نہ جانتے تھے۔
میں نے کہا ” گھر میں پکنک منانے کی غلطی دیہاتیوں سے اکثر ہو جاتی ہے۔ بہرحال ماسٹر جی نے خود انکی اصلاح کر دی اور بھٹے کا نام سن کر کہنے لگی۔ یہ تکلف نہ کریں۔ ہو سکے تو ایک پیالی چائے پلا دیں۔ ذرا سردی بھی ہے۔
سلیم نے فوری تائید کی ۔ بات بھی ٹھیک تھی۔ وقت جو چائے کا تھا۔ میں نے کہا۔ بات ٹھیک تھی بشرطیکہ انکے گھر میں چائے بھی ہوتی۔
اس مقام پر سلیم میاں تیزی سے سوال کرنے لگے اور ہماری کہانی نے مکالمے کی شکل اختیار کر لی۔ چنانچہ فوراً بولے۔
” تو کیا انکے گھر میں چائے ختم ہو گئی تھی؟
نہیں بیٹا! کبھی شروع نہیں ہوئی تھی اور دنوں چائے ابھی دیہات میں نہیں پہنچی تھی۔
تو کیا انہوں نے مہمان سے صاف کہہ دیا کہ ہمارے پاس چائے نہیں ہے؟ کتنی شرم کی بات ہے۔
میں نے کہا بھئی میرے خیال میں پہلے تو گھر میں چائے کا نہ ہونا شرم کی بات نہیں۔ دوسرے انہوں نے مہمان کی خاطر چائے کیلئے دوڑ دھوپ شروع کر دی اور آخر مقامی حکیم کے گھر سے چائے مل بھی گئی۔ ان دنوں چائے صرف مریضوں کو پلائی جاتی تھی۔ سلیم نے لمبا سانس لیا اور بولا” چلو شکر ہے چائے تو ملی” میں نے کہا۔ ہاں چائے تو مل گئی لیکن پھر ایک عجیب سوال پیدا ہو گیا۔
یہی نا کہ چائے کیساتھ کھانے کو کیا دیا جائے؟ وہاں تو لے دے کے مکئی کے بھٹے ہی تھے۔
” نہیں بیٹے یہ بات نہ تھی۔ سوال ذرا بنیادی نوعیت کا تھا اور وہ یہ کہ چائے بنائی کیسے جائے۔

سلیم نیم وحشت کے عالم میں میرا منہ تکنے لگا اور بولا۔ ” ابا جان چائے تو ہمارا جمعدار بھی بنا سکتا ہے اور دن بھر پیتا رہتا ہے ۔ کیا وہ اتنے ہی اناڑی تھے؟

میں نے کہا۔ بھئی وہاں چائے پینے پلانے کا ہنر پہنچا ہی نہ تھا۔ وہاں لسی کا رواج تھا اور اس ہنر میں وہ یکتا تھے۔
تو کیا ماسٹر جی کو آخر لسی پلا دی؟
نہیں پلائی تو چائے ہی تھی لیکن وہ لسی کامیاب چائے نہ تھی۔
یعنی چائے کی لسی بنا دی؟
ہاں بیٹا کچھ ایسا ہی ذائقہ ہو گا۔ چھوٹے چوہدری کا کہنا ہے کہ ماسٹر جی نے ایک گھونٹ پیا اور پیالی رکھ دی۔
تو چوہدری شرم سے غرق نہ ہو گیا؟
نہیں ایسا حادثہ تو نہ ہوا البتہ چوہدری کو اس بات کا رنج بہت ہوا کہ ماسٹر جی کر فرمائش پوری نہ کی جاسکی۔ بہرحال انہوں نے کچھ تلافی رات کے کھانے پر مرغ کے سالن سے کر دی۔
سلیم نے کسی قدر شرارتاً کہا۔ اباجان سالن کھانے کیبعد ماسٹر جی کی صحت پر کوئی فوری اثر تو نہ پڑا؟
میں نے کہا ہاں بڑا صحت افزاء اثر پڑا۔ ماسٹر جی نے پیٹ بھر کر کھایا اور انکے چہرے پر رونق آ گئی۔
پھر؟ پھر ماسٹر جی کیلئے بستر لگا دیا گیا۔ چوہدری نے انکے لیے اکلوتی ریشمی رضائی نکلوائی اور سفید جھالر والا تکیہ بھی جسکے غلاف پر بارہ سنگے کی تصویر کڑھی ہوئی تھی۔ بیشک تکیے میں لچک کی نسبت اکڑ زیادہ تھی اور ماسٹر جی کو اسے سر کے نیچے فٹ کرنے میں کچھ دقت بھی پیش آئی لیکن آرام سے سو گئے۔ صرف ایک مرتبہ آدھی رات کے قریب گھوڑی کے کھانسنے سے ذرا انگریزی میں بڑبڑا کر جاگ اٹھے لیکن برابر ہی چوہدری اور اسکا نوکر سو رہے تھے۔ انہوں نے گھوڑی کو چارہ اور ماسٹر جی دلاسا دیا اور پھر صبح تک کوئی قابل ذکر واقعہ نہ ہوا۔

ابا جان صبح ہوتے ہی ماسٹر جی تو بھاگ نکلے ہونگے؟
نہیں تو۔ وہ اطمینان سے جاگے، پہلے ہرے بھرے کھیتوں کی سیر کرائی گئی۔ پھر انہوں نے غسل کیا۔
غسل بھی بیٹھک ہی میں کیا ہو گا؟
نہیں بیٹا، بیٹھک میں نہیں، مسجد میں ۔

مسجد میں؟ سلیم نے حیرت سے کہا، خانہ خدا کو غسل خانہ بنا دیا؟ بھئی گاؤں میں اکثر لوگ مسجد کے غسل خانوں ہی میں نہاتے ہیں اور بظاہر اللہ تعالیٰ کو اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں۔ دیہاتی گھروں میں ہر کام کیلئے علیحدہ خانے کم ہی ہوتے ہیں۔
سلیم کان پر ہاتھ رکھ کر بولے۔ خدا اس دیہاتی زندگی سے بچائے۔ اباجان اچھا ہوا آپ فوج میں آ گئے ورنہ ہم بھی چھوٹے چوہدری کیطرح مویشیوں کیساتھ سو رہے ہوتے اور مسجد میں جا کر نہاتے لیکن چھوٹا چوہدری اس زندگی سے بھی ناخوش نہ تھا۔ اباجان اس نے کبھی کوئی بنگلہ اندر سے دیکھا تھا؟ میرا خیال ہے نہیں۔ تو پھر وہ ناخوش کس بات سے ہوتا۔
انگریزی کی کہاوت ہے کہ لاعلمی بھی نعمت ہے۔ میٹرک کا امتحان دینے کیلئے سلیم میاں نے یہ کہاوتیں تازہ تازہ یاد کی تھیں۔ ہم نے اثبات میں سرہلایا اور کہا۔ کہاوت تو تمہاری ٹھیک ہی کہتی ہے۔ مگر ابا جان بیچارے ماسٹر جی کیا بنا؟
بنا یہ کہ ماسٹر جی نے غسل کیبعد ناشتہ کیا اور پھر رخصت ہو گئے۔ ناشتہ؟ چوہدری کے گھر کا رن فلیک تھے؟ کارن فلیک تو نہ تھے البتہ جو کچھ دال دلیا تھا۔ غریب نے حاضر کر دیا۔ ابا جان اسکے بعد چھوٹا چوہدری سکول میں منہ دکھانے کے قابل نہ رہا ہو گا؟ نہیں بیٹا اسکول تو وہ اسی منہ کیساتھ گیا اور شہری لڑکوں نے اس سے کچھ مذاق بھی کیا مگر ہو مگن رہا۔ چوہدری کی جگہ میں ہوتا تو شرم سے مرجاتا۔ مگر چوہدری تو جیتا رہا بلکہ خاموشی سے پڑھتا بھی رہا اور آخر کار میٹرک پاس کر کے لاہور کالج میں چلا گیا۔ وہ کالج میں بھی گیا؟ کیا انکے پاس اتنے پیسے تھے؟ پیسے تو کم ہی تھے مگر انہوں نے تھوڑی سی زمین بیچی۔
مگر تھوڑی سی زمین سے کیا بنتا ہے؟ کالج میں رہ کر کھانا ہوتا ہے۔ کچھ پہننا ہوتا ہے۔ کیا وہ مکئی کے بھٹے کھاتا تھا؟ کیا وہ مکئی کے بھٹے کھاتا تھا؟ کیا وہ تہمد باندھتا تھا؟
بس گزارہ کر لیتا تھا۔ گزارہ ہی کرتا رہا یا کچھ پڑھ بھی گیا؟ہاں کچھ پڑھ بھی گیا۔ پھر؟
پھر جیسا ان لوگوں کا دستور تھا فوج میں بھرتی ہو گیا۔
پھر تو آپ اسے جانتے ہونگے۔ کیا وہ آپکے ماتحت کام کرتا ہے۔
ماتحت تو نہیں مگر جانتا ضرور ہوں۔ تو اباجان اس کو بلائیے نا کبھی۔ ہم چھوٹے چوہدری کو دیکھیں گے۔
دیکھیں گے؟ وہ کوئی تماشا تو نہیں۔ سلیم میاں

ابا جان بلائیے نا چھوٹے چوہدری کو۔ ہم بالکل نہیں ہنسیں گے۔
سچ؟
بالکل سچ۔
تو پھر آؤ چھوٹے چوہدری سے مل لو۔ اور یہ کہہ کر میں نے سلیم کیطرف بازو پھیلا دیے۔ سلیم ایک لمحے کیلئے مبہوت کھڑا مجھے دیکھتا رہا پھر یہ کہہ کر مجھ سے لپٹ گیا۔
ابا جان آپ؟
سلیم اور علی بخش دونوں کی آنکھیں پرنم تھیں اور دونوں کی اانکھوں میں ایک دیہاتی کیلئے محبت کی چمک تھی۔ ایاز اپنے اصل لباس میں بھی ایسا معیوب نظر نہ آتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں
دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں