خود پر یقین یا self belief کو سمجھنے کیلئے آپ دنیا کے کچھ کامیاب لوگوں کو سمجھیں. کھیل ایک ایسا شعبہ ہے جسے اکثریت سمجھ لیتی ہے. آپ کھیل میں تیراکی دیکھ لیں. کیا آپ نے کبھی آدھا گھنٹہ لگاتار تیراکی کی ہے.؟ اگر آپ اس تجربہ سے گزرے ہوں تو آپ کو معلوم ہوگا تیراکی کو کیوں مکمل ایکسر سائز کہا جاتا ہے. یہ ایک بہت مشقت کا کام ہے.

مائیکل فیلپ کے پاس تیراکی کے 28 تمغے ہیں. آپ سکواش میں دیکھیں جہانگیر خان کے پاس ساڑھے پانچ سال ناقابل شکست رہنے کا ریکارڈ ہے. سکواش اور تیراکی بہت زیادہ فٹنس کی گیمز ہیں. مائیکل فیلپ روزانہ چھ گھنٹے ہفتے کے چھ دن سخت تربیت سے گزرتا تھا. جہانگیر خان دو ڈھائی گھنٹے کا میچ جیت کر بھی کچھ دیر بعد جم میں ہوتا.

آپ کیا سمجھتے ہیں کیا یہ میڈلز کیلئے انتہائی سخت تربیت سے گزرتے تھے؟ آپ ان کی جگہ خود کو تصور کریں. اتنی محنت چلیں ایک دو تین میڈلز کیلئے کوئی کرلے گا. لیکن یہ سالوں تک جیت کا تسلسل کیسے ممکن ہوا.؟ ایک عام کھلاڑی اور ایک عظیم کھلاڑی میں فرق اس self belief کا ہے. یہ عظیم کھلاڑی خود کو بہتر سے بہترین کرنے کے سفر میں ہوتے ہیں. یہ میڈلز یا کسی دوسرے کے مقابلے میں نہیں خود سے مقابلہ میں ہوتے ہیں. یہی خود سے مقابلہ ان کو روزانہ گھنٹوں تربیت کی سخت ترین روٹین سے گزار رہا ہوتا ہے. جس دن یہ سمجھتے ہیں بس اب میری باونڈریز آگئیں. میں اس سے مزید باہر نہیں نکل سکتا. یہ کورٹ سے یا پول سے نکل آتے ہیں.

آپ کا مسئلہ آپ ہیں. آپ خود کی کھوج کریں. ہماری اکثریت نوجوان نسل باوجود بہترین صلاحیتوں کے خود پر یقین میں اتنی کمزور ہوتی ہے کہ بجائے self belief کے یہ imposter syndrome کا شکار ہوجاتی ہے. یہ ڈرے رہتے ہیں. خوفزدہ ہو جاتے ہیں. یہ وہ کیفیت ہے جب آپ خود پر یقین اتنا کمزور کر لیتے ہیں جہاں آپ کو لگتا ہے یہ جو کچھ ملا بھی ہے میں اسکا بھی اہل نہیں. بس قسمت سے مل تو گیا اب کسی کو پتہ نہ لگے. یہ ٹیسٹ ہونے سے گھبراتے ہیں. سہمے اور ڈرے ہوئے رہتے ہیں. ہر وقت ایک دھڑکا لگا رہتا ہے. ابھی کوئی آئے گا اور میرا فریب پکڑ لے گا.

اللہ رب العزت نے آپ کو بلاوجہ تو نہیں بیجھا. کسی مقصد پر ہی بیجھا ہے. آپ مقصد کو اور اس مقصد میں خود کی کھوج کریں. یہی بہتر سے بہترین کا سفر ہوتا ہے.

ریاض علی خٹک

دوستوں سے شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں