اے ٹی ایم پر کھڑے ہونے سے پہلے آپ کو تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے. اکاونٹ اے ٹی ایم کارڈ، پن کوڈ اور اکاونٹ بیلنس. آپ کے پاس کارڈ بھی ہو پن کوڈ بھی معلوم ہو لیکن اکاونٹ میں سرمایہ نہ ہو تو ہر بار آپ کو ایک ہی جواب ملے گا. Not sufficient balance. اب آپ جتنے بھی سوالات اٹھالیں. کم از کم آپ کا بھلا نہ ہوگا.

ایمان کا شجر یقین کی جڑ پر بلند ہوتا ہے. یقین آپ کا اپنا وہ اثاثہ علم ہے جو آپ کی شخصیت کی تعمیر کرتی ہے. جیسے آپ کو پتہ ہے آگ جلاتی ہے. آپ دہکتی آگ میں اپنا یقین چیک کرنے نہیں بیٹھیں گے. آپ کو پتہ ہے میں ایک منٹ تک سانس روک سکتا ہوں. تو آپ گھنٹوں کی خواہش میں زیر آب نہیں جائیں گے. یہی یقین آپ کو اسباب کی طرف لاتا ہے. آپ غوطہ خوری کا سامان اور تربیت حاصل کریں اور زیر آب کی دنیا دیکھ آئیں.

یقین کی طاقت اپنے آپ پر یقین سے ملتی ہے. یعنی self belief سے اور یہ یقین کا سرمایہ اسے ہی ملتا ہے جس نے اپنے آپ کو پالیا. کیونکہ جو خود کو کھوج لیتا ہے. وہ خدا کو پالیتا ہے. اب کون ہوگا جو خود کی تلاش ہجوم میں لوگوں کے چہرے ٹٹول کر کرے گا.؟ یہ تو وہی صورتحال ہوگی جیسے ATM پر کھڑے ہو کر اپنے اکاونٹ کا بیلنس دوسروں کے اکاونٹ میں ڈھونڈنا ہو. یقین کی ٹرانزیکشن کیلئے بہرحال آپ کو اپنے اکاونٹ کا بیلنس بنانا ہوگا.

اس لئے دوسروں کے ایمان اور یقین کا ناپ تول نہیں اپنے یقین کی فکر کریں. دوسروں کو نہیں خود کو ڈھونڈیں. جب یقین مل جائے گا تب سوال نہیں ایک ہی پکار رے جاتی ہے. حئی الصلوۃ حئی الفلاح کی پکار.

ریاض علی خٹک

دوستوں سے شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں