لڑکا سمجھتا تھا وہ بہادر نہیں، بہادری کی خواہش میں ڈرتے ڈرتے شہر کے جنگجوؤں کے مشہور استاد کے در پر آیا. استاد نے پوچھا کیا مقصد ہے.؟ لڑکے نے کہا میں بہادر نہیں. مجھے بہادر بننا ہے. استاد نے پوچھا بس..؟

کہا جاو تمہارا پہلا سبق یہ ہے شہر میں میں اپنی جان پہچان کے ہر شخص سے کہو میں بہادر نہیں ہوں. لڑکے نے حیرت سے کہا یہ کیسا سبق ہے.؟ استاد نے کہا تم نے بہادر بننا ہے تو پھر سبق پر عمل بھی کرنا ہوگا. چنانچہ لڑکا واپس آیا. بڑی ہمت سے پہلے دن اپنے قریبی دوست سے کہا، دوسرے دن مزید دوستوں سے اور چند دنوں میں اس کا خوف نکل گیا. اب وہ ہر آتے جاتے سے کہنے لگا. اسکا ڈر ختم ہو گیا. ڈر نکلا تو اس کی سوچ بہادر ہوگئی. استاد کے پاس آیا اور کہا بس میرے لئے اتنا سبق کافی ہے. میرا ڈر نکل گیا ہے.

پہاڑ جتنا بھی بلند ہو. وہ سر ہو جاتا ہے. ہاں جوتوں میں کنکر ہوں تو چند قدم چلنا بھی دشوار ہو جاتا ہے. یہ جو دوسروں کی کمی کوتاہیاں ڈھونڈ کر انکا چرچا کرتے ہیں. یہ بہت ڈرپوک لوگ ہوتے ہیں. کوئی انکا یہ ڈر نہ ڈھونڈ لے اس خوف میں دوسروں کی طرف توجہ کراتے ہیں. جو اندر سے جتنا زیادہ ڈرپوک ہوگا وہ اتنا ہی دوسروں کو ڈرانے کی کوشش کرتا ہے.

کنکر ان کے جوتوں میں ہوتے ہیں. یہ راہ چلتے لوگوں کو کنکر مار کر سمجھ رہے ہوتے ہیں شائد یہی ان کے درد کا علاج یہی ہے. کاش یہ بہادر بن جائیں. یہ دوسروں کی فکر چھوڑ کر خود اپنے کنکر پھینک دیں.

ریاض علی خٹک

دوستوں سے شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں