پھوپھا زمیندار تھے. وہ اکثر سبزیاں کاشت کرتے اور کھیت میں بیٹھ کر فروخت بھی کرتے. ایک بار ان کے پاس جانا ہوا تو ان کے پتھر کے باٹ دیکھے. پوچھا یہ کونسے باٹ ہیں؟ انہوں نے کہا یہ ایک کلو کا ہے یہ ڈھائی اور یہ پانچ کلو کا. میں نے کلو والا باٹ اٹھایا تو وہ کلو سے کافی وزنی تھا. میں نے پھوپھا سے کہا آپ کا باٹ وزنی ہے. قریب کے ایک دکاندار کا نام لیتے کہا اگر آپ کہتے ہیں تو اس سے لوہے والے باٹ لے آتا ہوں. اس کے ساتھ ان کو برابر کر لیتے ہیں.

پھوپھا نے اس دکاندار کو چند بے نقط کی سنائیں اور کہا میرا باٹ خاندانی ہے. اس کے ٹین ڈبے والے باٹ پر میں نے اپنا ایمان خراب نہیں کرنا. کچھ دیر بعد ان کو جب سبزی بیچتے دیکھا تو بات سمجھ آگئی. وہ تجارت نہیں کر رہے تھے وہ بانٹ رہے تھے. یہ ترازو اور باٹ تو دو طرفہ بھرم رکھنے کا بہانہ تھا.

علم معیشت امیر و غریب کا پیمانہ الگ دے گی. اسے ہندسوں یا ناپ تول کی ضرورت ہے. یہ اس علم کی مجبوری ہے. اسے دنیا کے دس پچاس سو امیر ترین افراد کی لسٹ بنانی ہوتی ہے. لیکن اس معیشت سے پار کا بھی ایک میدان ہے. یہاں ہندسوں پر نہیں دل پر امیر غریب ہوتے ہیں. یہاں دنیاوی حساب سے ایک غریب خاتون راشن کا تھیلا واپس کرتی ہے. کہ ہمارے پاس مہینے کا راشن ہے. یہ فلاں کو دے دیں وہ ضرورت مند ہیں. اور یہاں دنیاوی دولت مند اپنے نوکروں کو راشن کی لائن میں کھڑا کردیتا ہے. جاو تھیلا لے کر آو. جواز یہ دیتا ہے کہ ان کو تو لگتا ہے نہ.

پتہ نہیں کس کو کیا لگتا ہے کیا نہیں لگتا. لیکن غریب بستیوں میں بہت دولت مند افراد رہتے آپ کو مل جائیں گے. اور امراء کے بڑے محلوں میں انتہائی غریب افلاس زدہ بھی رہتے مل جائیں گے. دنیا کا پہیہ دو طرفہ بھرم رکھنے کیلئے چل رہا ہے. چلے جا رہا ہے.

ریاض علی خٹک

دوستوں سے شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں