ملک بھر میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد بڑھ کر 1022 ہوگئی ہے جس میں سے 8 مریض جاں بحق جب کہ 21 صحت یاب ہوچکے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 1022 ہوگئی۔ سندھ میں 413، پنجاب میں 310، بلوچستان میں 117، گلگت بلتستان میں 81، خیبر پختونخوا میں 80 جب کہ اسلام آباد میں 20 اور آزاد کشمیر میں ایک مریض ہے۔

راولپنڈی ایم ایچ اسپتال میں خاتون کیپٹن(ر) شاہدہ کرونا وائرس کے باعث جاں بحق ہوگئیں جو 21 مارچ سے اسپتال میں زیرعلاج تھیں، خاتون برطانیہ سے پاکستان آئی تھیں جس کے بعد جاں بحق مریضوں کی تعداد 8 ہوگئی ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 50 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے، 5 کی حالت تشویشناک ہے جب کہ 19 افراد مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں۔

سیاسی قیادت کی رائے لینے کیلئے تیار ہیں

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا کی جنگ کوئی حکومت نہیں صرف قوم لڑ سکتی ہے، خوف اور گھبراہٹ سے فیصلوں کے نتائج درست نہیں ہوتے، کورونا کے خلاف کامیابی میں تمام سیاسی جماعتیں اور صوبے شامل ہوں گے، سیاسی قیادت کی رائے لینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں، کل نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں صورتحال کا جائزہ لیں گے، نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں ٹرانسپورٹ کی بندش پر بھی غور کریں گے، پارلیمانی رہنماوَں سے رابطے میں رہیں گے اور تجاویز لیں گے۔

تعلیمی اداروں کی چھٹیوں میں توسیع 

کورونا وائرس کے بڑھتے خطرے کے پیش نظر آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں کی تعطیلات میں 31 مئی تک توسیع دیدی جبکہ کورونا سے نمٹنے کیلئے باضابطہ فنڈ بھی قائم کردیا ہے۔

جہلم سے 14 کیس کنفرم

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ جہلم میں کورونا کے مزید 14 مریض کنفرم ہوگئے ہیں اور یہ تمام لوگ یا تو بیرون ملک سے آئے تھے یا ان کے قریبی رشتہ دار ہیں۔

ایک یوسی سے 39 مریض

وزیر صحت خیبر پختونخوا تیمور جھگڑا نے کہا ہے کہ مردان کی یونین کونسل منگا سے 39 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

سندھ میں صورت حال

محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کراچی سمیت سندھ بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 413  ہوگئی ہے۔ کراچی میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 144 ہے، سکھر میں 265 اور دادو میں ایک فرد کورونا وائرس سے متاثر ہوا ہے۔ کراچی میں 141 کورونا وائرس سے متاثرہ افراد میں سے 91 افراد رابطوں کے ذریعے متاثر ہوئے، کراچی میں 130 اور سکھر میں 265 مریض زیرِ علاج ہیں، سندھ بھر میں کورونا وائرس کے اب تک 14 مریض صحتیاب اور ایک جاں بحق ہوچکا ہے۔

گزشتہ روز کورونا وائرس کے 16 کیسز رپورٹ جبکہ 10 مریض صحتیاب ہوئے، کراچی میں 11 جبکہ سکھر میں 5 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی ، سکھر میں متاثر ہونے والے تمام افراد زائرین ہیں جب کہ کراچی کے 9 افراد رابطوں کے ذریعے متاثر ہوئے،کراچی کے کیسز میں سے ایک مریض نے دبئی اور ایک نے برطانیہ کا سفر کیا تھا۔

150 زائرین کوئٹہ منتقل

ایکسپریس نیوز کے مطابق تفتاتن میں مجودہ 150 افراد کو کوئٹہ لایا گیا ہے۔ لیویز حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام افراد ایران سے آئے تھے اور انہوں نے تفتان کے قرنطینہ میں 14 روز گزارے تھے۔ انہیں بسوں کے ذریعے کوئٹہ لایا گیا ہے۔

اسلام آباد کا علاقہ کوٹ ہتھیال مکمل سیل

حکومت نے طے کر رکھا ہے کہ جس علاقے سے کرونا وائرس کا شکار سامنے آیا اس علاقہ کو لاک ڈاؤن کیاجائے گا۔ اسی کی رو سے اسلام آباد میں بارہ کہو کا علاقہ کوٹ ہتھیال مکمل طور پر سیل کردیا گیا ہے، ہتھیال جانے والے تمام راستوں پر پاک فوج کے اہلکار تعینات کردیئے گئے۔ ہتھیال سے چند روز قبل کورونا کے 13 متشبہ مریض سامنے آئے تھے۔

کراچی والوں نے دل کے دروازے کھول دیئے

ملک میں غریبوں کی ماں کہلانے والے شہر کراچی نے غریب پروری کی ایک اور مثال قائم کردی،عالمی وبا کورونا کو روکنے کیلیے کراچی میں لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے غریب اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کی مدد کے لیے مخیرحضرات اور عام شہریوں نے اپنے دل کے دروازے کھل دیے ہیں،شہر کے مختلف علاقوں میں محلوں کی سطح پر لوگوں نے انفرادی اور اجتماعی طور پرمتاثرہ خاندانوں میں راشن اور دیگر اشیا ضروریہ کی تقسیم شروع کردی ہے تاکہ سفید پوش اور غریب گھرانوں کا باعزت طریقے سے خوراک کا مسئلہ حل ہوسکے۔

کورونا اسپتال میں انتظامات مکمل

کراچی ایکسپو سینٹر میں قائم کیا جانے والا 1110 بستروں پر مشتمل کورونااسپتال میں تمام انتظامات مکمل کرلیے گیے جس کے بعد اسپتال جمعہ سے کورونا کے مریضوں کو داخل کیاجائے گا۔

کراچی میں معمولات زندگی منجمد

صوبے کے سب سے بڑے شہر کراچی کو لاک ڈاؤن ہوئے 3 روز ہی ہوئے ہیں اور دو کروڑ سے زائد کے آبادی والے شہر میں معمولات زندگی منجمد ہوگئے ہیں۔ نسماجی دوری اختیار کرنے کی ہدایت کے بعد بہت سے افراد کی زندگی جیسے ٹھہر سی گئی ہے اور بہت سے لوگ اب اپنے اہل خانہ کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، کچھ لوگ اپنے مشاغل کو اب صحیح وقت دے پارے ہیں جب کہ بہت سے لوگوں کو گھر کے روزہ مرہ کے معمولات سے فرار مشکل نظر آرہا ہے۔

سندھ میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی

آئی جی سندھ مشتاق مہر نے پولیس فورس کو اپنے دوسرے اہم پیغام میں مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس وقت ایک غیر معمولی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم ایسے لوگوں کو گرفتار کر رہے ہیں جو بذات خود حالات کے جبر کا شکار ہیں ، ہمیں ایسے افراد سے تحمل اور ہمدردی سے پیش آنا ہوگا۔ مشکل کے اس وقت میں پولیس عام شہریوں کو گرفتار کرنے کے بجائے انھیں در پیش آفت سے آگاہ کر کے شائستگی سے انتباہ کے ساتھ جانے دے ، مشکل کی اس گھڑی میں پولیس لازمی طور پر عوام دوست اور ہمدرد کے طور پر سامنے آئے نہ کہ عوام میں اس کا ناپسندیدہ و بے رحم تاثر قائم ہو۔

دوستوں سے شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں