چور آپ کا باپ ہے ، شاہد خاقان عباسی اجلاس میں حکومتی وزیروں پر برس پڑے ، سپیکر کو شرم کرنے کا طعنہ دیدیا

اسلام آباد (این این آئی) اجلا س کے دور ان شہزاد اکبر کی تقریر کے بعد اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے،سپیکر نے فلور شاہد خاقان عباسی کو دیدیا تاہم شاہد خاقان عباسی کو فلور دینے پر حکومتی ارکان نے شور شرابہ کیا۔

شاہد خاقان عباسی نے سپیکر کو شرم کرنے کا طعنہ دیدیا، اسپیکر قومی اسمبلی نے جواب دیاکہ آپ وزیراعظم رہے ہیں، آپ حوصلہ پیدا کریں اور اپنی زبان درست کریں

اس پر شاہد خاقان عباسی کافی دیر کھڑے رہے مگر بات نہیں کی۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ سابق وزیراعظم کو آپ نے موقع دیا ہے وہ سینئر ممبر ہیں،

ان کے الفاظ حذف کریں مجھے توقع ہے وہ اپنے الفاظ واپس لے لیں گے۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ میں اپنے الفاظ واپس لے لونگا مگر وزیر وعدہ کریں وہ سچ بولیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہاکہ سچ کی بات کریں گے تو بہت سی باتیں کھل جائیں گی،بہتر ہے کچھ چیزوں پر پردہ رہنے دیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ وزیر صاحب بہتر ہے آپ سچ بولیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہاکہ جو الفاظ سپیکر چیئر بارے کہے ہیں وہ واپس لئے جائیں یا حذف کئے جائیں سابق وزیر اعظم نے کہاکہ میں الفاظ واپس لینے کو تیار ہوں وزیر خارجہ وعدہ کریں سچ بولا کریں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہاکہ میرا سچ رہنے دیں سچ بولا تو آنچل اٹھے گا اور پھر کہیں منہ چھپانے کے نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ جو پردہ میں ہیں پردے میں رہنے دیں۔

شاہدخاقان عباسی کی تقریر کے دوران حکومتی بنچوں سے چور چور کے نعرے لگائے گئے جس پر شاہد خاقان عباسی نے جواب دیا کہ چور آپ کا باپ ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک غیر منتخب شخص کو بلاکر ایوان کی توہین کی گئی،یہ ایوان میں نہیں آسکتا۔

اسد قیصر نے کہاکہ رولز اجازت دیتے ہیں مشیر آسکتا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ اس غیر منتخب شخص نے اپوزیشن لیڈر کا نام لیکر توہین کی،

اپوزیشن لیڈر پر الزام عائد کئے گئے، یہ الفاظ حذف کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہاکہ نیب کا اطلاق پورے ملک پر ہوتا ہے مگر یہاں نیب کا اطلاق صرف

ایوان میں بیٹھے لوگوں پر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیب ایک کالا قانون ہے، منی لانڈرنگ کے قانون میں نیب کو شامل نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہاکہ دہرے قوانین نافذ نہ کریں، نیب ایک آمر نے بنائے آپ بہتر نہیں کرنا چاہتے تو آپ کی مرضی۔ انہوں نے کہاکہ کل اس قانون کی بڑی تکلیف ہوگی آج بڑے خوش ہیں قانون منظور کرکے۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ نیب قانون کو درست کرنا ہے تو کرلیں نہیں کرنا

تو نہ کریں،دیگر قوانین کو تو نیب کے طابع نہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ اگر یہ کالا قانون منظور ہوا اور کل یہاں سیاستدانوں کے خلاف استعمال ہوگا تو کون ذمہ دار ہوگا،ہمیں یہاں بولنے تو دیں۔

اسپیکر نے کہاکہ ریکارڈ سامنے رکھ دوں گا اپوزیشن زیادہ بولی ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ آج قائد ایوان کی کرسی خالی کیوں ہے۔ فروغ نسیم نے کہاکہ پارلیمانی نگرانی اگر دے دیں گے تو اختیارات کی اداروں کی

تقسیم نہیں رہے گی،یہ ہم نے نہیں پی پی پی دور میں ترامیم ڈالی تھیں،نیب کا بار ثبوت الگ ہے عاملہ کا الگ ہے،یہ قانون بنیادی انسانی کے خلاف نہیں۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پھر کہاکہ غیر منتخب اور کروائے کے مشیر کو بلا کر ایوان کی توہین کی گئی،

یہ مشیر کیسے اپوزیشن لیڈر پر الزامات لگا سکتا ہے،اسپیکر صاحب آپ اس ایوان کے کسٹوڈین ہیں،ہم سب کا تحفظ آپ کی زمہ داری ہے،

انھی باتوں کی وجہ سے ایوان میں وزیراعظم موجود نہیں،ہمیں اچھا نہیں لگتا کہ وزیراعظم کی نشست خالی ہولیکن یہ سب ان کی وجہ سے ہی ہو رہا ہے۔

بعد ازاں قومی اسمبلی نے اینٹی منی لانڈرنگ بل 2020کی کثرت رائے سے منظوری دیتے ہوئے غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Articles You May Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *