ریٹائر ہونے کے باوجود بچوں کو بنا تنخواہ پڑھانے والا ہیرو استاد فتح محمد

فتح محمد ریٹائر کیوں نہیں ہوتا ؟

دور، ہندوکش کے پہاڑوں کے بیچ، وادی سوات کے دامن میں، تحصیل خوزہ خیلہ کی گڈرسر یونین کونسل میں ، وادی سے اوپر اٹھ کر پہاڑ کی چوٹی پر ایک چھوٹا سا گاوں شالپن بسا ہے۔ سوات کی گلی گلی گھومتے ، چپہ چپہ چھانتے جب میں اس گاوں پہنچا تو پہاڑ کی چوٹی پر ایک اسکول پر نظر پڑی جس میں پاکستان کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔

گلے میں کیمرا لٹکائے اسکول کا پھاٹک کراس کیا تو اندر موجود بچے اور دو بزرگ استاد ایکدم الرٹ ہو گئے۔ پہلے پہل وہ سمجھے کہ گورنمنٹ کی جانب سے ان کے اسکول کی انسپکشن کے لئے کوئی شخص کیمرا اٹھائے آ پہنچا ہے۔

جب میں نے اپنا تعارف کروایا تو دونوں بزرگ استادوں کی جان میں جان آئی۔ مہمان نوازی کی خاطر ایک بچہ قریب آباد اپنے گھر سے چائے بسکٹ لے آیا۔ کچھ تصاویر لے کر جب میں گاوں کے آنگن میں کھلی دھوپ میں بیٹھا تو دونوں اساتذہ فارغ ہو کر میرے پاس آ بیٹھے۔ ان میں سے ایک کا نام فتح محمد تھا۔

بات شروع ہوئی تو فتح محمد صاحب بولے “آپ کا تعلق میڈیا سے ہے تو سوچ رہا ہوں ایک گزارش کر دوں شاید اوپر بیٹھے لوگ آپ کے توسط سے بات سمجھ جائیں”۔ میں نے کہا “جی ضرور آپ بولیں”

“میرا نام فتح محمد ہے۔ میں پینتیس سال اسی اسکول میں پڑھا کرمدت پوری ہونے پر رئیٹائر ہو چکا ہوں مگر پھر بھی میں فی سبیل اللہ چالیس کلومیٹر دور سے یہاں پڑھانے آتا ہوں۔ ان چالیس کلومیٹر میں سے بارہ کلومیٹر کی چڑھائی پیدل طے کرتا ہوں کیونکہ یہاں ٹاپ پر کوئی ٹرانسپورٹ نہیں آتی۔

مجھے بار بار یاد کروایا جاتا ہے کہ میں چونکہ ریٹائر ہو چکا ہوں اس لئے پڑھانے نہ آیا کروں جبکہ یہاں میرے علاوہ صرف ایک ہی استاد ہیں جو یہاں ہمارے ساتھ بیٹھے ہیں اور ان کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی۔ ان کو گردوں کا مسئلہ ہو چکا ہے۔

یہ ریٹائر ہونا چاہتے ہیں مگر حکومت ان کو میڈیکل بورڈ کروا کر ریٹائر نہیں کر رہی۔ اگر میں بھی یہاں پڑھانے نہ آوں تو اس اسکول کو کون چلائے گا ؟ آپ سے گزارش ہے کہ ارباب اختیار تک یہ بات پہنچا دیں کہ میں کاغذوں میں تو ریٹائر ہو چکا ہوں مگر مجھے پڑھانے سے نہ روکا جائے، میں اس کی نہ تنخواہ مانگتا ہوں نہ کوئی اور ڈیمانڈ ہے میری۔”

فتح محمد کی بات مکمل ہوئی تو میں نے پوچھا “آپ اتنی سردرد کیوں لے رہے ہیں ، عمر اچھی خاصی ہو گئی آپ گھر آرام کیوں نہیں کرتے ؟” ۔۔۔ وہ کچھ دیر کو چپ رہے پھر بولے “میرا ایک بیٹا ہے ، بیوی کا انتقال اس کی پیدائش پر ہو گیا، میں نے اس کے بعد دوسری شادی نہیں کی ۔

میری ساری زندگی وہی تھا، جوں جوں وہ بڑا ہوتا گیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عمر بڑھنے کے ساتھ اس کو سنبھالنا ناممکن ہو گیا، وہ بہت عجب حرکتیں کرتا اور گھر کی ہر شے توڑ دیتا تھا۔ آخر مجھے اس کو علاج کے لئے پاگل خانے جمع کروانا پڑا جہاں وہ اب بھی رہتا ہے۔ میرا اپنی بیوی سے وعدہ تھا کہ ہمارا بیٹا یا بیٹی جو بھی ہوا اس کو میں پڑھا کر انجینیئر بناوں گا۔”

کچھ دیر خاموشی طاری رہی پھر بولے “اب جبکہ میرا کوئی نہیں رہا تو میں گھر بیٹھ کر کیا کروں گا۔ ان بچوں میں سے کوئی انجینیر کوئی ڈاکٹر بن جائے تو سمجھوں گا میرا مقصد پورا ہوا”

یہ سب سن کر مجھے چپ لگ گئی۔ اسکول سے نکلا تو دھوپ چمک رہی تھی ۔ یہ خزاں کے دن تھے۔ ایک الوداعی نظر اسکول پر ڈالی تو فتح محمد اسکول کے گیٹ پر ہاتھ ہلاتا کھڑا تھا۔

تحریر : سید مہدی بخاری

یہ آرٹیکل دوستوں سے شیئر کریں۔ شکریہ

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Articles You May Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *