×

اہم ترین اسلامی ملک نے لاکھوں بھارتیوں کو اپنے ملک سے نکالنے کا اعلان کردیا

کویت(نیوز ڈیسک ) کویت میں 30 لاکھ سے زائد تارکین وطن مقیم ہیں جن میں سے ساڑھے 14 لاکھ تارکین بھارت سے تعلق رکھتے ہیں۔ کویتی حکومت نے مقامی نوجوانوں میں سے بے روزگاری ختم کرنے کے لیے فیصلہ کیا ہے کہ 5 لاکھ 30 ہزار غیر ملکیوں کو اگلے چند ماہ میں کویت سے نکال دیا جائے گا۔

ان افراد میں لاکھوں بھارتی باشندے شامل ہیں۔اس حوالے سے کویتی حکومت نے ایک منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ بھارتیوں کو اس کام بھی بھی ملوث پایا گیا ہے کہ وہ اسلام مخالف کارروائیوں اور سوشل میڈیا پر پوسٹوں میں ملوث ہیں۔ العربیہ نیوز کے مطابق وزیر سماجی و اقتصادی امور مریم العقیل نے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے دوران کویتی آبادی اور تارکین کی آبادی میں توازن قائم کرں ے کے لیے ایک منصوبے کا جائزہ لیا جس کے بعد فیصلہ کہا گیا کہ مملکت میں سب سے پہلے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو نکالا جائے گا، جن کی گنتی 1 لاکھ 20 ہزار سے زائد ہے۔اس کے ساتھ ساتھ 60 برس سے زائد عمر کے تارکین اور مستقل بیماریوں میں مبتلا غیر ملکی کارکنان کی بھی ملازمتیں ختم کر کے انہیں واپس بھیج دیا جائے گا۔ ایسے افراد کی گنتی ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ جبکہ 90 ہزار سے زائد ان پڑھ یا معمولی تعلیمی قابلیت والے غیر ملکیوں کی بھی چھُٹی کر دی جائے گی۔ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے دوران وزیر مریم العقیل نے بتایا کہ گزشتہ پندرہ برسوں میں کویتی آبادی میں شرح پیدائش 55 فیصد تک ہو چکی ہے۔جبکہ تارکین وطن کی گنتی میں 100 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جس کے باعث مقامی نوجوانوں کی بڑی تعداد نوکریوں اور روزگار سے محروم ہو چکی ہیں، جن کی پریشانیوں کو ختم کرنے کے لیے لاکھوں تارکین کو بے دخل کرنا بہت ضروری ہے۔ اس موقع پر مریم العقیل نے سرکاری اور نجی اداروں کو تاکید کی کہ وہ آئندہ سے ایک لاکھ 60 ہزار اسامیوں پر غیرملکیوں کی جگہ مقامی شہریوں کا تقرر کریں۔دوسری جانب کویتی حکومت نے وزارتوں سے غیر ملکی ملازمین نکال کر مقامی افراد بھرتی کرنے کے منصوبے پر کام شروع کر دیا۔ ابتدائی مرحلے میں 50 فی صد تارکینِ وطن فارغ ہوں گے۔ العربیہ نیوز کے مطابق کویت کی وزارتوں میں ذیلی ٹھیکے داروں کے ساتھ کام کرنے والے 50 فی صد تارکین وطن ملازمین اور مزدوروں کو آئندہ تین ماہ کے دوران نوکریوں سے فارغ کر دیا جائے گا۔ہْنرمند افرادی قوت اور اپنے اپنے شعبوں میں مہارت رکھنے والے تارکینِ وطن کو اس نئی پالیسی میں کوئی استثنا حاصل نہیں اورانھیں مرحلہ وار مقامی کویتیوں کے دستیاب ہونے کی صورت میں فارغ کیا جائے گا تاکہ کام کا معیار متاثر نہ ہو۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں