رات کا وقت انہی باتوں ہی باتوں میں ماں نے کھانا لا کر بیٹے کے سامنے رکھ دیا

سبحان اللہ۔۔۔ کہتے ہیں کہ ایک ماں اور بیٹے میں عجیب مناظرہ چل رہا۔مناظرے کا عنوان کچھ یوں تھا۔ ماں کا موقف کچھ یوں تھا۔ کہ اللہ ہمیں کھلاتا ہے اس لیے ہم کھاتے ہیں۔ جب کہ بیٹے کا موقف کچھ اور تھا۔ وہ کہتا ہے کہ ہم نہ کھائے تو اللہ ہمیں نہیں کھلا سکتا۔ رات کا وقت انہی باتوں ہی باتوں میں ماں نے کھانا لا کر بیٹے کے سامنے رکھ دیا۔

بیٹے نے کہا کہ چلو آج رات کا کھانا میں نہیں کھاتا اللہ مجھ کو کھلا کر کے دکھائے۔ ماں بیٹی کی پیچھے پڑ گئی اور کہا کہ بیٹا زید نہ کر کھانا کھ۔ بیٹھے نے کہاں نہیں ہمارا آج میں کھانا نہیں کھاؤں گا۔ بس آج مجھے اللہ کھانا کرکے دکھائے۔ ماں سے بیٹے کے بھوک برداشت نہیں ہو رہی تھی اور اس نے بیٹے کے ساتھ زبردستی شروع کردیں لیکن بیٹا نہ مانا۔ اور گھر چھوڑ کر قبرستان جا کر سو گیا۔ لیکن ماں تو ماں ہی ہوتی ہے ماں نے ایک زبردست حلوہ بنایا اور قبرستان میں اس کے ساتھ کچھ فاصلے پر رکھ دیا۔ اس خیال سے رکھ آئی کہ رات کو بھوک سے جاگ گیا تو کوئی دیکھنے والا نہ ہوگا اور یہ کھا لیگا۔ رات کے آخری پہر قبرستان میں ڈاکو آگئے جو اس گاؤں کو لوٹنے کی غرض سے پہنچے تھے۔ وہ قبرستان میں رک کر سردار سے آخری ہدایات لے رہے تھے کہ حلوے کی مہک نے سردار کو متوجہ کر لیا۔ قبرستان کی تلاشی لی گئی تو حلوہ اور وہ لڑکا دونوں برآمد ہوئے۔ سردار نے حلوہ کھانا چاہا تو سانبھا نے کہا، سردار ! مجھے لگتا ہے اس حلوے میں زہر ملا کر رکھا گیا تھا تاکہ ہم کھا کر مر جائیں اور یہ لڑکا جاسوسی کے لئے موجود تھا۔ کہ ہمارے انجام کی خبر جا کر گاؤں والوں کو دے سکے۔ سردار نے سانبھا کی عقلمندی کی داد دی اور لڑکے سے کہا چل بچے حلوہ کھا ! لڑکا تو ضد کئے بیٹھا تھا۔

کہ آج رات کچھ نہیں کھائیگا، اس نے سختی سے انکار کیا تو سردار کا شک یقین میں بدل گیا اور اس نے گن تان لی۔ لڑکے نے سر پر منڈلاتی موت دیکھی تو پوری پلیٹ چٹ کر گیا۔ ڈاکو کچھ دیر تک اسکے مرنے کا انتظار کرتے رہے لیکن وہ نہ مرا۔ ایک بار پھر سانبھا نے ہی گتھی سلجھائی اور کہا، سردار ! سلو پوائزن لگتا ہے۔ کنفیوز ڈاکو لڑکے کو قبرستان میں چھوڑ کر لوٹ گئے۔ فجر کی آذان کے ساتھ لڑکا خالی پلیٹ ہاتھ میں لئے منہ لٹکائے گھر میں داخل ہوا تو ماں نے پو چھا، بیٹا کیا ہوا؟ لڑکا بولا ماں لمبا قصہ ہے، مجھے نیند آرہی ہے، بس خلاصہ یہ ہے کہ ہم نہ بھی کھانا چاہیں تو اللہ کھلا دیتا ہے۔ اگر آپ کو ہماری یہ کہانی پسند آئی ہو تو اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔

Sharing is caring!

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *