یہ ایک مسجد کی ایسے مولوی کی کہانی ہیں۔

یہ ایک مسجد کی مولوی کی کہانی ہیں۔ جہاں پر بڑی تعداد میں فجر کی نماز کیلئے نمازی آیا کرتے تھے جس کی وجہ سے مولوی صاحب علاقے کے لوگوں سے کافی خوش تھے۔ پھر رفتہ رفتہ یوں ہوا فجر کی نماز میں نمازیوں کی تعداد کم ہونے لگی۔ مولوی صاحب کے لیے یہ بات بہت پریشان کن تھی۔

کیونکہ فجر کی نماز میں لوگوں کی کمی زیادہ ہو رہی تھی۔ مولوی صاحب کو اس کمی کی وجہ سمجھ نہیں آرہی تھی اور انہوں نے لوگوں کو دوبارہ فجر کی نماز کیلئے راغب کرنے کی ہر ممکن کوشش شروع کر دی۔ یہاں تک کہ جمعہ کے خطبے میں بھی فجر پڑھنے کی افادیت بتانے لگے۔ لیکن گاؤں کے لوگ ٹھس سے مس نہیں ہو رہے تھے۔ مولوی صاحب کو اپنے گاؤں والوں پر اب غصہ آنے لگا اب مولوی صاحب نے ایک اور ترکیب سوچی کہ جو گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے وہ اس کو ٹیڑھی انگلی سے نکالنی ہو گی۔ مولوی صاحب نےصبح دس بجے مسجد میں اعلان کروا دیا، اعلان کچھ ایسے تھا ’’جس آدمی کو اس کی بیوی فجر کی نماز کے لیے نہیں اٹھاتی وہ آدمی دوسری شادی کر لے تمام اخراجات مسجد انتظامیہ اٹھائے گی‘‘۔ اس اعلان کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگلی صبح مسجد میں جمعہ سے بھی زیادہ رش تھا جسے مولوی صاحب دیکھ کر انتہائی خوش ہوئی اور اللہ کا شکر ادا کیا۔

Sharing is caring!

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *