بد قسمت بیٹی ، ایک سبق آموز سچی کہانی

ہسپتال میں خوب رش تھا اور سارے گھر والے باہر بیٹھے ڈاکٹر کا انتظار کر رہے تھے ، آج اکبر کے ہاں پہلا بچہ ہونے والا تھا ، گھر کے سبھی افراد ہسپتال میں جمع تھے ۔

نور کی ساس ، اس کی نندیں اور اس کا شوہر اکبر سب اس انتظار میں تھے کہ کوئی خبر سننے کو ملے اور وہ خوشیاں منائیں ۔

 اتنے میں لیڈی ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر نکلی اور کسی کمرے میں جانے لگی ۔اکبر دوڑ کر اس کے پاس گیا اور پوچھا ڈاکٹر صاحبہ کیا بنا ؟

 ڈاکتر بولی کہ مبارک ہو آپ کے ہاں بیٹی ہوئی ہے ۔ یہ سننا تھا کہ اکبر کے چہرے پر ایک سایہ سا گزرگیا ۔

ڈاکٹر کی آواز اکبر کی ماں اور بہنیں بھی سن چکی تھیں ۔ بیٹی کی خبر کیا تھی کوئی ایٹم بم تھا جو ان پر ٹوٹ پڑا تھا ۔ سب ہی افسردہ نظر آنے لگے ،

مگر یہ پہلا دن تھا اور اس ننھی جان کو ابھی اس گھر میں اپنی جوانی گزارنی تھی ۔

خیر وقت گزرتا گیا ۔ پے در پے نور کے 3بیٹے ہوئےجنہیں خوب پیار کیا جاتا تاہم اگر کوئی اس پیار اور راج دلار سےمحروم رہتا تو وہ تھی ان کی اکلوتی بہن زارا ۔

وقت گزرتا گیا اور زارا جوان ہو گئی ۔ ماں باپ نے سر کا بوجھ اتارنے کیلئے اس کی شادی ایک ایسے شخص سے جلدی جلدی میں کر دی جو پہلے سے شادی شدہ تھا ۔

 وہ روز نشے میں گھر آتا اور زاراکو خوب مارتا اور اپنی پہلی بیوی کے کمرے میں چلا جاتا جہاں وہ اسے مزید بھڑکاتی اور اگلی صبح پھر دوبارہ زارا کی لتر پریڈ ہوتی ۔

 ایک روز زارا کا بھائی اپنی بہن کو ملنے اس کے گھر آیا تو اس کے پھٹے پرانے کپڑے دیکھ کر اس کا دل پسیج گیا ۔ اس نے اپنی بہن کو گلے سے لگا لیا ۔

 بہن بھائی کے گلے لگتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔ اسی دوران زارا کا شوہر آگیا ۔ اس نے دونوں کو گلے لگے دیکھا تو آگ بگولا ہو گیا ،

جلتی پر آگ زارا کی سوکن نے لگا ئی ۔ کہنے لگی کہ یہ تو روز ہوتا ہے ۔ میں تمہیں بتاتی نہیں ہوں ۔

 بس پھر کیا تھا ۔ زارا کے شوہر نے اس کے پہلو میں ایسی لات ماری کہ زارا درد سے دوہری ہو گئی ۔

 وہ مر رہی تھی ، مرتے مرتے اس نے آخری جملہ کہا ، یہ میرا ماں جایہ ہے ۔ پاس کھڑا بھائی رونے لگا ۔

 یہ ہے اس بد قسمت بیٹی کی ایسی داستان جو شاید ہر گھر کی کہانی ہے ۔کاش اللہ پاک بیٹیوں کا نصیب اچھا کرے ۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *