×

کاش ہمارے یورپ کے مرد بھی تمہارے جیسے ہو جائیں

اشفاق احمد ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے ایک دن میں انگلینڈ میں اپنی بیوی کے ساتھ پارک میں تشریف فرما رہا تھا

کہ کچھ لوگ سفید پگڑی باندھی آئے عصر کا وقت تھا اسی ہیں پارک میں بعد جماعت نماز پڑھی ایک برٹش لڑکی نے انہیں ٹکٹکی باندھے ہوئے دیکھ رہی تھی۔

جب تبلیغی جماعت والے نے نماز ختم کی تو وہ برٹش لڑکی ان کے نزدیک گی اور پوچھا کہ کیا آپ کو انگلش آتی ہے

 انہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں آتی ہے لڑکی نے پوچھا کہ آپ لوگ کیا کر رہے تھے اور انہوں نے جواب دیا کہ ہم عبادت کر رہے تھے

 لڑکی نے پھر اگلا سوال کیا ہے کہ آج تو اتوار کا دن نہیں ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اپنے رب کا دن میں پانچ دفعہ عبادت کرتے ہیں۔

وہ لڑکی بڑی متاثر ہوئی، اس نے مزید چند باتیں پوچھیں پھر اس نے ان کی طرف ہاتھ بڑھایا کہ چلیں آپ سے کافی اچھی ملاقات رہی تو ان کے جو امیر جواب دے رہے تھے

 انہوں نے اسے جواب دیا،اس ہاتھ کو میرے ہاتھ چھو نہیں سکتے۔ میرے ہاتھوں کو چھونے کی اجازت صرف میری زوجہ کے لئے ہے ہے۔

 یہ سن کر اس انگلش لڑکی نے زور کی چیخ ماری اور دھڑام سے نیچے گر گئی اور بولی کتنی خوش نصیب ہے تمھاری بیوی،

پھر وہ روتی جاتی اور ساتھ کہتی بھی جاتی کہ کاش یورپ کا مرد بھی ایسا ہوجائےاور روتے ہوئے وہ وہا ں سے چلی گئی۔اشفاق احمد صاحب بتانے ہیں

 کہ پھر میں نے اپنی زوجہ سے کہا’’آج بہت بڑی تبلیغ ہو گئی۔ہزاروں کتابیں بھی لکھی جاتیں تو ایسا اثر نہ ہوتاجو آج اس لڑکے نے اپنے عمل سے کر دکھایا۔

اس مغربی لڑکی کو اندازہ تھا کہ اس کی اوقات محض ایک ٹشو پیپر کی ہے۔

 آج کوئی استعمال کرلے اور کل کوئی اسے گرل فرینڈ بنا کر استعمال کرلے۔عورت کو عزت تو صرف اسلامی معاشرہ ہی دیتا ہے۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں