عورت کا دوسری عورت کے جسم کو دیکھنا

ہمارا یہ معاشرہ جس تیزی سے اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو رہا ہے۔ وہ انتہائی افسوسناک ہے۔

لیکن اس اخلاقی گراوٹ کے ذمہ دار کسی حد تک والدین اکرام بھی ہیں۔

جو اپنے بچوں کو دنیا کی ایسی درسگاہوں میں داخل کرتے ہیں جو مکمل طور پر مغربی ماحول اور تعلیم سے رنگے ہوئے ہوتے ہیں۔

نتیجتاً ہمارے معصوم بچوں کے ذہن اس کا شکار ہو جاتے ہیں

ٹارزن آدھا ننگا رھتا ھے،

سنڈریلا آدھی رات کو گھر آتی ہے،

پنوکیو ہر وقت جھوٹ بولتا ہے،

الہ دین چوروں کا بادشاہ ہے،

بیٹ مین 200 میل پر گھنٹہ ڈرائیو کرتا ہے،

رومیو اور جولیٹ محبت میں خود کشی کر لیتے ہیں،

ہیری پوٹر جادو کا استعمال کرتا ہے،

مکی اور منی محض دوستی سے بہت آگے ہیں،

(سلیپنگ بیوٹی )افسانوی کہانی جس میں شہزادی جادو کے اثر سے سوئی رہتی ہے ایک شہزادے کی kiss ہی اسے جگا سکتی ہے۔

ڈمبو شراب پیتا ہے، اور تصورات میں کھو جاتا ہے،

سکوبی ڈو ڈراؤنے خواب دیتا ہے،

اور سنو وائٹ 7 اشخاص کے ساتھ رہتی ہے،

 علمائے احنافکے نزدیک اگر طر فین کی طرف سے شہوت کا خوف نہ ہوتو مردمحرم عورت کے سر کے بال

 ، کان، چہرہ ،بازو، پنڈلیاں،اور پاؤں وغیرہ کی طرف نگاہ کر سکتا ہے (بدائع الصنائع: ۶ /۴۸۹،البحر الرائق:۸ /۳۵۵، حاشیہ ابن عابدین ۵ /۲۵۹)

حنفیہ کا استدلال

          اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں محارم کے لیے” زینت “ کے اظہار کی اجازت دی ہے،

 چنانچہ سورئہ نور،آیت : ۳۱ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ِ گرامی ہے:﴿وَلاَ یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ الَّا لِبُعُوْلَتِہِنَّ أوْ آبَائِہِنَّ أوْ آبَاءِ بُعُوْلَتِہِنَّ أوْ أبْنَائِہِنَّ أوْ أبْنَاءِ بُعُوْلَتِہِنَّ أوْ اخْوَانِہِنَّ أوْ بَنِيْ اخْوَانِہِنَّ أوْ بَنِيْ أخَوَاتِہِنَّ أوْ نِسَائِہِنَّ أوْ مَا مَلَکَتْ أیْمَانُہُنَّ﴾

           ترجمہ: ”اور نہ کھو لیں اپنا سنگھار؛ مگر اپنے خاوند کے آگے ،یا اپنے باپ کے آگے، یا اپنے خاوند کے باپ کے، یا اپنے بیٹے، یا اپنے خاوند کے بیٹے کے ،

یا اپنے بھائی کے ،یا اپنے بھتیجوں کے، یا اپنے بھانجو ں کے، یا اپنی عورتوں یا اپنے ہاتھ کے ما ل کے آگے“ (یعنی غلام اور باندی)۔

          آیتِ کریمہ میں زینت سے صرف نفسِ زینت مراد نہیں؛اس لیے کہ نفسِ زینت کا اظہار منع نہیں؛ بلکہ مواضعِ زینت مراد ہیں ؛

کیوں کہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اصل زینت کی طرف نگاہ کرنے کو مباح قرار دیا ہے ، لہٰذا مرد کا محرم عورت کے مواضعِ زینت کی طرف نگاہ کرنا جائز ہے ،

اعضاء بدن میں سر موضع ِتاج ہے ، بال چوٹیوں کی جگہ ہے ،چہرہ موضعِ کحل(سرمہ) ہے ،گردن اور سینہ ہار کی جگہ ہیں

،کان بالیاں پہنے کی جگہ ہے ، بازو میں بازو بند اور کنگن پہنے جاتے ہیں اور پاؤں خضاب اور پازیب کی جگہ ہیں۔(بدائع الصنائع:۶ /۴۸۹،البحر الرائق:۸ /۳۵۵ ، حاشیہ ابن عابدین :۵ /۲۵۹)

عقلی دلیل

          محارم کے ساتھ سفر وحضر میں اختلاط اور ملنا جلنا زیادہ ہوتا ہے اور عام طور سے محارم کے لیے مواضعِ زینت چھپانا

 اور اظہار وکشف سے بچانا مشکل اور باعثِ حرج ہوتا ہے؛ اس لیے حرج سے بچانے کے لیے ان کی طرف نگاہ کو جائز قرار دیا گیا ہے ۔(حوالہ سابق)

          مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کوعمومی طور سے غضِ بصرکا حکم دیا ہے اور مواضعِ زینت کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا ہے توپیٹ،

کمر، شرم گاہ ا ور ران وغیر ہ مو اضع زینت نہ ہونے کی وجہ سے غض بصر کے عمومی حکم میں داخل ہوں گے اور ان کی طرف نگاہ کرنا جائز نہ ہوگا؛

البتہ ہر وہ عضوجس کی طرف دیکھنا محارم کے لیے جائز ہے، اگر شہوت کا خوف نہ تو اس کا چھونا بھی جائز ہے۔ (بدائع۶/۴۸۹، البحرالرائق:۳۵۵۸،۳۵۶)

          حضرات علماء کرام اور مجتہدینِ عظام نے قرآن مجید کی آیات کے علاوہ متعدد احادیث سے محارم کی طرف نظر کرنے

اور نہ کرنے کے مسائل کا استنباط فرمایا ہے ، ان احادیث میں سے ایک بخاری شریف”کتاب الغسل، باب الغسل بالصاع ونحوہ“ کی روایت بھی ہے،

جس میں حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھائی ان کی خد مت میں گئے،

 ان کے بھائی نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے بارے میں پوچھا ،تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے

” صاع“ جیسا ایک برتن پانی کا منگوایا ، پھر غسل کیااور اپنے سر پر پانی بہایا ،اس وقت ہمارے اور ان کے درمیان ایک پردہ حائل تھا ۔

تو ہمیں حیران نہیں ہونا چاہئے کہ بچے بدتمیزی کرتے ہیں، وہ یہ سب کہانیوں اور کارٹونز سے حاصل کرتے ہیں جو ہم انہیں مہیا کرتے ہیں،

اس کی بجائے ہمیں انہیں اس طرح کی کہانیاں پڑھانی چاھئیں،

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نہ ختم ہونے والی خدمت اور وفاداری،

عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بردباری اور عدل وانصاف سے پیار،

عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا شرم و حیا کا معیار،

علی رضی اللہ عنہ کی ہمت اور حوصلہ دکھائیں،

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی برائی سے لڑنے کی خواہش،

فاطمہ رضی اللہ عنہا کا اپنے والد کے لئے پیار اور ادب،

صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ کی وعدہ کی ہوئی جگہ کے لئے فتح،

اور سب سے زیادہ ہمیں اللہ، قرآن کریم اور سنت سے پیار، محبت سے پڑھانا چاہئے، سب سے اہم پہلو یہی ہے،اور پھر دیکھیں تبدیلی کیسے شروع ہوتی ہے

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Articles You May Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *