آرٹیکل 370 کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ایک اور متنازع قانون پاس۔ ناقابل یقین اطلاعات موصول

جموں (ویب ڈیسک) بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے لیے زمینوں سے متعلق قانون میں ترامیم متعارف کروا دی ہیں

 جس کے تحت بھارت کی کسی بھی ریاست کا شہری مقبوضہ علاقے میں اراضی حاصل کر پائے گا۔بھارت کے مقامی میڈیا کی

 رپورٹس کے مطابق بھارت کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے

کہ نیا قانون ‘یونین ٹریٹری آف جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن(ایڈاپٹیشن آف سینٹرل لاز) تھرڈ آرڈر 2020’ کا نفاذ فوری طور پر ہوگا۔

اس سے قبل مقبوضہ جموں و کشمیر کے مستقل رہائشی ہی خطے میں اراضی خرید سکتے تھے لیکن اب اس قانون کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے آرٹیکل 370 کے تحت

 حاصل مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد دیگر کئی قوانین بھی متعارف کروائے جاچکے ہیں۔

بی جے پی حکومت نے قانون بنایا تھا کہ بھارت کی کسی بھی ریاست کا شہری مقبوضہ خطے میں جائیداد بنا سکتا اور ملازمت بھی حاصل کرسکتا ہے۔

بھارت نے نیا متنازع قانون ایک ایسے وقت میں متعارف کروایا ہے جب مقبوضہ جموں و کشمیر اور دنیا بھر میں کشمیری 27 اکتوبر کو بھارتی قبضے کے خلاف احتجاجاً ‘یوم سیاہ’

کے طور پر منا رہے ہیں جب 73 برس قبل 1947 میں بھارت کی فوج خطے میں داخل ہوئی تھی۔

مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے متنازع قانون پر رد عمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر سیفران اور کشمیر کمیٹی کے سربراہ شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ ‘

بھارتی حکومت نے یوم سیاہ پر ایک اور سفاک قانون متعارف کروایا ہے اور یاد دلا رہا ہے کہ بھارتی قابض فورسز کشمیریوں کے تمام حقوق کو کیسے غصب کر رہی ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اب بھارتی اور غیر ملکیوں کو بھی بھارت کی جانب سے غیر قانونی طور پر قبضہ کیے ہوئے جموں و کشمیر میں زمینیں خریدنے کی اجازت دی گئی ہے’۔

دوسری جانب مقبوضہ جموں و کشیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی ٹوئٹر پر اپنے بیان میں بی جے پی حکومت کے اس اقدام کی شدید مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ ‘مقبوضہ جموں و کشمیر کی زمینوں کی ملکیت کے حوالے سے ترامیم ناقابل قبول ہیں،

 ڈومیسائل قانون کے تحت بھی غیر زرعی اراضی کی خریداری اور زرعی اراضی کی منتقلی کو آسان بنا دیا گیا تھا یہاں تک کہ وہ بھی ختم ہوگیا’

۔عمر عبداللہ نے کہا کہ ‘اب مقبوضہ جموں و کشمیر کو برائے فروخت کردیا گیا ہے، جس سے غریب زمینداروں کو مشکلات کا سامنا ہوگا’۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے اقدامات کے خلاف احتجاج ہوتا رہا ہے لیکن 5 اگست 2019 کے بعد بڑے پیمانے پر پابندیاں اور لاک ڈاؤن جاری ہے۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *