عورت کیلئے ایک شادی کا حکم کیوں دیا گیا

اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ خیال آتا ہے، کہ عورت کو ایک اور مرد کو چار شادیوں کی اجازت دی گئی ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات مذہب ہے،

اور بیشک اسلام میں جس چیز سے منع کیا گیا ہے۔ اس میں انسان کے لئے حکمت ہے اسلام میں عورت کیلئے ایک شادی کا حکم کیوں دیا گیا؟

 سائنس بھی اسلام کے احکامات کی تائید پر مجبور ہو گئی۔ ایک ماہرِ جنین یہودی جو دینی عالم بھی تھا کھلے طور پر کہتا ہے،

 کہروئے زمین پر مسلم خاتون سے زیادہ پاک باز اور صاف ستھری کسی بھی مذھب کی خاتون نہیں ہےپورا واقعہ یوں ہے۔

ایک ماہرِ جنین یہودی پیشواروبرٹ نے اپنے قبول اسلام کا اعلان کیا۔

جس کا واحد سبب بنا قرآن میں مذکور مطلقہ کی عدت کے حکم سے واقفیت اور عدت کیلئے تین مہینے کی تحدید کے پیچھے کارفرما حکمت سے شناسائی اللہ کا فرمان ہے۔

 والمطلقات یتربصن بأنفسهن ثلاثة قروءم طلقات اپنے آپکو تین حیض تک روکے رکھیں اس آیت نے ایک حیرت انگیز جدید علم ڈی این اے کے انکشاف کی راہ ہموار کی۔

اور یہ پتا چلا کہ مرد کی منی میں پروٹین دوسرے مرد کے بالمقابل 62 فیصد مختلف ہوا کرتی ہے۔

اور عورت کا جسم ایک کمپیوٹر کی مانند ہے جب کوئی مرد ہم بستری کرتا ہے۔جاری ہے۔ تو عورت کا جسم مرد کی تما بیکٹریاں جذب ومحفوظ کر لیتا ہے۔

 اس لئے طلاق کے فورا بعد اگر عورت کسی دوسرے مرد سے شادی کرلے یا پھر بیک وقت کئی لوگوں سے جسمانی تعلقات استوار کرلے تو اس کے بدن میں کئی ڈی این اے جمع ہو جاتے ہیں۔

 جو خطرناک وائرس کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور جسم کے اندر جان لیوا امراض پیدا ہونے کا سبب بنتے ہیں۔

سائنس نے پتا لگایا کہ طلاق کے بعد ایک حیض گزرنے سے 32سے35 فیصد تک پروٹین ختم ہو جاتی ہے

اور دوسرے حیض آنے سے 67 سے 72 تک آدمی کا ڈی این اے زائل ہوجاتا ہےاور تیسرے حیض میں 99.9%کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور پھر رحم سابقہ ڈی این اے سے پاک ہو جاتا ہے۔

اور بغیر کسی سائڈ افیکٹ و نقصان کے نئے ڈی این اے قبول کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ ایک طوائف کئ لوگوں سے تعلقات بناتی ہے۔

جس کے سبب اس کے رحم مختلف مردوں کی منی چلی جاتی ہیں اور جسم مختلف ڈی این اے جمع ہو جاتے ہٰیں۔

اور اسکے نتیجے میں وہ مہلک امراض کا شکار بن جاتی ہےاور رہی بات متوفی عنہا کی عدت تو اس کی عدت طلاق شدہ عورت سے زیادہ ہے

کیونکہ غم و حزن کے بنا پر سابقہ ڈی این اے جلدی ختم نہیں ہوتا اور اسے ختم ہونے کے لئے پہلے سے زیادہ وقت درکار ہے اور اسی کی رعایت کرتے ہوئے۔

ایسی عورتوں کےلئے چار مہینے اور دس دن کی عدت رکھی گئی ہے۔۔ فر مان الہی ہے

’’والذين يتوفون منكم و يذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر و عشرا[البقرة:٢٣٤]‘‘”اور تم میں سے جس کی وفات ہو جائے اور اپنی بیویاں چھوڑے تو چاہیے

 کہ وہ چار مہینے اور دس دن اپنے آپ کو روکے رکھیں“اس حقیقت سے راہ پاکر ایک ماہر ڈاکٹر نے امریکہ کے دو مختلف محلے میں تحقیق کیا۔

 ایک محلہ جہاں افریقن نژاد مسلم رھتے ہیں وہاں کی تمام عورتوں کے جنین میں صرف ایک شوہر ہی کا ڈی این اے پایا گیا

جبکہ دوسرا محلہ جہاں اصل امریکن آزاد عورتیں رھتی ہیں ان کے جنین میں ایک سے زائد دو تین لوگوں تک کے ڈی این اے پائے گئے۔۔

جب ڈاکٹر نے خود اپنی بیوی کا خون ٹیسٹ کیا تو چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی کہ اس کی بیوی میں تین الگ الگ لوگوں کے ڈی ان اے پائے گئے جس کا مطلب یہ تھا

 کہ اس کی بیوی اسے دھوکہ دے رہی تھی اور یہ کہ اس کے تین بچوں میں سے صرف ایک اس کا اپنا بچہ ہے۔

اس کے بعد ڈاکٹر پوری طرح قائل ہوگیا کہ صرف اسلام ہی وہ دین ہے جو عورتوں کی حفاظت اور سماج کی ہم آہنگی کی ضمانت دیتا ہے

 اور اس بات کی بھی کہ مسلم عورتیں دنیا کی سب سے صاف ستھری پاک دامن وپاک باز ہوتی ہیں۔

 ہم امید کرتے ہے کہ اج کی تحریر اپ کو ضرور پسند آئی ہوگی۔ مزید اچھی تحریر کے لئے ہمارے پیج کو ضرور فالو اور لائک کرۂے۔

امید ہے کہ اب آپ کی ذہن میں جو چار شادیوں والا سوال ہوگا اس کے بارے میں اپ کا ذھن کل گیا ہوگا۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Articles You May Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *