×

نواز شريف کی حوالگی کی درخواست: کیا حکومت کی خوش امیدی محض خوش فہمی ہے؟

بيشتر وزراء حکومت کی طرف سے نواز شریف کی حوالگی کی درخواست پر شادیانے بجا رہے ہیں

 اور پر امید ہیں کہ جلد ہی سابق وزیر اعظم دوبارہ جیل میں ہوں گے۔ لیکن سياسی تجزیہ کار اس خوش امیدی کو حکومت کی ‘خوش فہمی‘ قرار دے رہے ہیں۔

اسلام آباد حکومت نے ایک خط کے ذریعے برطانیہ سے پاکستان مسلم ليگ ن کے رہنما اور سابق وزير اعظم کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔

 وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے بدھ کو بتايا کہ اس ضمن ميں پاکستان اور برطانيہ کی حکومتیں نواز شریف کی واپسی کے طریقہ کار پر بات کر رہی ہیں۔

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے تو اس حوالے سے پندرہ جنوری کی تاریخ بھی دے دی ہے۔

 شہزاد اکبر نے فواد چوہدری پر یہ کہہ کر سبقت لینے کی کوشش کی کہ نواز شریف کی پاکستان کو حوالگی شايد اس سے بھی پہلے ہو جائے۔

نواز شريف کی حوالگی: ايک مشکل اور پيچيدہ عمل

البتہ برطانوی قوانين اور نظام سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ يہ آسان کام نہیں۔

لندن سے تعلق رکھنے والے بیرسٹر گل نواز خان کا کہنا ہے کہ برطانیہ سے کسی کو ملک بدر کرنے کا عمل تحویل مجرمان کے معاہدے کی عدم موجودگی میں بہت مشکل،

طویل اور پیچدہ ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا، ”آسان قانونی راستہ شايد یہی ہوتا کہ دونوں ممالک کے درمیان تحویل مجرمان کا معاہدہ ہو،

جو نہیں ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ بہت مشکل ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی قانون اعانت کے معاہدے کے حوالے سے بات چیت ہوئی تھی

 لیکن اس کی بھی کوئی باضابطہ شکل نہیں نکل سکی۔ اب اگر حکومت نواز شریف کی حوالگی چاہتی ہے، تو اسے پاکستانی عدالت کے فیصلے کے ساتھ سیکرٹری آف اسٹیٹ کو درخواست دینی پڑے گی،

جہاں سے معاملہ مجسٹریٹ کورٹ جائے گا اور وہاں نواز شریف کو پورے دفاع کا موقع دیا جائے گا۔ یہاں اگر نواز شریف کے خلاف فیصلہ ہو بھی جائے،

 تو ان کو اپیل کا حق ہوگا اور وہاں بھی وہ اپنا دفاع کر سکتے ہیں۔ تو یہ ایک لمبا اور پیچیدہ عمل ہوگا اور اتنا آسان نہیں ہوگا، جتنا لوگ سمجھ رہے ہیں۔‘‘

کراچی میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری اور سیاسی سرگرمیاں

پاکستان کی ساکھ متاثر

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے معروف ماہر قانون و انسانی حقوق کے ليے کام کرنے والے کارکن انعام الرحیم کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے پاس بہت سارے دلائل ہیں،

 جو برطانوی عدالتیں سنیں گی اور ان کا اثر ان کے فیصلوں پر بھی ہوگا۔ ”سب سے پہلا نکتہ میاں صاحب یہ اٹھا سکتے ہیں

کہ ان کے خلاف جس جج نے فیصلہ دیا، اس پر دباؤ تھا۔ جج کی ويڈیو منظر عام پر آ چکی ہے۔

نواز شريف يہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تقریریں کیں اور نتيجتاً ان کے خلاف مقدمات ‘بد نيتی‘

 و سياسی انتقام پر مبنی ہیں۔ یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ان پر کرپشن کا کوئی جرم ثابت نہیں ہوا۔ پانامہ فیصلہ اگر حکومت دکھاتی ہے

 تو دنیا میں لوگ اس پر ہنسیں گے اور پاکستان کی ساکھ مزید خراب ہوگی۔‘‘

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں