ہارمونز میں عدم توازن اور مختلف بیماریاں٬ ڈاکٹر بلقیس شیخ

ہارمونز میں عدم توازن اور مختلف بیماریاں٬ ڈاکٹر بلقیس شیخ

ہارمونز کے نظام میں عدم توازن سے انسان میں بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں جو کہ مستقبل میں کئی بیماریوں کا سبب بن جاتے ہیں-

 لیکن ہارمونز کے نظام میں عدم توازن کب پیدا ہوتا ہے؟ یا پھر ان کا علاج کیسے ممکن ہے؟ اور ان سے کونسی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں؟ اس حوالے سے بہت کم خواتین آگاہ ہوتی ہیں-

انہی سوالات کے جوابات جاننے کے لیے ہماری ویب کی ٹیم نے معروف ہربلسٹ ڈاکٹر بلقیس شیخ سے خصوصی ملاقات کی-

ڈاکٹر بلقیس کے مطابق “ ہمارے معاشرے میں (Polycystic Ovaries Syndrome (PCOS کی بیماری عام ہے اور اس کا مطلب ہارمون کی خرابی ہے-

اور اس کی وجوہات پر نظر ڈالیں تو سب سے بڑی وجہ غذا ہے“-

ڈاکٹر بلقیس کہتی ہیں کہ “ ہر بیماری ایک غذائی بگاڑ ہے کیونکہ ہم وہی نظر آتے ہیں جو ہم کھاتے ہیں-

غذا ہی ہمارے خون کا حصہ بنتی ہے اور اسی سے ہی بیماریاں بنتی ہیں“-

“ ہمارے ہاں لڑکیاں کھانے میں دودھ کا استعمال نہیں کرتیں اور مرغن غذائیں زیادہ استعمال کرتی ہیں جبکہ ورزش بالکل نہیں-

 اور اسی وجہ سے آج کل کی لڑکیوں کا وزن بڑھ جاتا ہے اور ساتھ ہی کیلشیم کی کمی بھی واقع ہوجاتی ہے-

“ اور یہی طرز زندگی لڑکیوں میں ہارمونز میں عدم توازن کا باعث بنتا ہے جس کی وجہ سے انہیں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے“-

ڈاکٹر بلقیس کا کہنا تھا کہ “ اگر آجکل کے حساب سے دیکھیں تو میتھی ایک بہترین غذا ہے-

لڑکیوں کو چاہیے کہ میتھی کا استعمال زیادہ کریں کیونکہ ہارمونز کے عدم توازن کی وجہ سے ہی بانجھ پن بھی پیدا ہوتا ہے“-

“ لڑکیوں کو چاہیے کہ میتھی کی سبزی کھائیں یا پھر اس کا قہوہ بنا کر پئیں“-

چاہے کسی قسم کے بھی ہارمون میں عدم توازن ہو یہاں تک کہ ان کی وجہ سے مخصوص ایام میں بےقاعدگی ہی کیوں نہ ہو تو ایسی لڑکیوں کو چاہیے کہ بینگن کا استعمال زیادہ کریں یا پھر جامن کے پتوں کا قہوہ بنا کر پئیں“-

ڈاکٹر بلقیس کا کہنا ہے کہ “ ہارمونز کے عدم توازن کی وجہ سے بڑھنے والے وزن کو کم کرنے کے لیے کریلے٬

 جامن کے بیج اور میتھی دانہ پیس کر اور اس کا قہوہ بنا کر پئیں-

ایسی چیزوں کو جوس کی شکل میں پینے سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے اور اگر ایسا نہ کرسکیں تو پھانک کر پانی بھی پی سکتی ہیں“-

“ اس کے علاوہ غذا کے ساتھ ساتھ چہل قدمی کرنا بھی ضروری ہے- اگر چہل قدمی تھوڑی تیز رفتاری کے ساتھ کی جائے تو اس سے چربی بھی جلتی ہے“-

“ آپ کو چاہیے کہ نظامِ ہضم کو تیز بنانے کے لیے مختلف حصوں میں تھوڑا تھوڑا کھائیں“-

ڈاکٹر بلقیس کا کہنا ہے کہ “ ہمارے پاس آنے والی اکثر لڑکیوں کا یہ کہنا ہوتا ہے کہ میں تو کچھ نہیں کھاتی یا پھر رات میں صرف ایک چپاتی کھاتی ہوں لیکن پھر بھی میرا وزن بڑھ رہا ہے“-

“ یہ حقیقت بھی ہے کہ وہ واقعی کچھ نہیں کھاتیں لیکن اس نہ کھانے کی وجہ سے ان میں آئرن کی کمی واقع ہوجاتی ہے جس کے باعث ان کا جگر چربی بنانے لگتا ہے“-

“ اس لیے ایسا نہ کریں اور غذا مکمل کھائیں اور ساتھ میں ورزش بھی ضرور کریں“-

ڈاکٹر بلقیس کے مطابق “ بڑی عمر کی خواتین یعنی 40 سال کی عمر سے زیادہ کی خواتین کو اکثر پیٹ کے اپھارہ پن کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے

 اور یہ خواتین صرف پیٹ کا علاج کرواتی ہیں- لیکن انہیں چاہیے کہ وہ ہر 6 ماہ میں ایک مرتبہ اپنا papsmear ٹیسٹ لازمی کروائیں“-

“ بیشتر خواتین کو اپھارہ پن کے ساتھ وائٹ ڈسچارج کا مسئلہ بھی درپیش ہوتا ہے اور وہ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے گبھراتی ہیں-

 لیکن ایسا نہ کریں اور ڈاکٹر کو مکمل معلومات فراہم کریں کیونکہ ہر درد پیٹ کا نہیں ہوتا“-

“ اگر آپ صبح ٹھیک اٹھتی ہیں لیکن گزرتے دن کے ساتھ آپ کا پیٹ غبارے کی طرح پھولنے لگتا ہے اور سفید پانی بھی آرہا ہے تو آپ کو چاہیے کہ ڈاکٹر کو لازمی آگاہ کریں“-

ڈاکٹر بلقیس نے اس بیماری کا دیسی ٹوٹکا یہ بتایا کہ دیسی کیکر اور مصری ملا کر پیس لیں اور دن میں 2 سے 3 مرتبہ کھائیں-

جن خواتین کو شوگر ہو وہ مصری کی جگہ میتھی استعمال کریں- یہ تمام اشیا ہم وزن ہونی چاہئیں-

اس کے علاو ایسی خواتین جن کی عمر 40 سال سے زائد ہو اور انہیں ان مسائل کے ساتھ

 بہت زیادہ کمر میں درد بھی ہوتا ہو وہ اپنا papsmear ٹیسٹ لازمی کروائیں- اس ٹیسٹ سے ایک خاص کینسر کی نشاندہی ہوتی ہے-

ڈاکٹر بلقیس کا کہنا ہے کہ “ایسے بے اولاد جوڑے جن کی تمام رپورٹس بالکل ٹھیک ہوتی ہیں لیکن پھر بھی وہ اولاد کی نعمت سے محروم ہوتے ہیں

 تو ایسے بے اولاد جوڑوں میں مرد حضرات کونج کے بیج٬ ازکن (Azgandh) ٬ اور سفید موسلی ہم وزن لے کر صبح و شام دودھ کے ساتھ ایک چمچ خالی پیٹ کھائیں“-

“ بے اولاد خواتین ازکن (Azgandh)٬ مصری اور دیسی کیکر پیس کر صبح و شام خالی پیٹ ایک چمچ کھائیں- اور رات کو سونے سے قبل مولی کے بیج کھائیں٬ انشاﺀ اﷲ بے اولاد نہیں رہیں گے“-

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *