موٹرے وے زیادتی کیس کا مرکزی ملزم عابد گرفتار

لاہور: موٹر وے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کو فیصل آباد سے گرفتار کرلیا گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق موٹر وے پر خاتون سے زیادتی کے مرتکب دو ملزمان میں سے ملزم شفقت کے بعد اب مرکزی ملزم عابد ملہی کو واقعے کے 33 دن بعد گرفتار کرلیا گیا۔

 پولیس کے مطابق ملزم کو فیصل آباد کے علاقے مانگا منڈی سے گرفتار کیا گیا جسے لاہور منتقل کیا جارہا ہے۔

پنجاب حکومت کے ترجمان شہباز گل نے ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ملزم کو قانون کے مطابق سزا ملے گی۔

موٹر وے پر خاتون سے زیادتی کا معاملہ ہائی پروفائل کیس بننے کے بعد سے عابد اپنے گھر سے فرار تھا اور چھلاوہ بن گیا تھا۔

 پولیس نے ملزم کی بیوی، کئی عزیزوں اور دوستوں کو بھی گرفتار کیا اور ہر طرح کی معلومات حاصل کیں تاہم ملزم کسی طور ہاتھ نہ آیا۔

ملزم کی گرفتاری کے لیے خفیہ اطلاعات پر پولیس نے چار بار چھاپے مارے تاہم ہر بار وہ چھاپے سے کچھ دیر قبل فرار ہوجاتا تھا۔

یہ پڑھیں : موٹروے زیادتی کیس کا مرکزی ملزم تیسری بار بھی پولیس چھاپے سے قبل فرار

پنجاب پولیس نے عابد کو موسٹ وانٹڈ ملزم قرار دیتے ہوئے اس کی گرفتاری پر 25 لاکھ روپے انعام مقرر کر رکھا تھا

 جب کہ پنجاب بھر میں مختلف سیکیورٹی اداروں کی متعدد ٹیموں اور اہل کاروں کو ملزم کی گرفتاری کا ٹاسک دیا ہوا تھا۔

پنجاب پولیس نے ملزم کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے اس کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرتے ہوئے

 اطلاع ملک بھر کے ایئرپورٹس اور بارڈر تک پہنچائی گئی تاکہ ملزم کسی بھی طرح ملک سے باہر نہ جاسکے۔

پولیس نے عابد ملہی کا شناختی کارڈ بلاک کیا، ملزم کے سات مختلف خاکے جاری کیے تاکہ وہ بہروپ بدلنے پر بھی

 پہچانا جاسکے تاکہ کورونا وائرس کی وبا کے سبب ماسک پہننے کے باعث ہر بار ملزم کو بچ نکلنے میں آسانی ہوئی۔

ایک اور ملزم شفقت پہلے سے گرفتار

زیادتی کیس میں ملوث ایک ملزم شفقت پہلے سے گرفتار ہے جسے دیپالپور سے حراست میں لیا گیا

 جسے لاہور منتقل کیا گیا۔ ملزم شفقت سابقہ ریکارڈ یافتہ ہے

 اور اس نے پولیس کے سامنے اعتراف جرم بھی کیا۔ ملزم تاحال جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے۔

موٹروے زیادتی کیس کا ایک ملزم گرفتار، زیادتی کا اعتراف

شفقت کا ڈی این اے بھی متاثرہ خاتون کے نمونوں سے میچ کرگیا، فوٹو: ایکسپریس

گرفتار ملزم شفقت کی تصویر

 شفقت کا ڈی این اے بھی متاثرہ خاتون کے نمونوں سے میچ کرگیا تھا جس کے نتیجے میں پولیس کے ہاتھ حتمی ثبوت آگیا۔

 ملزم شفقت علی بہاونگر کی تحصیل ہارون آباد چک نمبر 192 سیون آر کا رہائشی ہے۔

موٹروے زیادتی کیس کا پس منظر

گجر پورہ کے علاقے میں 9 ستمبر کو موٹروے پر انسانیت سوز واقعہ سامنے آیا تھا۔

گوجرانوالہ کی رہائشی خاتون اپنی بہن سے ملنے کے لیے لاہور آئی تھیں۔

واپسی کے دوران کار کا پیٹرول ختم ہوگیا، خاتون نے اپنے عزیز کو اطلاع کردی اور وہ مدد کے انتظار میں گاڑی سے اتر کر کھڑی ہوگئیں۔

اس دوران دو مشکوک افراد خاتون کی جانب آئے، جنہیں دیکھ کرخاتون اپنے بچوں کے ساتھ گاڑی میں محصورہوگئیں۔

ڈاکوؤں نے خاتون کو شیشے کھولنے کے لیے کہا جب خاتون نے شیشے نہ کھولے تو ڈاکوؤں نے شیشے توڑ کر گن پوائنٹ پر انہیں گاڑی سے اتار کر کیرول گھاٹی میں واقع کھیتوں میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔

ملزم شفقت نے اپنے بیان میں بتایا کہ ڈاکوؤں نے خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا،

خاتون گاڑی کے شیشے نہیں کھول رہی تھیں اور شیشے ٹوٹنے پر گرفت میں آنے کے بعد مزاحمت کررہی تھیں جس پر خاتون کے بچوں کے سر پر اسلحہ رکھ کر انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

بعد ازاں خاتون کی حالت غیر ہونے پر دونوں خاتون کو وہیں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ ڈاکو خاتون سے ایک لاکھ نقدی ،

 2 تولے طلائی زیورات، ایک عدد طلائی کڑا ، گاڑی کا رجسٹریشن کارڈ اور 3 اے ٹی ایم کارڈز لے کر فرار ہو گئے۔

خاتون کا عزیز جب گاڑی کے پاس پہنچا تو خاتون وہاں سے غائب تھیں اور گاڑی کے شیشے پر خون لگا ہوا تھا ۔

تلاش کرنے پر خاتون کے عزیز کو کرول گھاٹی کے جنگل کے پاس خاتون گاڑی کی طرف آتی ہوئی ملیں جس پر خاتون نے روتے ہوئے ساری بات بتائی۔

پولیس نے خاتون اور ان کے عزیز کے بیان پر مقدمہ کرکے سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ملزمان کی تلاش شروع کی۔

خاتون کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں بھی زیادتی ثابت ہوئی۔ پولیس نے خاتون کی شناخت ظاہر نہ کرنے کا فیصلہ کیا،

ابتدائی کئی روز تک خاتون بیان دینے کے قابل نہیں رہیں بعدازاں وہ باقاعدہ بیان دینے پر آمادہ ہوئیں۔

خاتون سے زیادتی کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی،

تمام میڈیا چینل اسے نشر کرتے رہے، نیوز وائرل ہونے پر وزیراعظم نے موٹر وے زیادتی کیس اور کراچی میں پانچ سالہ بچی مروہ کے

 زیادتی و قتل کا نوٹس لیتے ہوئے دونوں کیسز کو فوری حل کرنے کی ہدایت کی تاہم ملزم عابد کے مفرور ہونے کے سبب معاملہ طول پکڑگیا تھا۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Articles You May Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *