خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق ؓکی توہین کرنے والا قومی مجرم،

کراچی (این این آئی)وفاقی وزیر مذہبی امور بین المذاہب ومسالک ہم آہنگی ڈاکٹر پیر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ ملک میں مسلکی ہم آہنگی کے لیے پیغام پاکستان کانفرنس سے منظور ہونے والے فتاوی جات کو قانونی شکل دینے کے لیے جلد اسمبلی میں بل کی شکل میں منظور کرلیا جائے گا۔ ایک شخص نے خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق کی جو توہین کی وہ قومی مجرم ہے ، ہم جلد اس کو عوام

کے سامنے لائیں گے اور میں کہوں گا کہ بیڑیاں ڈال کر لایا جائے۔ شیعہ سنی میں مذہبی اختلاف صدیوں سے موجود ہے۔

 لیکن اس کے باوجود برداشت اور احترام کے ساتھ پوری دنیا میں رہ رہے ہیں جبکہ مجلس صوت الاسلام کے وائس چیئرمین مفتی ابوبکر محی الدین نے کہا ہے۔

 کہ مسلکی اور مذہبی اختلافات کی شدت کو کم کرنے کے لیے اتحاد مدارس دینیہ ، ملی مجلس یکجہتی کونسل اور متحدہ مجلس عمل ہمارے لیے رول ماڈل ہے،

جہاں پر ایک پلیٹ فارم پر سب جمع ہوتے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو مقامی ہوٹل میں صوت الاسلام پاکستان کے زیر اہتمام عظمت صحابہ واہل بیت کانفرنس بعنوان بین المسالک ہم آہنگی وپرامن بقائے باہمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مولانا خواجہ عزیز احمد، وفاقی پارلیمانی سیکریٹری آفتاب جہانگیر، ہیئت آئمہ مساجد علما امامیہ کے جنرل سیکریٹری علامہ رضی حیدرزیدی،پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان،

جمعیت اہلحدیث سندھ کے امیر مولانا یوسف قصوری، دعو اکیڈمی کراچی کے ڈائریکٹر مولانا سید عزیز الرحمن ،مولانا جمیل الرحمن فاروقی ،مرکزی جمعیت اہلحدیث کے مولانا خلیل الرحمن جاوید اور سیلانی ویلفیئر کے مفتی محمد عادل اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔مولانا نور الحق قادری نے ہمیں جون میں بعض اداروں کی جانب سے اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ محرم الحرام میں

ملک میں دشمن عناصر مذہبی فسادات کے لیے سرگرم ہیں۔اس پر ہم نے تمام مکاتب فکر کے علما سے رابطہ کیا اور تدارک کے لیے اقدام کیے، کراچی نہ صرف پاکستان کا معاشی حب بلکہ مذہبی دارالحکومت بھی ہے۔

کراچی کے حالات کے اثرات مثبت اور منفی اثرات ملک بھر میں پڑتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ شیعہ اور سنی نظریاتی اختلاف صدیوں سے ہے اور دونوں اپنے موقف کے ساتھ

دنیا میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ قیام پاکستا ن کے وقت علامہ شبیر احمد عثمانی، مولانا حامد بدایونی اور دیگر نے قائد اعظم محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کا مسلک نہیں پوچھا بلکہ اسلامی ریاست کے لیے مل کر جدوجہد کی۔

فتنہ رد قادیانیت ہو یا پاکستان کے ازلی دشمن کے خلاف جنگ ہو ، سب نے مل کر لڑی ہے ، انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ پیغام پاکستان ایک بہترین کاوش ہے جس

میں ہزاروں علمائے کرام نے فتوے دیے ہیں اور اب ہم اس کو مزید بہتر بناکر قانونی شکل دے رہے ہیں

 اور جلد قومی اسمبلی سے بل کی صورت میں منظور کروایا جائے گا۔حضرت ابوبکر صدیق کے حوالے سے ایک شخص کی انتہائی نازیبا گفتگو کی وجہ سے مسلمانوں کے دل چھلنی ہوگئے۔

لیکن میں آج اس کانفرنس میں بتارہا ہوں کہ اس کیخلاف سب سے پہلا ردعمل مجھے علامہ ساجد نقوی

اور علامہ واحدی نے دیااور مجھ سے رابطہ کرکے کہا کہ ایسے لوگوں کو ہمیں روکنا ہوگا اور ان کے عمل سے بیزاری کا اعلان کیا ، انہوں نے کہا کہ یہ شخص کیسے یہاں سے فرار ہوا اس کی تحقیق ہورہی ہے،

 اس جرم میں شامل کسی بھی فرد کو معاف نہیں کیا جائے گا، یہ شخص قومی مجرم ہے اور میں تو کہتا ہوں کہ جہاں بھی ہے پائوں پر بیڑیاں ڈال کر لایا جائے، انہوں نے کہا کہ سوشل

میڈیا فتنہ ہے اور نفرتوں کو فروغ دیتا ہے اور لمحوں میں آگ لگاتا ہے ہمیں اس کا مقابلہ کرنا ہے ، علمائے کرام سے کہا کہ وہ جمعے کے خطبات میں احتیاط کریں کیونکہ بیرونی قوتیں ملک میں مذہبی فساد کے لیے کوشاں ہیں ۔

پہلے انہوں نے لسانی اور دیگر طبقات کو لڑانے کی کوشش کی اب انہوں نے رخ مذہبی طبقے کی طرف کیا ہے۔مجلس صوت الاسلام نے بین المسالک ہم آہنگی کا جو

بیڑا اٹھایا ہے، اس کو آگے بڑھایا جائے اور حکومت ہرممکن تعاون کرے گی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مولانا خواجہ عزیز احمد نے کہا کہ صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار کی توہین میں جو بھی ملوث ہیں ان کیخلاف تحقیقات جاری ہیں۔

 اور کچھ کے خلاف مقدمات درج ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔مجلس صوت الاسلام کے وائس چیئرمین مفتی ابوبکر محی الدین

نے کہا کہ صحابہ کرام اور اہل بیت امت مسلمہ کے محسن ہیں، ان کی محنت سے یہ دین ہم تک پہنچا ہے،آج دشمن حساس معاملات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں ، وہ مذہبی فسادات چاہتے ہیں،

 ماضی میں بھی یہ کوشش کرچکے ہیں جس میں دونوں جانب کے کئی اکابر ان فسادات کے نشانہ بنے ، انہوں نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے اکابر نے تفرقے کو ختم کرنے کے لیے مثبت

کوششیں کی اور کسی حد تک معاملات بہتر ہوئے، متحدہ مجلس عمل سے لوگوں کا سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن اس کا ایک مثبت پہلو یہ تھا کہ اس میں تمام مکاتب فکر کے اکابر ایک پلیٹ فارم پر جمع تھے،

اتحاد تنظیمات مدارس کے پلیٹ فارم پر بھی ہم سب متحد ہوتے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ باہمی مشاورت سے ایک متفقہ فارمولا طے کرکے اس کو نصاب کا حصہ بنایا جائے

تاکہ ہماری آنے والی نسل ان تفرقات سے محفوظ رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجلس صوت الاسلام پاکستان نے گزشتہ 25سال سے وطن عزیز میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے قیام اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔

مفتی ابوبکر محی الدین نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں تمام اقوام، تمام مسالک اور تمام مذاہب قرآن وحدیث کی تعلیمات اور بانی پاکستان قائداعظم

محمد علی جناح کے فرمان کے مطابق یک جان دو قالب کی طرح زندگی گزاریں اور سب مل کر ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کریں،

انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے تمام مسالک کے سرکردہ رہنمائوں کو مل بیٹھنا ہوگا اور بیرونی ایجنڈے کو ناکام بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ہمیں اونچی سطح پر بھی اور گراس روٹ

لیول پر بھی کمیٹیاں بنانی ہوں گی جو اپنے کارکنوں اور ورکروں میں رواداری اور برداشت کا ماحول پیدا کریں۔علاوہ ازیں کانفرنس میں مشترکہ اعلامیہ پیش کیا گیا جس میں کہا گیا۔

 کہ حالیہ فضا کے پیچھے پاکستان دشمن قوتیں سرگرم ہوچکی ہیں۔تمام مسالک کے سرکردہ علما ، ذاکرین اور رہنمائوں کو اس حساس صورت کا گہرائی سے جائزہ لینا ہوگا اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے اپنا موثر

کردار ادا کرنا ہوگا اور فرقہ وارانہ، منافرت کی سازش کو ناکام بنانے ،تمام مسالک کی مقدس شخصیات کی ناموس کے تحفظ کے لیے اور مستقبل میں ایسی سازشوں کی روک تھام کے لیے موثر قانون سازی کرنا ہوگی۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ امن وسلامتی اور استحکام پاکستان کے خلاف ہونے والی دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنانے کے لیے ہمیں

ہر سطح پر اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور اپنی صفوں میں موجود ایسے عناصر کا راستہ روکنا ہوگا جو معاشرے میں نفرت وعداوت کا بیج بوکر ہمارے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

کانفرنس میں تمام مکاتب فکر کے نمائندہ ،علمائے کرام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مجلس صوت الاسلام کے عمل کو قابل تحسین قرار دیا۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Articles You May Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *