نواز شریف کی اے پی سی میں سخت تقریر کرنے کی وجہ سامنے آ گئی

نواز شریف کی اے پی سی میں سخت تقریر کرنے کی وجہ سامنے آ گئی باپ بیٹی ایک سال سے خاموش تھے،آرمی چیف سے ملاقات میں شریف فیملی کے مقدمات پر بات ہوئی،

جواب ملا کہ یہ عدالتی معاملہ ہے،ہم کچھ نہیں کر سکتے،جس کے ردِعمل میں نواز شریف نے سخت تقریر کی۔ ارشاد عارف

لاہور( 24 ستمبر2020ء) سابق وزیراعظم نواز شریف نے گذشتہ ہفتے ہونے والی اے پی سی میں انتہائی سخت تقریر کی تھی جس کے بعد سیاسی میدان میں کئی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں اور یہ بھی انکشاف کیا گیا .

کہ لیگی رہنماؤں نے عسکری قیادت سے خفیہ ملاقاتوں میں ریلیف مانگا۔اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ارشاد عارف کا کہنا ہے

کہ ملاقاتیں ہوئی ہیں لیکن مریم نواز نے ملاقاتوں کی تردید کر کے خود کے لیے مشکل کھڑی کر دی ہے۔میری اطلاع کے مطابق وزیر ریلوے شیخ رشید اپنی پریس کانفرنس میں مزید باتیں بتائیں گے۔

احسن اقبال ، شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف نے بھی ملاقاتیں کیں جن میں شریف خاندان کے لیے منی لانڈرنگ کے معاملات زیر بحث آئے،انہوں نے یہی مطالبہ کیا کہ ان مقدمات سے انہیں ریلیف دلائیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سابق گورنر سندھ اور رہنما ن لیگ محمد زبیر نے نواز شریف اور مریم نواز کے حوالے سے گفتگو کی۔

میری اطلاع کے مطابق ملاقات میں شریف فیملی کے مقدمات پر بات ہوئی لیکن جب وہاں سے جواب ملا کہ یہ عدالتی معاملہ ہے،

ہم کچھ نہیں کر سکتے تو اس کے ردِعمل میں نواز شریف نے سخت تقریر کی ورنہ باپ بیٹی ایک سال سے خاموش تھے.

خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے اے پی سی میں تقریر کے دوران کہا کہ کہا ہے کہ اپوزیشن کی جدوجہد عمران خان کے خلاف نہیں ان کو اقتدار میں لانے والوں کے خلاف ہے ۔

 نواز شریف نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ اگرہم آج فیصلے نہیں کرینگے تو کب کرینگے ہمیں رسمی اور روایتی طریقوں سے ہٹ کر کانفرنس کو با مقصد بنانا ہوگا ورنہ قوم کو مایوسی ہوگی ،

یہاں یا تو مارشل لا ہوتا ہے یا پھر منتخب جمہوری حکومت سے کہیں زیادہ طاقت ور متوازی حکومت قائم ہوجاتی ہے اور ایک متوازی نظام چلتا ہے،

عوام کے حق حکمرانی کو تسلیم نہ کرنے اور نتیجتاً متوازی حکومت کا مرض ہی ہماری مشکلات اور مسائل کی اصل جڑ ہے۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Articles You May Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *