روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ: بیرون ملک پاکستانیوں کو کیا سہولیات میسر ہوں گی؟

روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ: بیرون ملک پاکستانیوں کو کیا سہولیات میسر ہوں گی؟
سٹیٹ بینک آف پاکستان
،تصویر کا ذریعہSTATE BANK OF PAKISTAN
بینک میں اکاؤنٹ کھلوانا ہو تو پہلی چیز جو ذہن میں آتی ہے وہ مطلوبہ کاغذات کا ایک سیٹ بنانا، فارم پُر کر کے اُس پر دستخط اور انگوٹھا ثبت کرنا ہوتا ہے اور بیرون ملک ہونے کی صورت میں قونصل خانے جانا اور مزید طویل مشقت برداشت کرنا شامل ہے۔

مگر رواں ماہ پاکستان نے ایک ایسی ہی سہولت متعارف کرائی ہے جس کے بعد آپ امریکہ، کینیڈا یا دبئی میں بیٹھ کر بھی کراچی، لاہور یا اسلام آباد میں اپنے گھروں کے بجلی کے بل اور بچوں کی فیس جمع کرا سکتے ہیں۔

یعنی اب آپ سمندر پار بیٹھ کر بھی پاکستان میں اپنے گھر کے مالی معاملات خود چلا سکتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے رواں ماہ کی دس تاریخ کو بیرون ملک پاکستانیوں کی سہولت کے لیے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کا افتتاح کرتے ہوئے انھیں ملک کے اندر مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کا کہا ہے۔

روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے اب ’نان ریذیڈنٹ پاکستانی‘ یا بیرون ملک مقیم پاکستانی بینک برانچ، سفارتخانے یا قونصلیٹ جائے بغیر ڈیجیٹل اور آن لائن طریقے سے اکاؤنٹ کھول سکیں گے۔ یہ عمل صرف 48 گھنٹوں میں مکمل ہو سکے گا۔

صارفین اپنے اکاﺅنٹ کے لیے فارن کرنسی یا پاکستانی روپے یا دونوں کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ ان اکاﺅنٹس میں فنڈز مکمل طور پر واپس منتقل ہو سکیں گے اور اس کے لیے کسی ریگولیٹری منظوری کی ضرورت نہیں ہو گی۔

خیال رہے کہ اس وقت 90 لاکھ کے قریب پاکستانی بیرون ملک رہ رہے ہیں اور وہ سالانہ اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے 23 بلین ڈالر ترسیلات زر پاکستان بھیجتے ہیں۔ اب اس روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سے حکومت کے خیال میں ترسیلات میں مزید اضافہ ہو گا جس سے قرضوں کا بوجھ بھی کم ہو سکے گا۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایسے آٹھ پاکستانی کمرشل بینکوں سے مل کر بیرون ملک پاکستانیوں کی سہولت کے لیے ڈیجیٹل اکاؤنٹ کا نظام متعارف کرایا ہے۔

اکاؤنٹ کھلوانے کا طریقہ کار بتانے سے قبل ان آٹھ بینکوں کا نام جاننا ضروری ہے جہاں آپ گھر بیٹھے اکاؤنٹ کھلوا سکتے ہیں۔

اس میں بینک الفلاح، فیصل بینک، میزان بینک، ایم سی بی، سامبا بینک، سٹینڈرڈ چارٹرڈ، یو بی ایل اور حبیب بینک شامل ہیں۔

بینک کا انتخاب: سب سے پہلے ان آٹھ بینکوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں
فارم پر کریں: اس بینک کی ویب سائٹ پر جا کر اکاؤنٹ کھولنے سے متعلق ڈیجیٹل فارم پر کلک کریں اور اسے پُر کریں
اکاؤنٹ ٹائپ: اس کے بعد آپ کو اپنے اکاؤنٹ کی قسم کا انتخاب کرنا ہو گا کہ آپ اس اکاؤنٹ کو پاکستانی کرنسی میں کھلوانا چاہتے ہیں یا یہ کسی دوسرے ملک کی کرنسی آپ کی ترجیح ہے
دستاویزی ثبوت: بینک آپ سے آپ کے پاسپورٹ، شناختی کارڈ، بیرون ملک رہنے کا ثبوت اور ذریعہ آمدن یعنی کاروبار یا ملازمت کے بارے میں دریافت کرے گا۔ اس کے لیے آپ کو ان دستاویزات کی سکینڈ کاپی اپ لوڈ کرنا ہو گی
ذریعہ آمدن کا ثبوت: اگر آپ ملازمت پیشہ ہیں تو پھر آپ کو سیلری سلپ یا ملازمت کے سرٹیفیکیٹ کی سکینڈ کاپی اپ لوڈ کرنا ہو گی۔ اگر آپ تاجر ہیں تو پھر آپ کے لیے ٹیکس ریٹرن، مکان کا کرایہ نامہ یا ذریعہ آمدن کا کوئی اور ثبوت پیش کرنا ہو گا
تصدیقی پیغام: یہ سب کرنے کے بعد اب آپ 48 گھنٹوں کے اندر اکاؤنٹ کھل جانے سے متعلق تصدیقی پیغام کا انتظار کریں
رقوم کی منتقلی: بینک اکاؤنٹ کھل جانے کے بعد آپ جس ملک میں ہیں وہاں سے بینک کے ذریعے اپنے اکاؤنٹ میں فنڈز ٹرانسفر کر سکتے ہیں

ڈیجیٹل اکاؤنٹ: ’سرمایہ کاری کے مواقع‘

وزیراعظم عمران خان نے بیرون ملک پاکستانیوں کو بینکنگ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کروڑوں نان ریذیڈنٹ پاکستانیوں کو فنڈ ٹرانسفرز، بلوں کی ادائیگی اور پاکستان میں سرمایہ کاری سے متعلق سرگرمیوں کے حوالے سے جدید بینکنگ سہولیات فراہم کرے گی۔

عمران خان نے کہا کہ ’میں بتانا چاہتا ہوں اوورسیز پاکستانی زیادہ محب وطن ہیں، اوورسیز پاکستانیوں نے جس طرح ہماری مدد کرنی تھی وہ نہیں ہوسکی۔ ہمارے ملک میں دوہری شہریت والے کو ایسا سمجھا جاتا ہے جیسے وہ کوئی غدار ہیں۔ بڑے منصوبوں میں تارکین وطن کی سرمایہ کاری یقینی بنائیں گے۔‘

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملکی ٹیکس کا آدھے سے زیادہ پیسہ قرضوں کی واپسی میں چلا جاتا ہے۔

اقتصادی امور کے ماہر مزمل اسلم نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اکیسویں صدی کی پراڈکٹ ہے، جس سے پاکستان بے تحاشا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے اس اقدام سے بیرون ملک پاکستانیوں کو یہ سہولت ہو گی کہ وہ مناسب شرح سود پر اپنے پیسے ان اکاؤنٹس میں رکھیں۔

ان کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اس بات کی اجازت ہو گی کہ وہ جب چاہیں اپنا پیسہ بغیر حکومتی اجازت کے واپس نکال سکتے ہیں۔ مزمل اسلم کے مطابق اس عمل کے لیے درکار دستاویزات کی تعداد اس لیے زیادہ ہے تاکہ شرپسند عناصر اپنی کارروائیوں کے لیے ان اکاؤنٹس کا استعمال نہ کر سکیں اور ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے مطابق ان اکاؤنٹس کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر باقر رضا نے بھی اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جب کوئی ڈیجیٹل اکاؤنٹ سے پیسہ واپس نکالنا چاہے گا تو اس میں سٹیٹ بینک سمیت کوئی بینک بھی کسی قسم کی رکاوٹ نہیں بنے گا۔

باقر رضا کے مطابق نیا پاکستان سرٹیفیکٹ سکیم کے تحت بیرون ملک پاکستانیوں کو ڈالر اور پاکستانی روپے میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع بھی مہیا کیے جائیں گے۔

گورنر سٹیٹ بینک باقر رضا کے مطابق بیرون ملک پاکستانیوں کو پراپرٹی کے کاروبار کے علاوہ ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی مدد سے پاکستان کی سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔

مزمل اسلم کے مطابق اس اکاؤنٹ سے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھنے کے امکانات بھی روشن ہو گئے ہیں۔

ان کے خیال میں اس وقت باہر کے ممالک میں شرح سود صفر کے قریب ہے تو بیرون ملک پاکستانیوں کے پاس اپنا پیسہ پاکستانی بینکوں میں رکھنے کی بھی سہولت ہوگی، جس سے نہ صرف انھیں فائدہ ہو گا بلکہ ملک کا بھی فائدہ ہو گا۔

مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کا توازن برقرار رکھنے کے لیے پاکستان سعودی عرب جیسے ممالک پر انحصار کرتا رہا ہے مگر وہ سخت شرائط پر پیسہ رکھتے تھے، زیادہ شرح سود بھی وصول کرتے تھے اور پھر کسی بھی وقت پیسہ بھی واپس نکال لیتے تھے، جس سے پاکستان کو دیرپا فائدہ نہیں ہوتا تھا۔ ان کے خیال میں اب پاکستان نے درست سمت کا انتخاب کیا ہے۔

 

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

One response to “روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ: بیرون ملک پاکستانیوں کو کیا سہولیات میسر ہوں گی؟”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *