علامہ ضمیر نقوی انتقال کر گئے

مایہ ناز مذہبی اسکالر علامہ ضمیر اختر نقوی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔قریبی رفقاء کے مطابق علامہ ضمیر اختر نقوی کو رات گئے نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا،مرحوم کی میت انچولی امام بارگاہ منتقل کی جائے گی۔

علامہ ضمیر اختر نقوی بھارتی شہر لکھنؤ میں پیدا ہوئے، وہ خطیب کے ساتھ ساتھ شاعر بھی تھے ،انہوں نے شاعری، مرثیہ نگاری سمیت درجنوں کتابیں لکھیں۔علامہ ضمیر اختر نقوی نے شہزاد قاسم ابن حسن پر 2 جلدوں پر مشتمل سوانح تحریر کی،ان کی تصنیف معراجِ خطابت 5 جلدوں پر مشتمل ہے۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے علامہ ضمیر اختر نقوی کے انتقال پر اظہارِ افسوس کیا ہے۔گورنر سندھ کے ترجمان کے مطابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے مرحوم علامہ ضمیر اختر نقوی کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا ہےکہ اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، آمین

اختر نقوی کی پیدائش برطانوی ہند میں ہوئی تھی۔ وہ 24 مارچ 1944ء میں بھارت شہر لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام سید ظہیر حسن نقوی تھا جب کہ ان کی والدہ کا نام سیدہ محسنہ ظہیر نقوی تھا۔

پیدائش کے وقت نام ظہیر رکھا گیا تھا۔ 1967ء میں وہ نقل مقام کر کے پاکستان چلے گئے اور مستقلًا کراچی شہر میں سکونت اختیار کیے۔ تعلیمی اعتبار سے وہ لکھنؤ کے حسین آباد اسکول سے میٹرک پاس کیے اور گورنمنٹ جوبلی کالج، لکھنؤ سے انٹرمیڈیٹ مکمل کیے۔ انہیں گریجویشن کی سند شیعہ کالج لکھنؤ سے حاصل ہوئی۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Articles You May Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *