6 ستمبر کا جذبہ

ہم ہر سال 6 ستمبر کو قومی دن کے طور پر مناتے ہیں۔ اس دن پاک فوج کی دفاعی کارکردگی اور لازوال قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے اور جنگ ستمبر کے قومی ہیروز کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔

 اس دن کو منانے کا ایک مقصد پاکستان کی دفاعی و عسکری قوت کو مضبوط بنانے کا عزم بھی ہے تاکہ ہر آنے والے مشکل دور اور جنگی صورت حال میں دشمن کے کسی بھی ممکنہ حملے سے بچنے کےلیے احسن طریقے سے نمٹا جاسکے۔

ہر سال پوری قوم اس دن سے جڑی سنہری یادوں کو یاد کرتی ہے اور سرکاری و عسکری اداروں میں تقریبات کا انعقاد کرکے اس عزم کا اظہار کیا جاتا ہے.

 کہ جنگ ستمبرمیں جن شہدا نے جانوں کے نذرانے پیش کیے تھے ہم ان کو نہیں بھولیں گے اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کے تمام ناپاک ارادوں کو خاک میں ملائیں گے۔

6 ستمبر 1965 کا دن پاکستان کی عسکری تاریخ کے اعتبار سے قابل فخر دن ہے۔

 اس لیے کہ آزادی کے صرف 19 سال بعد ہی بھارت اپنے سے کئی گنا چھوٹے اور عسکری و دفاعی وسائل کے اعتبار سے کمزور پڑوسی ملک پر بغیر اعلان کے اندھیرے میں اپنی مکمل طاقت کے ساتھ حملہ آور ہوا تھا۔

مگر پاک فوج نے بھارت کے سارے خواب سراب کردیے۔ اس چھوٹے سے مگر غیور و متحد ملک کی باہمت فوج اور جاں نثار قوم نے بھارت کو لوہے کے چنے چبوائے،

بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی شرمندہ کیا۔ اس حوالے سے برطانیہ کے مشہور جریدے ’’سنڈے میگزین‘‘ نے اپنی 19 ستمبر 1965 کی اشاعت میں لکھا تھا

 ’’پاکستانی فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں کرلیا ہے، بھارتی جنگی طیارے نظر نہیں آتے اور پاکستانی جنگی طیارے ہر سو اڑتے پھر رہے ہیں، مگر ان کو شکار نہیں مل رہا‘‘۔

محب وطن قومیں کبھی اپنے ماضی کو فراموش نہیں کرتیں اور یادوں کو کبھی زنگ آلود نہیں ہونے دیتیں۔ چھ ستمبر کا دن قومی یادوں کے ہار کا خوبصورت مگر خوشبودار پھول ہے۔

 اس لیے جب بھی ماضی کی یادیں تازہ ہوں تو دریچوں کو کھول کر اپنے حسین ماضی پر نظر کرلینا چاہیے۔ جنگ ستمبر کے کئی انمٹ واقعات تاریخ کا حصہ ہیں جو آج کے نوجوانوں کو بتانے کی ضرورت ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ اسکواڈرن لیڈر سجاد حیدر نے انجام دیا تھا، جس کے بعد بھارتی فضائیہ کی کمر ہی ٹوٹ گئی تھی۔

اسکواڈرن لیڈر سجاد حیدر کی قیادت میں چھ ستمبر کے روز پٹھان کوٹ پر تاریخ ساز حملہ کیا گیا۔ اس حملے کےلیے پاک فضائیہ کے آٹھ لڑاکا طیارے روانہ ہوئے۔

حملے سے پہلے دشمن کے ہوائی اڈے کے بارے میں خاطر خواہ معلومات حاصل کرلی گئی تھیں۔ چار بجے کے قریب تمام پائلٹوں کو بریفنگ کےلیے بلایا گیا اور ان کو حملے کی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

 بریفنگ کے آخر میں مشن لیڈر نے پانی کی بالٹی منگوائی اور اس میں یوڈی کلون کی ایک بوتل ڈال دی، جس سے پانی میں خوشبو پیدا ہوگئی۔ چھوٹے چھوٹے سفید تولیے پانی میں ڈبوئے۔

ان خوشبو سے معطر تولیوں کو تمام پائلٹوں کے گلے میں لپیٹ دیا گیا۔ اس کے بعد اسکواڈرن لیڈر سجاد حیدر نے ساتھی پائلٹوں سے کہا ’’ہم ایک نہایت خطرناک مشن کےلیے روانہ ہورہے ہیں۔

 ممکن ہے ہم مادرِ وطن پر نثار ہوجائیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ہمارے جسموں سے خوشبو آئے تاکہ جب ہم اللہ کے حضور پیش ہوں تو ہمارے جسم معطر ہوں‘‘۔

 اس عمل سے تمام پائلٹوں کے حوصلوں اور جذبوں کو تقویت ملی اور وہ نئے جوش و جذبے سے سرشار ہوکر دشمن پر ٹوٹ پڑے۔

پاک فضائیہ کے ان طیاروں نے دشمن کے ہوائی اڈے پٹھان کوٹ کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور پٹھان کوٹ پر کھڑے دشمن کے 7 مگ طیارے،

21 پانچ ہنٹر، ایک سی 119 اور دشمن کی ایئر ٹریفک کنٹرول کی بلڈنگ کا حلیہ بگاڑ دیا۔ یہ حملہ انڈین فضائیہ پر بجلی کی مانند تھا جس کے بعد دشمن کے مگ طیارے جنگ سے مکمل طور پر باہر ہوگئے۔

یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ آزادی کے بعد بھارت کئی حوالوں سے پاکستان کا مقروض تھا۔ دفاعی سازوسامان میں بڑی ہیر پھیر کی گئی تھی۔

 1965 میں پاکستان کو اندرونی و بیرونی کئی طرح کی مشکلات کا سامنا تھا۔ لیکن اگر ہم جنگ ستمبر 1965 کے بعد گزرے 55 سال پر نظر دوڑائیں تو پاکستان نے ہر شعبے میں بے مثال ترقی کی ہے۔

 اس وقت پاکستان نہ صرف دنیائے اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہے بلکہ جوہری ہتھیاروں سے لیس بھارت سے چار قدم آگے ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بھارت ہر سال جنگی جنون میں اربوں ڈالر جھونک دینے کے باجود اسلحہ سازی میں پاکستان سے کئی درجے نیچے ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ جوہری ہتھیار و جوہری مواد روس اور امریکا کے پاس ہے۔ یہ دونوں ملک 5 سے 6 ہزار ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں جبکہ فرانس کے پاس 300، چین کے پاس 250،

 برطانیہ کے پاس 225 اور اسرائیل 80 ایٹمی ہتھیاروں کا مالک ہے۔ بھارت کے پاس 100 جوہری ہتھیار ہیں جبکہ پاکستان 120 جوہری ہتھیار کی موجودگی کا حامل براعظم ایشیا کا واحد اسلامی ملک ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں سے بھی لیس ہے۔

ہماری پاک فوج جدید دفاعی سازوسامان بنانے میں ماہر اور دنیا بھر میں مشہور ہے۔ چھوٹے ہتھیاروں سے لے کر ہزاروں کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائلوں تک،

 جدید بکتر بند گاڑیوں سے لے کر دنیا کے تیز اور موثر ترین ٹینک الخالد تک، مشاق طیاروں سے لے کر جدید لڑاکا طیارے جے ایف 17 تھنڈر تک،

 جنگی بحری جہازوں سے لے کر جدید ترین آبدوزوں تک اندرونِ ملک تیار کیے جارہے ہیں۔ یہ تمام کامیابیاں پاکستان نے بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے حاصل کیں۔

یہاں ایک عشرے تک دہشت گردی کا جن اندھا ناچتا رہا۔ اندرونی و بیرونی سرحدوں پر کٹھن حالات کے باوجود پاکستان نے اپنا دفاع جاری رکھا اور اپنی تمام سرحدوں کی حفاظت کی۔

 آج کے دن ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام عسکری، سیاسی ادارے مل کریہ عہد کرلیں کہ پاک وطن کے دفاع کی خاطر ہر اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ دیں گے،

جس سے ملک و قوم کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہو۔ 6 ستمبر کی جنگ کا جذبہ ہمیں یہی سبق دیتا ہے۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *