نوازشریف کو حکومت ہی نے باہر بھیجا تھا، شہبازشریف

لاہور: قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلات اور مسلم لیگ ن کے مرکزی صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ نوازشریف کو حکومت ہی نے اجازت دیکر باہر بھیجا تھا۔

احتساب عدالت میں پیشی کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے شہبازشریف کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی صحت پر حکومت سیاست کررہی ہے۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ اے پی سی میں تمام سیاسی جماعتیں مل کر کام کریں گی۔ ملک میں مہنگائی بڑھ گئی ہے اور اشیا خورونوش کی قیمتیں بڑھ چکی ہی۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ ن کے مرکزی صدر شہباز شریف منی لانڈرنگ اور اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت کیلئے عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

شہبازشریف نے عدالت میں بیان دیا کہ میرے خلاف بےبنیاد کیسز بنائے گئے ہیں، ایک دھیلے کی کرپشن بھی نہیں کی۔

شہبازشریف نے بیان میں کہا کہ نیب نے 56 روز جسمانی ریمانڈ پر دوسرے کیسز میں رکھا۔ نیب صاف پانی ، آشیانہ اور56 کمپنیز کیس میں کچھ ثابت نہیں کرسکا۔

معزز جج نے ریمارکس دیئے کہ قانون میں جس پر الزام لگتا ہے اس کے بڑے حقوق ہوتے ہیں۔ اگر آپ پر الزامات ثابت نہ ہو سکے تو آپ کو بری کر دیا جائے گا۔

ادھرآپ کو ایسی کوئی چیز نہیں ملے گی جس میں شفافیت نہ ہو۔ مسلم لیگ ن کےمرکزی صدر شہباز شریف نے کہا یقین ہے کہ مجھے انصاف ملے گا۔

احتساب عدالت لاہور نے گزشتہ سماعت پر جیل حکام کو حکم دیا تھا کہ حمزہ شہباز سمیت دیگر گرفتارملزمان کو بھی پیش کیا جائے۔

عدالت نے تفتیشی افسر سے سلمان شہباز، نصرت شہباز، رابعہ عمران اور جویریہ علی پر الزامات کی وضاحت بھی طلب کی تھی۔

تفتیشی افسر سے یہ استفسار بھی کیا گیا کہ جو ملزمان گرفتار نہیں ہوئے ان پر الزامات کی نوعیت کیا ہے؟ ملزمان گرفتار کیوں نہ ہوئے؟ عدالت نے نثار احمد، قاسم قیوم اور راشد کرامت سمیت دیگر تمام ملزمان کو بھی طلب کیا تھا۔

منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کا مؤقف ہے کہ نیب نے بد نیتی کی بنیاد پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنایا ہے اور موجودہ حکومت کے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے نیب نے انکوائری شروع کی ہے۔ انکوائری میں نیب کی جانب سے لگائے گئے الزامات عمومی نوعیت کے ہیں۔

1972 میں بطور تاجر کاروبار کا آغاز کیا اور ایگری کلچر، شوگر اور ٹیکسٹائل انڈسٹری میں اہم کردار ادا کیا جبکہ سماج کی بھلائی کے لیے 1988 میں سیاست میں قدم رکھا۔

2018 میں گرفتار بھی کیا گیا تھا اس دوران بھی نیب کے ساتھ بھر پور تعاون کیا تھا، 2018 میں گرفتاری کے دوران نیب نے اختیارات کے ناجائز استعمال کا ایک بھی ثبوت سامنے نہیں رکھا۔

نیب کا مؤقف ہے کہ شریف فیملی کی منی لانڈرنگ اور بے نامی کمپنیاں’ پچپن کے‘ نامی دفتر سے چلتی تھیں۔

قومی احتساب بیورو کی معلومات کے مطابق 2008 سے 2018 تک شہباز شریف خاندان کے چار ارکین کے اثاثوں میں چار سو پچاس فیصد جبکہ صرف سلمان شہباز کے اثاثوں میں نو سو فیصد اضافہ ہوا۔

2009 میں شریف فیملی کے اثاثے اڑسٹھ کروڑ، تینتیس لاکھ سینتیس ہزار تھی جبکہ 2018 تک اثاثوں کی مالیت تین ارب اڑسٹھ کروڑ پندرہ ہزار روپے تک پہنچ چکی تھی۔

دستاویزات کے مطابق 2008 میں سلمان شہباز کے کل اثاثوں کی مالیت اٹھائیس کروڑ چوبیس لاکھ روپے تھی جو نو سو فیصد اضافے کے بعد 2018میں دو ارب چونتیس کروڑ چھیانوے لاکھ روپے ہو گئے ہیں۔

حمزہ شہباز کے اثاثوں میں دس سال کے دوران تقریباً سو فیصد اضافہ ہوا۔ دستاویزات کے مطابق دس سال پہلے حمزہ شہباز کے اثاثوں کی مالیت اکیس کروڑ بارہ لاکھ روپے تھی جو اب اکتالیس کروڑ اکہتر لاکھ روپے ہوگئی ہے۔

نصرت شہباز کے اثاثے بھی دس سالوں میں تیرہ کروڑ سے بڑھ کر تئیس کروڑ روپے ہو گئے ہیں۔ شہباز شریف کے اثاثے 2008 میں پانچ کروڑ پچپن لاکھ تھے جو اب چھ کروڑ چونسٹھ لاکھ ہو گئے ہیں۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Articles You May Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *