پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ افسر کی معلوماتی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) آج انڈین ائر فورس کے پاس 33 فائٹر سکواڈرن ہیں۔ ہر سکواڈرن میں 16طیارے ہوتے ہیں۔

اور ان کے علاوہ 2ٹریننگ طیارے بھی ہوتے ہیں یعنی ایک سکواڈرن میں 18ائر کرافٹ ہوتے ہیں۔ تربیتی طیارے میں ایک کی بجائے دو نشستیں ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ

انڈیا کے پاس آج 594 فائٹر ائر کرافٹ میں (594=18×33) یہ تعداد انڈین ائر سپیس کے فضائی دفاع کے لئے اور نیز پاکستان اور چین کا مقابلہ کرنے کے لئے کافی و شافی تعداد ہے۔

کہا جاتا ہے کہ پاکستان اور چین کا بیک وقت مقابلہ کرنے کے لئے انڈین ائر فورس کو 42لڑاکا سکواڈرن (756طیارے) درکار ہیں۔پاک فوج کے نامور ریٹائرڈ افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہین ۔

جس کا مطلب یہ ہے کہ انڈیا کو اپنے دونوں حریفوں کا سامنا کرنے کے لئے مزید 150لڑاکا طیارے درکار ہیں۔ لیکن 42سکواڈرن کی یہ تعداد آج سے 40سال پہلے طے کی گئی تھی۔ تب سے اب تک وقت کے پل کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔

آج پرانے طیاروں کو جدید ٹیکنالوجی اور جدید سہولیات سے ہمکنار کرنے کے لئے بہت سے وسائل اور ذرائع پیدا ہو چکے ہیں اور بھارتی فضائیہ ان سے فائدہ اٹھا چکی اور اٹھا رہی ہے۔

ان سہولیات میں طیارے کی شیلف لائف کے وسطی برسوں میں اس کی اہلیتوں کو اَپ گریڈ کرنا، ان طیاروں کے ہمراہ اٹیک ہیلی کاپٹروں اور ”ائربورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم“(Awacs) شامل ہیں!انڈیا کی 42سکواڈرنوں والی متھ (Myth) کا حال بھی سن لیں ۔

انڈیا کا پہلا ہوا باز جہانگیر رتن ٹاٹا تھا جس کو بھارتی حکومت نے اعزازی طور پر میجر جنرل (ائر وائس مارشل) کا رینک دے رکھا ہے۔

اس کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔امبانی اور ٹاٹا، انڈیا کی دو ارب پتی کارپوریٹ کمپنیاں ہیں۔ جہانگیر رتن ٹاٹا بھی ان

میں سے ایک کا بڑا قد آور سپوت شمار ہوتا ہے۔ اسے طیاروں، طیارہ سازی اور ہوابازی کا عشق نہیں، جنون تھا۔ اس کا ذکر پھر کبھی سہی۔

فی الحال قارئین کو یہ بتانا ہے کہ حکومتِ ہندوستان نے 1960ء میں اس کو کہا کہ وہ یہ بتائے کہ ملک کی جاری دفاعی صورت حال کے پیش نظر انڈیا کو اپنے فضائی دفاع کے لئے کتنے فائٹر سکواڈرنوں کی ضرورت ہو گی۔

یاد رہے کہ اس وقت بنگلہ دیش کا کوئی وجود نہ تھا۔ انڈیا کو مشرقی پاکستان، مغربی پاکستان اور چین کی طرف سے فضائی اٹیکس کے خطرات تھے۔ یعنی مشرقی، شمالی اور مغربی جوانب سے خطرات (Threats) کا ایک سلسلہ درپیش تھا۔

اس دور میں انڈین ائر فورس ورلڈ وار دوم میں استعمال ہونے والے امریکی طیاروں کا ایک فضائی بیڑا رکھتی تھی۔ مگ21 رشین فائٹر طیارے تو بعد میں انڈکٹ کئے گئے۔

مسٹر ٹاٹا نے 1960ء میں حکومت کو سفارش کی کہ انڈیا کو اپنے فضائی دفاع کے لئے 42سکواڈرنوں (فائٹر ائر کرافٹ) کی ضرورت ہے۔

تب سے لے کر آج تک 42سکواڈرنوں کی یہ تعداد ہر جگہ کوٹ کی جاتی ہے! 1960ء کے بعد انڈین ائر فورس میں مگ۔21فائٹر شامل کئے گئے جو اپنے دور کے بہترین لڑاکا طیارے شمار کئے جاتے ہیں۔

ان مگ۔21لڑاکا طیاروں کی بہت سی اقسام تھیں جن میں مختلف اوزان (Payloads) کے مگ۔21 شامل تھے۔ یہ طیارے نہ صرف یہ کہ انڈیا کے فضائی دفاع کے ذمہ دار تھے بلکہ سٹرائیک رول اور گراؤنڈ مشنوں میں بھی استعمال ہوتے تھے۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Articles You May Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *