زندگی ایک تماشا ہے

تماشا

بیس پچیس ہزار تماشائیوں کے درمیان میڈرڈ لاس ونٹس ایرینا میں تنومند توانا بیل کو کھلاڑی سُرخ رومال نچا کر دکھاتا ہے. بیل آپے سے باہر ہوجاتا ہے اور اس کھلاڑی کے پیچھے دوڑ لگا دیتا ہے. اسے بُل فائٹنگ کہتے ہیں.

کمال کی بات یہ ہے کہ بیل ہی کیا گائے بھینس کو بھی سرخ رنگ نظر ہی نہیں آتا. یہ بچارے کلر بلائنڈ ہوتے ہیں. ان کو غصہ اس ناچتے مولیٹا یعنی رومال پر آتا ہے. یہ سرخ کی بجائے سفید پیلا سبز بھی کردیں. بیل نے تب بھی یہی ردعمل و تماشا لگانا ہے. سرخ رنگ تو تماشائیوں کیلئے بس اب ایک روایت ہی ہے.

آپ فیس بُک پر دیکھیں ایک ہی جیسے واقعہ پر مختلف افراد کے ردعمل مختلف ہوں گے. کچھ کیلئے یہ گالیوں اور بدتمیزی کا بہانہ بن جائے گا. کچھ کیلئے اظہار نفرت کا کچھ اسی واقعہ پر موافقت شروع کردیں گے. کچھ مخالفت شروع کردیں گے. مختلف کردار تقریباً طے ہوتے ہیں. تماشا لگ جاتا ہے.

آپ نے اس تماشے میں کونسا کردار ادا کرنا ہے یہ آپ کا اختیار ہے. معصوم لیکن بے عقل بیل کا.؟ چالاک لیکن بے حس کھلاڑی کا؟ یا حوصلہ دلاتے منافق تماشائیوں کا؟ یہ تین وہ کردار ہیں جس نے سوشل میڈیا میں مذہب، سیاست اقدار ہر چیز کو اپنے نفس کی تسکین کیلئے تماشا بنانا ہی ہوتا ہے. اس کے علاوہ بھی سوشل میڈیا ہے. لیکن وہ صحت مند لوگوں کی دنیا ہے.

آپ بار بار اگر ایسے تماشوں کے کردار بن جاتے ہیں تب بس ایک کوشش ضرور کریں غصہ ور تندخو بیل نہیں بننا. اس کیلئے آپ کو غصہ چھوڑنا ہوگا. غصہ خود کوئی بیماری نہیں بلکہ بہت سے مسائل اور بیماریوں کی نشانی ہے. آپ کو اگر یہاں بات بات پر غصہ آتا ہے تو آپ یہ فورم چھوڑ دیں. یہ فورم آپ کیلئے نہیں ہے. جن مسائل کی وجہ سے آپ جذباتی کنٹرول میں کمزور ہیں وہ یہاں حل نہیں ہو سکتے ہاں زیادہ پیچیدہ بگڑ ضرور سکتے ہیں. یہاں کھلاڑی بھی بہت ہیں اور تماشائی بھی.

آپ اگر سمجھتے ہیں میں اس ورچوئل دنیا میں سیاست مذہب یا اقدار کی اپنی تعریف دوسرے سے منوا سکتا ہوں. تو یہ آپ کی خام خیالی ہے. آپ کے جذبات نے آپ کو اس ایرینا کا بیل بنا دینا ہے. آپ روز یہاں سے زخم لے کر جائیں گے.

 تحریر : ریاض علی خٹک

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *