کہانی ایک صحرا میں رہتی ایک لڑکی کی

[contact-form][contact-field label=”Name” type=”name” required=”true” /][contact-field label=”Email” type=”email” required=”true” /][contact-field label=”Website” type=”url” /][contact-field label=”Message” type=”textarea” /][/contact-form]

[contact-form][contact-field label=”Name” type=”name” required=”true” /][contact-field label=”Email” type=”email” required=”true” /][contact-field label=”Website” type=”url” /][contact-field label=”Message” type=”textarea” /][/contact-form]

یہ ان دنوں کی بات ہے

ایک روز شام ڈھلے میں ایک میڈیکل سٹور سے دوائی لے رہا تھا کہ موبائل پر Miss Call نے متوجہ کیا نمبر دیکھا تو اجنبی تھا رانگ نمبر معمول ہو تو توجہ دینا عبث ٹھہرتا ہے وقت کے ضیاع کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا پانچ منٹ بعد اسی نمبر سے دوبارہ Miss Call آئی تیسری Miss Call آدھ گھنٹے بعد پھر خاموشی چھا گئی
اگلے روز دوپہر میں اسی نمبر سے ایک مختصر سا SMS رومن اردو میں موصول ہوا
’’ سر کیا میں آپ کے ساتھ رابطے میں رہ سکتی ہوں…..؟‘‘
’’ سر بہت شریف سا لگتا ہے کال می بلیٹ ،، بغیر تعارف کے رابطے بے معنی ہوتے ہیں۔‘‘
’’میرا رابطہ بامعنی ہے ‘‘
’’میں سمجھا نہیں مجھے ثبوت چاہیے تمہیں بات بھی کرنا ہوگی ‘‘
’’ہاہاہاہا سر آپ کی پوسٹ پڑھی تھی جس میں صداقت نامی لڑکی بعد میں صداقت نام کا لڑکا بن چکا تھا یہ دھوکے عام ہے ثبوت تو پیش کردیتی ہوں لیکن بات !! فی الوقت ممکن نہیں ‘‘
’’چلئے ثبوت SMS کیجیے ‘‘
’’سر….. آپ کی تخلیق عریشہ نے میرا دکھ بانٹا ہے میرا جی چاہا میں آپ سے رابطے میں رہوں SMS کرنے کی ہمت نہیں ہو پارہی تھی۔‘‘
اِس SMS کے بعد بہت سے دِن بیت گئے اور میں بھول گیا زندگی کی ذمہ داریاں نبھانا بھی ایک مستقل نوعیت کا جاب ہے قریباً مہینے بعد اس کا SMS آیا ’’سر….. سہ پہر کا وقت ہے گہرے بادل چھائے ہیں میں آنگن میں درخت کے نیچے بیٹھی سہ پہر کی چائے پی رہی ہوں آپ کی تحریر میں جو تیرا رب ہوا سامنے ہی موبائیل میں پڑھ رہی ہوں یہ میرا روزانہ کا معمول ہے یہ ایسا وقت ہے جس میں میں اپنی تنہائی سے ہم کلام ہوتی ہوں کیا آپ میری تنہائی بانٹیں گے؟ میں چائے کے کپ پر آپ کا انتظار کررہی ہوں ”
’’یہ کہیے بات کرنا آپ کے لیے کیوں ممکن نہیں…..؟‘‘
’’سر….. یہ کتھا SMS میں نہیں سماسکتی وقت نے مہلت دی تو دِل کا ورق آپ کو پڑھا دوں گی۔‘‘ پھر وہ اکثر سہ پہر کی چائے کے دوران مختصر سا SMS کرتی چائے کے ساتھ جو بھی لوازمات ہوتے بسکٹ، کیک، سموسے، کباب، سب تفصیل بیان کرتی۔ ’’سر…..! آپ کو خبر ہے میرے سامنے ہمیشہ دوکپ رہتے ہیں ‘‘
’’دو کپ کیوں…..؟‘‘
’’سر….. یہ بھی طویل کہانی ہے میرے من کے بنک میں دُکھ کا Credit دن بہ دن بڑھتا جارہا ہےکوئی تو ایسا آئے جو اسے کیش بھی کرائے سر….. میں نے اپنے دکھ اِسی طرح سنبھال کررکھے ہوئے ہیں جیسے الماری میں بچپن کے گڈیاں پٹولے مجھے بچپن لوٹا دیتے ہیں۔‘‘
” میں نے تم کو منع کیا ہے ناں سر کہنے سے ؟ لاسٹ بلیٹ کہو ”
اور وہ مترنم ہنسی سے ٹال لیتی مجھے
” سر آپ جیسے لکھتے ہے ویسے بولتے بھی ہے ”
دِن روز ڈھل جاتا عمر کا ایک حصہ کاٹ کر ،، مہینے میں دو تین SMS اس کا معمول تھے بات کرنے کا موقع اسے میسر آیا نہ میں نے اصرار کیا وہ ایک معمول کی سہ پہر تھی اس نے Bell دی پہلی گھنٹی دوسری تیسری میں نے کال اٹینڈ کرلی
’’سر سلام پیش کرتی ہوں لمبی بات نہ ہوپائے گی ،، میں ایک ایسی حویلی کی مکین ہوں جس کی دیواریں آسمان کو چھوتی ہیں یہاں سے عورتوں کے صرف جنازے نکلتے ہیں جیتے جی ان کی جھلک دیکھنا موت کی پکار پر لبیک کہنے کے مترادف ہے سر ! آپ بہت اچھا لکھتے ہے بہت اچھا ،، آپ کھبی بھی لکھنا نہ چھوڑنا ،، میں فون بند کرتی ہوں،، پھر سہی اللہ حافظ اپنا خیال رکھیے گا۔‘‘
’’میں اکثر سوچتا وہ کیسی تنہائی جھیل رہی ہے اسے کیا غم ہے؟ میرے ساتھ اس کا ایک بے معنی رابطہ ہے اس سے اسے کیا حاصل ؟‘‘
ایک روز گفتگو کے دوران میں نے اسے کہا۔
’’یہ تمہارا Mobile Network بہت مہنگا ہے‘‘
’’سر پیسہ دراصل ہمارا مسئلہ ہی نہیں ہے میرے پانچ بھائی ہیں، ہرسال کار کا ماڈل بدل لیتے ہیں دولت کی فراوانی ہے، بزنس کے سلسلے میں بھائی شہر سے باہر رہتے ہیں آپ کہیں تو میں آپ کے موبائل نیٹ ورک پر Switch Over کرلیتی ہوں ‘‘
’’نہیں ضروری تو نہیں ویسے بھی ہم الگ الگ ملکوں کے شہری ہے ہاں یہ آپشن ہے کہ سعودیہ میں یوفون اور وارد کے لیے بہت آسانی ہے ‘‘
’’سر آپ کی خاطر طعنے بھی سہہ لیں گے۔‘‘
’’میں سمجھا نہیں !‘‘
’’سر یہ جو موبائل نیٹ ورک ہے نا یہ بھی Status Symbol ہوگیا ہے ہمارے پورے خاندان میں کسی کے پاس بھی ٹیلی نار نیٹ ورک کا Sim نہیں سب جاز کے مہنگے نمبر رکھے ہوئے ہیں جب میں Switch Over کروں گی تو سب کو اچنبھا ہوگا کزنز قہقہے لگائیں گے کہ بے چاری غریب ہوگئی ہے کوئی کہے گا کنجوسی کی حد ہوتی ہے وہ کسی ملاقات پر اپنے Network کی خوبیوں میں اتنے دلائل دیں گے ہلا گلا مچائیں گے کہ شور سے چھت اڑ جائے گی لیکن سر کل سے میں آپ کے لیے Sim بدل لوں گی‘‘
’’پاگل نہ بنو رہنے دو.”
’’نہیں سر ” دِل کی عدالت میں بیٹھا جج فیصلہ سنا کر سائیڈروم میں جاچکا ہے اگلے روز اس نے یوفون کی نئی Sim سے مجھے کال کیا۔
’’سر گڈ نیوز یہ ہے کہ آپ کا نمبر بھی Favourite کرا لیا ہے رات گیارہ بجے آپ سس تفصیلی بات کروں گی….. آپ کے پاس وقت ہوگا….. نا ‘‘
وقت کے ہی تو ہم اسیر ہیں اسے میری ٹائم ٹیبل کا اتنے وقت میں مکمل علم ہوچکا تھا میں کیا کرتا ہوں کیا کھاتا ہوں کہاں جاتا ہو کس سے ملتا ہوں فلاں وقت کہاں ہوتا ہوں وہ کھبی بھی بدھ کے روز مجھے Sms یا کال نہیں کرتی تھی کیونکہ اسے علم تھا کہ میں بدھ کے روز میٹنگ میں ہوتا ہوں گرمیوں کی رات تھی آسمان پر ستاروں کے جھرمٹ ویسے ہی تھے جیسے بچپن میں دادی ماں سے کہانی سنتے وقت ہوا کرتے تھے سات ستاروں کا جھرمٹ جسے دادی ماں ’’ترنگڑ‘‘ کانام دیا کرتی تھی’’ترنگڑ‘‘ جس میں بھوسہ ڈال کر اونٹوں پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیاجاتا ہے ستارے جن سے پہلے زمانوں میں لوگ سمت نما کاکام لیتے اور راستے طے کرنے میں آسانی رہتی میں اپنے بچپن سے محوِ کلام تھا کہ موبائل کی مخصوص آواز نے متوجہ کیا

’’سر آپ ٹھیک ہیں۔‘‘
’’اللہ کا کرم ہے۔‘‘
’’سر ایک بات کہوں ؟‘‘
’’کہیے لیکن بس سر نہ کہیے !‘‘
’’آپ اپنے طور پر مجھے Call یا SMS کیوں نہیں کرتے ‘‘
’’اچھا نہیں لگتا ‘‘
’’ میں سمجھی نہیں ‘‘
’’تمہارے ماحول کا تقاضا ہے کہ تمہاری عزت و تکریم اور وقار کا خیال رکھاجائے ‘‘
’’سر میں اتنی اچھی نہیں ہوں ،، میرا اتنا خیال نہ رکھاکریں میں کیسے کہوں ایک خیال رکھنے والا تھا، وہ خواب ہوا ‘‘
’’کون ؟‘‘
’’سر وہ جو میرا نہیں ہے سہ پہر کی چائے پر اپنا ادھورا کپ چائے کا چھوڑ گیا میری زندگی ادھوری رہ گئی تب سے میری میز پر میری چائے کے ساتھ اس کا آدھا کپ بھی موجود رہتا ہے میں نے کرسی بھی اس جگہ سے نہیں اٹھائی جہاں سے وہ اٹھ کر گیا تھا مبادا کسی لمحے اچانک لوٹے اور کرسی آباد ہوجائے سر وہ میرا تھا لیکن میرا نہیں ہے میرے وجود کی مہک اور….. اور…..!‘‘
سسکیوں میں آواز کی تارٹوٹ گئی میں بہت رنجیدہ ہوا کیونکہ عورت جب روتی ہے تو درد انتہا پار کرچکا ہوتا ہے
’’سر کہا تھا نا کہ ہماری حویلی کی دیواریں آسمان سے باتیں کرتی ہیں ہم گھر سے نکلتی ہیں تو کار تک نوکر پشت کیے چادریں تانے کھڑے ہوتے ہیں ہم چادروں میں لپٹی کار میں بیٹھتی ہیں کار کے شیشوں پر پردے لگے ہیں فرنٹ اور بیک سیٹ کے درمیان بھی پردہ لگایا گیا ہے تاکہ آئینے میں ڈرائیور عکس نہ دیکھ لے سر دم گھٹتا ہے میرا لگتا ہے کسی اندھے کنویں میں قید کردی گئی ہوں یہ بھی کوئی زندگی ہوئی جس میں انسان اپنی مرضی سے سانس بھی نہ لے سکے کالج لائف میں دو نوکرانیاں مسلسل نگرانی پر مامور رہیں ناک اتنی اونچی ہے کہ کوئی لڑکا میرے والدین کی نظر میں جچتا ہی نہیں اور وہ جو آدھا کپ چائے چھوڑ گیا تھا اس کی حیثیت ہم سے کم تھی ‘‘
’’آدھے کپ والا گیا کہاں ؟‘‘
’’سر کہیں نہیں گیا وہ جا بھی کہاں سکتا ہے یہ میرے دل میں تو بیٹھا ہے باتیں کرتا ہے ہنستا ہے روتا ہے ناراض تو بہت ہوتا ہے روٹھ جاتا ہے منالیتی ہوں میں اسے اور پھر جھگڑا کرلیتا ہے قسم سے سر آپ جیسا لڑاکا ہے آپ بھی تو بہت لڑتے ہو ناں سر ! کاش سر ! جیسے اسے میرے گھر سے نکالا گیا دل سے بھی نکال دیاجاتا تو چین سے جی لیتی سر یہ جو دِل کے مکین ہوتے ہیں یہ دِل کی ریاست سے کیوں نہیں نکلتے سر آپ میری باتوں سے اکتا تو نہیں گئے…..؟‘‘
اس کی آواز میں نمی تھی۔ میں اس کی گفتگو انہماک سے سن رہا تھا شاید وہ اپنی تنہائی کا صحرا پاٹنا چاہتی تھی۔
’’سر….. آپ چپ کیوں ہیں…..؟‘‘
’’تمہاری گفتگو کا تاگہ کہیں ٹوٹ نہ جائے….. تم کہو، میں ہمہ تن گوش ہوں میں نے کہوں اکتانا ہے میں نے کونسا امریکہ کے لیے ڈیزی کٹر بم تیار کرنا ہے جو اکتا جاوں ‘‘
” ہاہاہاہاہا سر آپکی باتیں ہاہاہاہا پیج والے لاسٹ بلیٹ اور کال پر بات کرنے والے لاسٹ بلیٹ میں ایک زرے کا بھی فرق نہیں ہمیشہ بے دھڑک بولتے ھو لیکن سر ! آپ نے آج تک مجھ سے میرا نام نہیں پوچھا ”
’’بے نام رشتے کو بے نام ہی سفر طے کرنے دو !‘‘
’’ہاں سر میں کہہ رہی تھی گھر کیا ہے مغلیہ عہد کی حویلی ہے باہر ڈیرے پر میلہ لگا رہتا ہے میرے والد جاگیردار ہیں اور پیر بھی بھائیوں کو سیاست کا چسکہ ہے مجرا بھی معمول کی بات ہے میری کائنات میرا کمرہ ہے موبائیل ہے آپ ہے کمرے میں ہلکا آسمانی پینٹ ہے پردوں کا رنگ میچنگ ہے دیوار پر صادقین کی پینٹنگ کے ساتھ تاج محل کی ایک Oil Painting ہے جوایک سہیلی نے تحفہ میں دی تھی کلاسیکی موسیقی کی CD’s ہیں سامنے الماری میں پندرہ بیس انگریزی ناول اور اردو فکشن جومیرا درد بانٹتے ہیں سر میری ایک چھوٹی سی خواہش ہے ‘‘
’’کہو ‘‘
” کہو یہ کیا ہوتا ہے بولیں جی ”
“اچھا جی بتائیں ”
’’آپ سے ایک ملاقات کی خواہش بس ! صوبہ پختونخواہ میں ہوتی تو شاید آسان ہوتا آپ ویسے بھی چھٹیوں پر ہے لیکن سر! کہاں آسان ہونا تھا دیواریں، آسمان، بلندی، بندشیں، چھوڑیے سر کوئی خواہش نہیں پالنا اب مجھے آدھا کپ چائے ہی کافی ہے۔‘‘
باتیں کرتے کرتے وہ چپ ہوگئی میں سمجھا کال کٹ گئی ہے…..
’’ہیلو….. ہیلو۔‘‘
’’جی….. سر…..!‘‘
’’چپ کیوں اُترآئی ہے ؟‘‘
’’سر میرے گاؤں کا رستہ کٹھن ہے خواہش کا کیا ہے، منہ زور ہے زیادہ سے زیادہ پھاڑ کھائے گی نا ،، پہلے ہی وجود ادھورا ہے آپ میرے شہر کانام ذہن میں محفوظ کر لیجیے شاید کبھی وقت کی اینٹ سرک جائے اور ملاقات کاسامان نکل آئے ایک بڑی شاہراہ سے گزرتے ہوئے آپ کو سائن بورڈ نظر آئے گا جس پر ہماری حویلی کا نام درج ہے شاہراہ چھوڑ کر ذیلی سڑک پر ہو لیجیے گا چند کلومیٹر بعد گھنے درخت آپ کو خوش آمدید کہیں گے کبھی زندگی میں ایک بار سر صرف ایک بار میرے صوبے سے گزر ہو گھنے درختوں میں حویلی کے اونچے برج ہیں وہاں لوگوں کا تانتا بندھا ہوگا مجھے ایک SMS کردیجیے گا میرے لیے یہ خوشی بہت ہوگی کہ آپ ایک بار صرف میری خاطر یہاں آئے تھے ‘‘
وعدہ بہت مشکل تھا بے حد مشکل تھا میں جدہ میں وہ پاکستان کے ریگستانوں میں ،، اور میں جاوں ہی کیوں ؟ ضرورت ہی کیا ہے ،، کوئی ضرورت نہیں کہی جانے کی ! کال کٹ گئی دن پھر اپنے سفر پر نکل کھڑے ہوئے۔
سردیوں کی ایک دوپہر تھی ایک مختصر پیغام آیا
’’سر آپ کے صوبے میں سانس لے رہی ہوں ‘‘
’’کس شہر میں؟‘‘
’’پشاور ”
’’خیریت ہے؟‘‘
’’کزن کی شادی میں آئے ہیں سر اللہ حافظ رات میں SMS کروں گی‘‘ دل کیا اڑ کر جدہ سے پشاور پہنچ جاوں اس وقت میں اپنے جذبات کو نوٹس نہیں کرپایا لیکن دل بہت زیادہ بے قرار ہوا پشاور جانے کو ! رات گزر گئی رات میں موبائل Silent Mode پر ہوتا ہے صبح اس کے تین SMS موجود تھے جس میں شکایت تھی کہ میں شاید سو چکا ہوں اس لیے جواب نہیں دے پارہا آج بھی میرے موبائل میں اس کے چند SMS محفوظ ہیں جو میں نے Delete نہیں کیے ،، کیوں Delete نہیں کیے اس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں روز وہ میسجزز پڑھتا ہوں کیوں پڑھتا ہوں اسکا بھی میرے پاس کوئی جواب نہیں ایسا بھی ہوتا ہے بہت سارے سوال ساری عمر لاینحل رہتے ہیں میں SMS ترتیب دینے کی کوشش کرتا ہوں تو دل چیخیں اٹھنے لگتا ہے کہ کس کو کررہے ہو ! کچھ پیغامات مجھے بہت پسند ہے
’’کسی کو پلکوں میں نہ بساؤ۔ پلکوں میں صرف سپنے بستے ہیں اگربسانا ہے تو دِل میں بساؤ کیونکہ دِل میں صرف اپنے بستے ہیں۔‘‘
یوں راتوں کو نہ جاگو سو لیا کرو
یوں دِل میں آنسو نہ روکو رو لیا کرو
’’سر! کیسے ہیں امید ہے ٹھیک ہوں گے
کبھی کبھی تنہائی اور اداسی کا کوئی علاج نہیں ہوتا‘‘
’’پھر چاند کھِلا پھر رات ہوئی
پھر دل نے کہا ہے تیری کمی
پھر یاد کے جھونکے مہک گئے
پھر پاگل ارماں بہک گئے
پھر گزرے لمحوں کی باتیں
پھر جاگی جاگی سی راتیں
پھر ٹھہر گئی پلکوں پہ نمی
پھر دِل نے کہا ہے تیری کمی
سر ! خبر نہیں کس چیز کی کمی ہے سمجھ نہیں آتی اپنا خیال رکھیے گا ‘‘
نہ ملتا نقد جاں دے کر بھی ہم کو
گراں تھا اس قدر سودا کہ ہم بازار چھوڑ آئے
کوئی آئینہ رکھ ایسا کہ خود بھی دکھائی دے جس میں
ضروری ہوتی ہے خود سے بھی ملاقات کبھی کبھی
حیرت تو یہ ہے کہ بخیہ گروں کے ہجوم میں
اک نامراد زخم ہے جو سل نہیں رہا
موبائل OFF رکھنا میرے مزاج کا حصہ نہیں جیسے شروع میں کہا کہ رات میں Silent Mode پر ہوتا ہے ایک بار بخار کے دوران میں نے موبائل OFF کرکے رکھ دیا جس روز موبائل ON کیا اس کا میسج اس کی تڑپ کی گواہی دے رہا تھا
’’سر Thats not fair میں بہت ڈر گئی تھی آپ کا نمبر کیوں بند تھا بہت ڈر لگا مجھے بس ایسا نہ کیا کریں،، never ever do that again,, OK اپنا خیال رکھیے گا شب بخیر اللہ حافظ۔‘‘
زندگی رواں ہے ہم زمین پر اپنے حصے کا سفر مکمل کرکے سوجائیں گے تو بھی یہ رواں ہوگی میرے من میں تھا کہ کسی روز اس شخص کا پتا معلوم کرنا ہے جو میز پر آدھا کپ چائے چھوڑ گیا اور کرسی جس کے انتظار میں نہیں اٹھائی گئی جب بھی اس کی تفصیل معلوم کرنے کو بات کی وہ طرح دے جاتی ’’سر….. آپ سمجھنے کی کوشش کیجیے نا ‘‘
’’سر کیسے کیسے سمجھنے کی کوشش کرے بتاو ؟‘‘
’’سر جو زندگی سے نکل گیا من کی تلاش سے واپس تو نہیں آئے گا ‘‘ وہ اپنے دکھ سکھ میرے ساتھ بانٹتی الگنی پر ڈالے گئے کپڑوں تک کا ذکر کرتی کوئی نئی کتاب، تازہ میوزک کی CD اس نے اپنی زندگی کے سارے ورق مجھے سنائے میرے دِل کے Rack میں اِس کی کتابِ زیست محفوظ ہے

(2019 پاکستان میں آمد کے بعد کے واقعات )

ارادہ باندھا نہ خیال تھا کہ کبھی اس کے شہر کا سفر درپیش ہوگا لیکن ایک دِن پاوں میں سفر باندھے انھی راہوں سے گزرنا تھا جہاں وہ رہتی تھی اسے Surprize دینا چاہتا تھا لیکن پھر خیال آیا اگر اس روز وہ گھر پرموجود نہ ہوئی تو اسے دکھ ہوگا
میں نے اسے میسج کیا
’’سر….. ناممکن….. میں نہیں مانتی کب ؟ کس وقت ؟‘‘
’’ساون کی ایک سہ پہر میں تیرے دیس سے گزروں گا۔ حویلی کے باہر جو ڈیرہ ہے وہاں اُتروں گا درختوں کے درمیان پانی کے جو مٹکے رکھے ہیں وہاں دو سیاہ ویگو کھڑی ہوگی مٹی کے کٹورے میں پانی پیوں گا پھر بڑی شاہراہ سے ہوتا ہوا زندگی کی بھِیڑ میں گم ہوجاؤں گا۔‘‘
’’سر آپ مذاق تو نہیں کررہے؟‘‘
’’کیا تیرا میرا مذاق چلتا ہے۔‘‘
ساون کی سہ پہر کون سی اتنی مسافت پر تھی بڑی شاہراہ سے گاڑی میں نے اسی راستے پر ڈال دی جو اس نے سمجھایا تھا وسیع صحرا تھا تارکول کی سڑک کہیں کہیں اونٹوں کے قافلے سرکنڈوں کے درمیان چرتی بکریوں کے ریوڑ جب میں حویلی کی جانب مڑا سامنے کشادہ اور وسیع ڈیرہ تھا گھنے درختوں کے نیچے دیو ہیکل پایوں والی چارپائیاں بچھی تھی مٹکے رکھے تھے اور ان پر مٹی کے کٹورے دھرے تھے چارپائی پر بیٹھے ایک شخص نے گرم جوشی سے ہاتھ ملایا اور آمد کا مقصد پوچھا
’’پیر نواب صاحب کی ملاقات کو آیا ہوں ‘‘
انہوں نے چارپائی کے سرہانے منقش جھالردار تکیے رکھے میں نے مٹی کے کٹورے میں پانی پینے کی خواہش ظاہر کی
’’نواب صاحب کے باہر آنے کاوقت ہے ‘‘ ایک خشخشی داڑھی والا جس نے سر پر پگڑی جمارکھی تھی نے کہا
ابھی کٹورا میں نے منہ سے لگایا تھا کہ ملازمین میں ہلچل مچی اور پوری فضامؤدب ہوگئی درمیانے قد کا ایک شخص، کاٹن کا کڑکڑاتا سوٹ زیب تن کیے مونچھیں ترشی ہوئی بال گھنگھریالے پیچھے کی جانب پھینکے ہوئے، پاؤں میں نفیس چپل چمڑے کی، سونے کی انگوٹھیاں دونوں ہاتھوں کی اُنگلیوں میں ، میں کسی کے لیے اٹھتا نہیں لیکن دل نے کہا اٹھ جاو تو میں نے اٹھ کر ان سے معانقہ کیا
’’آپ کا تعارف ؟‘‘
’’ایک مسافر، سیاح بڑی شاہراہ سے گزرتے ہوئے آپ کی ریاست کا بورڈ پڑھا ہم آبلہ پا، صحرانورد یونہی پاؤں میں سفر باندھے گھومتے رہتے ہیں کہیں کوئی منظر روک لے تو لمحہ بھر کو سانس لینے کو رک جاتے ہیں ‘‘
وہ زیر لب مسکرائے ’’پڑھے لکھے لگتے ہو گفتگو کا سلیقہ بھی ہے یونیورسٹی کے زمانے میں ہم نے بھی کئی شوق پال رکھے تھے کتابوں کا شوق بھی رہا اب کتابوں کی جگہ گھوڑوں اورسیاست نے لے لی ہے کتنی دیررُکنا ہے آپ نے ؟‘‘
’’نواب صاحب سفر طویل ہے بس چند ثانیے !‘‘
’’ایک کپ چائے ہو جائے مہمان نوازی ہماری روایت اور پہچان ہے۔‘‘
’’جی انکار کی جرات کہاں سے لائی جائے۔‘‘
’’خوب خوب ، آو ہماری حویلی کے اندر تم کو دکھاتے ہے ‘‘
میں نے ان کے ساتھ اس آہنی گیٹ کی طرف قدم بڑھائے جس کے دونوں پٹ سیاہ بھاری گولڈن کنڈے، ساتھ ایک متصل منقش دروازہ، قدیم عہد کی تاریخ کا گواہ تھا
دروازے میں میری دلچسپی دیکھ کر نواب صاحب نے کہا
’’منگورہ سے یہ دروازہ ہم مہنگے داموں خرید کر لائے تھے‘‘
نواب صاحب اسی دروازے سے اندر چلے گئے وہ میری محبت نہیں تھی پھر بھی عجیب سی بے چینی تھی ایک نوکر نے سرگوشی کی ،،
’’آپ خوش قسمت ہے صاحب‘‘
’’کیسے؟‘‘
نواب صاحب کے ڈرائنگ روم میں منسٹرز اور قریبی دوستوں کے علاوہ اور کوئی داخل نہیں ہوتا
جب میں ڈرائنگ روم میں داخل ہوا مجھے سکتہ ہوگیا دیوار پر چیتے کی کھال، دائیں جانب نظر گھومی تو ان کے آباواجداد کی منقش فریموں میں جڑی تصویریں، فرنیچر انتہائی قیمتی، نفیس، اور شیشے کی ڈائننگ ٹیبل کے گرد چوبیس کرسیاں
’’آپ ہمارے مہمان ہیں گوچند لمحوں کے لیے سہی لیکن ہماری کوشش ہوگی یہ لمحے آپ کو یاد رہیں ہمارا موضوع سخن کتابیں تھی تاریخ اور سیاست !‘‘
ایک نوکرانی بے آواز قدموں سے داخل ہوئی اور جوس کے دوگلاس میز پر رکھ کر اسی انداز میں مودبانہ لوٹ گئی اگلے چند لمحوں میں اس نے میز پر فروٹ چن دیے چائے میں پیزا، فروٹ کیک، بسکٹ، سموسے قیمہ والے، آلو کے کٹلس یہ سب میری پسندیدہ تھی‘‘
میں اس لمحے ڈرائنگ روم میں موجود نہیں تھا میں کہاں تھا ؟ نہیں معلوم میں لوٹ جانا چاہتا تھا میں کیوں آیا ؟ یہاں کیوں گھڑی بھر کو قیام کیا ؟ چائے کی پیالی ابھی ہونٹوں کے قریب ہی تھی کہ ایک نوکر رکوع کی حالت میں اندر داخل ہوا اور نواب صاحب کو کسی کی آمد کی اطلاع دی آنے والا یقیناً اہم تھا کہ نواب صاحب خود چل کر گئے نواب صاحب نے ہم سے معذرت کی !
نوکرانی ظاہر ہوئی
’’مالکن پوچھ رہی ہیں خدمت میں کوئی کمی رہ جائے تومعاف کر دیجیے گا۔‘‘
نوکرانی کو کیا معلوم تھا ’’کمی کس چیز کی ہے!‘‘
چند لمحات چند ثانیے وقت کی مٹھی سے پھسل کر گرے پھسلتے لمحوں میں خوف تھا اُمید، آس، خواب اور نہ جانے کیا ،، مخص چند ثانیے ڈرائنگ روم کے ساتھ ملحقہ کمرے کا دروازہ کھلا. ! پردہ سرکا اور
ایک ثانیہ
صرف ایک ثانیہ
ایک جھلک
نہایت خوبصورت لڑکی لمبے قد کی لمبے سیاہ بالوں اسکے کندھے پر لٹک رہے تھے
اس نے ماتھے پر اپنی مرمریں انگلیوں کو لے جاکر سلام مکمل کیا
اور پھر
اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
ایک ثانیہ
وہ میری محبت نہیں تھی
پھر وہ ایک سکینڈ میرے من میں کیوں ٹھہر گیا ؟
’’کیا محبت کے سوا بھی کوئی رشتہ ایسا ہے کہ ایک لمحہ من میں امر ہوجائے؟‘‘
چائے کب پی کر اٹھا ؟ نواب صاحب سے وقت رُخصت ملنے کا انداز کیا تھا ؟ کس کو دیکھا ؟ کچھ یاد نہیں گھنے درخت، مٹکوں پر مٹی کے آب خورے، اُونچے چبوترے پر وہ موروں کا رقص، جنگلے میں پاؤں سمیٹے بیٹھا چیتا !
بہت حبس تھا جب میں وہاں سے نکلا
وقت کی ہتھیلی پر حالات و واقعات کی ریلوے لائن کی طرح ایک دوسرے کو قطع کرتی ہوئی لکیریں ہیں ان میں اس کی شادی کا بھی اندراج ہے اس شادی کے بارے ایک روز اس نے کہا۔
’’سر….. میں خوش اور مطمئن ہوں لیکن جو خوشی میرے حصہ میں آئی ہے
اسے سمجھوتہ کہتے ہیں…..‘‘
بہت مہینے گزرگئے….. مجھے یاد رہا نہ اس نے میسج کیا
ایک سرد صبح میں نماز کے لیے جاگا تواس کا میسج تھا بے چین کرگیا
’’سر! آج کسی بھی وقت میں آپ کو کال کروں گی۔‘‘
دوپہر میں اس کا فون آیا۔
’’سر!….. آپ کیسے ہیں؟‘‘
’’تم کہو اور تم کو میں سر کہنے سے منع کرچکا ہوں میرا نام لیکر مجھ سے بات کرو ….‘‘
’’ سر….. آپ بڑی ہمت والے ہیں کیسے کیسے درد جھیل چکے ہیں….. سر….. ان دنوں میں بیمار ہوں دُعا کیجیے گا شام میں فون کروں گی اللہ حافظ اپنا خیال رکھیے گا ‘‘
اس کی گفتگو معنی خیز تھی دوپہر اور شام کے درمیان صدیاں بچھ گئیں شام میں اس کا فون آیا
’’سر….. آپ کو یاد ہے نا آپ یوفون موبائل نیٹ ورک کی Sim میں نے صرف آپ کے لیے لی تھی ‘‘
’’یاد ہے…..!‘‘
’’بس….. سر….. Simچند دِن کی مہمان ہے۔‘‘
’’کیوں…..؟‘‘
’’سر….. آپ ہمت والے ہیں، آپ سمجھ تو گئے ہوں گے ‘‘
’’تم جھوٹ بول رہی ہو ‘‘
’’سر جھوٹ اور وہ بھی آپ سے؟‘‘ سر یہ تو ممکن نہیں ہے نا بس ہوگیا….. کینسر….. ”
“واٹ بلڈکینسر ‘‘
میرے ہاتھوں سے موبائل گر گیا موبائیل میرے پاوں میں پڑا تھا اس سے ہیلو آپ سن رہے ہیں پریشان نہ ہو ہیلو میری آواز آر ہی ہے ؟ ڈاکٹرز کہتے ہے اسکا علاج ہے ” چاہیے تو یہ تھا کہ میں اسے حوصلہ دیتا وہ مجھے دے رہی تھی میں نے موبائل اٹھایا
کیوں، کیسے….. کب…..؟ کب ہوا یہ ہے ”
سر ان سوالوں کے جواب تو نہیں ہوتے نا سر آپ ایک افسانہ اور لکھ ڈالیے میں کسی کے دل میں نہ سہی آپ کے افسانے میں تو زندہ رہوں گی نا ،، محبت نہ سہی ،، آپ کے اور میرے درمیان ایک رشتہ تو تھا
میری قوتِ گویائی جاتی رہی میرے ہاتھ پاوں کانپنے لگے اور آنکھ سے آنسو بہہ نکلا
دوسرے روز سارا دِن موبائل پر سنّاٹا چھایا رہا سارا دن ” مجھے بلڈ کینسر ہے ” کی آوازیں سنائی دیتی رہی
سہ پہر میں میسج کی مخصوص آواز سماعت سے ٹکرائی، خوف، اُمید، اندیشے، پسینے میں تربتر میں نے کرسی کی پُشت پر سرڈال دیا۔
میسج کھولنے کی ہمت نہیں ہوپارہی تھی
کہیں دور سے آواز آئی
مرمریں اُنگلیوں نے ماتھے تک سفر طے کرکے سلام مکمل کیا
’’سر آخری میسج ہے شاید ہی پھر کھبی بات ہو یا میسج آئے ہماری اگلی ملاقات رسول اللہ کے حوص کوثر پر ہوگی ہمت کیجیے پڑھ لیجیے !‘‘
ایک لمحے کو آس کی ڈوری کا سرا میں نے تھاما شاید اسے کینسر نہ ہو اس SMS میں اُمید کی قندیل ٹمٹما رہی ہو میں نے لرزتے ہاتھوں سے میسج کھولا اور دھرتی کے سارے نیٹ ورک جام ہوگئے
’’سر….. آپ نے ایک بارڈرائنگ روم کا پوچھا تھا ڈرائنگ روم تو اک گزرگاہ ہے یہاں تو روز بہت سے لوگ آتے ہیں لیکن یاد رکھیے گا کہ میں صرف ایک ہی شخص سے ملی تھی اور مجھ سے بھی بس ایک ہی شخص ملا تھا جو آدھا کپ چائے چھوڑ گیا ورنہ لوگ تو بہت آتے ہیں وہ آدھا کپ میری الماری میں ویسے ہی آدھا بھرا ہوا پڑا ہے اس میں دن بدن چائے سوکھتی رہی لیکن میں نے اسے دھونے کی کوشیش کھبی نہیں کی …..‘‘
تب مجھے یاد آیا کہ آدھا کپ چائے اس دن حویلی میں میں چھوڑ آیا تھا ،،

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *