تم کو دیکھا نہیں ہم نے

تم کو دیکھا نہیں ہم نے
بس خوابوں میں خیالوں میں
تم سے باتیں کی ہیں
جیسے دن کے اُجالے میں کوئی ستارہ ڈھونڈے
جیسے چاندنی رات میں کوئی کرتا ہو سورج کی کرن کی چاہت

تم کو دیکھا نہیں ہم نے
بس اپنے دل کی ساری یادیں
بنا دیکھے بنا جانے
تیرے حوالے کی ہیں
جیسے میں ہوں کوئی درد کی بھٹکتی منزل
جیسے تم ہو کوئی پیار کا مہرباں ساحل

تم کو دیکھا نہیں ہم نے
بس لب پہ آئی ہر اک دعا
دل سے نکلی ہر اک صدا
تجھ پہ نچھاور کی ہے
جیسے دھوپ میں کوئی بادل برسے
جیسے پھول سے شبنم ٹپکے

تم کو دیکھا نہیں ہم نے
بس اک بےنام سی خواہش ہے
کہ اک بار..
صرف ایک بار..
تم ہمیں دکھائی دو

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

One response to “تم کو دیکھا نہیں ہم نے”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *