خاموشی آپ کے شعور میں اضافہ کرتی ہے

خاموشی آپ کے شعور میں اضافہ کرتی ہے

دریا تو صدیوں سے بہہ رہے ہیں. بہتے جا رہے ہیں. انگلینڈ 1878 میں ولیم آرمسٹرانگ نے اس بہتے بہاو کو روکا شانت کیا اور پھر ایک ٹربائن سے ہائیڈرو الیکٹرک کی نئی تاریخ شروع کردی. اس کی آرٹ گیلری میں ایک ٹیبل لیمپ روشن ہوگیا. ہوا پر پن چکیاں بھی چلیں اور صدیوں سے بادباں کھولے جہاز اور کشتیاں بھی اسی سے سمندر و دریاؤں میں رواں دواں ہیں . ہوا کو بھی تو روک کر ہی انسان نے اپنے مقصد کا پہیہ گھمایا.

سورج کی روشنی کو سولر پینل پر روک کر انسان نے اسے بھی توانائی کی شکل دے دی. انسان کے خیالات اس کی سوچیں بھی بہتے دریا کی طرح ہیں. کبھی حالات اسے شانت جھیل بنا دیتے ہیں کبھی جذبات ان کو ایسی منہ زور ندیوں کی شکل دے دیتے ہیں جو ہمارے آس پاس کا سیلاب بن جاتا ہے.

ان خیالات و سوچوں کا اظہار زبان بنتی ہے. زبان کے اوپر شعور ہوتا ہے جسے اگر ہم راہنما بنالیں تو یہ ہمارے خیالات و جذبات کے اس دریا پر زبان سے پہلے ایک بند بنا دیتا ہے. دوستو اس بند کو صدیوں کے انسانی نروان نے خاموشی کا نام دیا ہے. خاموشی یعنی silence ایک سرمایہ ہے. وہ سرمایہ جو الفاظ کو شور شرابے کے سمندر میں ضائع ہونے سے بچا کر ان کو اس توانائی میں تبدیل کر لیتی ہے. جو آپ کے اندر ہی نہیں آپ کے باہر کو بھی پر سکون مہربان روشنی دیتی ہے.

ریاض علی خٹک

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *