×

چھ سو برس قدیم کھڑکی مسجد

 

6سو برس قدیم ’’ کھڑکی مسجد‘‘

انڈیا میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کوبدترین سلوک کا سامنا ہے، 600سال قدیم ”کھڑکی مسجد ‘‘ بھی ان میں شامل ہے۔فیروز شاہ تغلق کے دور میں بننے والی اس مسجد نے کئی ادوار دیکھے، مسلمانوں کے عروج کی بھی گواہ ہے اور1947میں مسلم کش فسادات بھی دیکھے ،یہی وہ مسجد ہے جس کے قلعے میں مسلمانوں نے ہندوئوں کو کئی ہفتے تک پناہ دی ۔لیکن اب وہی ہندو اس مسجد کو شہید کرنے کے درپے ہیں۔ تاریخی حقائق کو مسخ کرتے ہوئے وہ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ اس مسجد کی بنیاد مسلمانوں نے نہیں رکھی تھی بلکہ یہ بھی کوئی قدیم ترین قلعہ ہی تھا۔ یہ مسجد بھی بابری مسجد جیسے دور سے گزر رہی ہے ۔ یہ تاریخی مسجد ایک زمانے میں مسلمانوں کی عبادت اور ہندوئوں کی حفاظت کا مرکز ہوا کرتی تھی، لیکن اب جہاں دوسری مساجد اور تاریخی مقامات کے محافظ مسلمان ایک اذیت ناک دور سے گزر رہے ہیں، وہیں اس مسجد کو بھی اپنے وجود کی جنگ لڑنا پڑ رہی ہے۔
ان دنوں منگولوں کے حملے معمول تھے،اسی لئے ہر عمارت میں منگولوں سے دفاع کا بھی خاطر خواہ انتظام کیا جاتا تھا۔اگر آپ دیکھیں تو اس دور کی سبھی مساجد اور عمارات میں فوجی طرز کی چوکیوں یا حفاظتی نظام کے لئے الگ ہی تعمیرات کی جاتی تھیں، ورنہ منگول تہس نہس کر سکتے تھے۔ مسجد کی تعمیر کے دور میں حکمران آئے روز کی جنگوں اور حملوں سے پریشان تھے ۔اسی لئے اکثر مساجد میں حفاظتی چوکی بھی دیکھنے کو ملتی ہے، بابری مسجد کا بھی یہی سٹائل تھا وہ بھی محفوظ طریقے سے بنائی گئی تھی،لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس مسجد کے رقبوں پر قبضہ کیا جانے لگا ۔
فیروز شاہ تغلق کے وزیر اعظم خان جیہاں جونن خان مغل بادشاہوں کی طرح فن تعمیر کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے،فیروز شاہ خود بھی فن تعمیر کے دلداہ تھے۔فیروز شاہ تغلق دانشور بھی تھے اور مصنف بھی، وہ اپنی خود نوشت ” فتوحات فیروزشاہی‘‘ میں رقم طراز ہیں کہ”اللہ تعالیٰ کی مجھ پر بے شمار مہربیانیاں ہیں ،انہی میں سے ایک مہربانی اس کی سرزمین پر عالی شان مساجد تعمیر کرنا بھی ہے اسی لئے میں نے لاتعداد مساجد ، تعلیمی اداروں اور درگاہوں کی بنیاد رکھی۔فیروز شاہ دفاعی حکمت عملی بنانے میں مہارت رکھتے تھے، ان کا حکم تھا کہ ہر عمارت کوبناتے وقت اس میں قلعے نما مقام کا بندوبست لازمی کیا جائے۔
شائد ان کے ہی حکم پر ان کے سابق وزیر اعظم نے اس مسجد کی تعمیر کا حکم دیا تھا، یہ مسجد دوسری مساجد سے کئی حوالوں سے کافی منفرد اور مختلف ہے، سب سے اہم پہلو اس کے گرد و نواح میں واقع قلعہ نما عمارت ہے ۔ جب وزیر اعظم خان جیہاں نے ”کھڑکی ‘‘ نامی قصبے میں ایک عالی شان مسجد کی تعمیر کا حکم دیا تو انہوں نے اس کے تحفظ کے تمام لوازمات پورے کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔ ان کے سابق وزیر اعظم جونن خان نے سات مساجد کی بنیاد رکھیں۔لیکن یہ مسجدان سب میں الگ ہی ذوق جمال رکھتی ہے۔ اس کے وسیع و عریض دالان کے چاروں اطراف میں حفاظتی دیواریں تعمیر کی گئی ہیں، جبکہ دالان کھلے میدان کی مانند ہے، بعض دوسری مساجد کی طر ح چھت تعمیر نہیں کی گئی۔مقامی رنگ دینے کے لئے اس میں جالی سٹائل کی کھڑکیاں بھی بنائی گئی تھیں کیونکہ ”کھڑکی قصبے‘‘ میں اسی طرز کی عمارات تعمیر کی گئی تھیں۔
پہلے اس کے اطراف میں خالی مقام پر لوگ قابض ہوئے، وقت کے ساتھ مکانات کی تعمیرات بڑھتی چلی گئیں جبکہ حکومت کوکو ئی پرواہ نہ تھی۔ مسجد کے امام اور علمائے کرام شکایت کرتے رہے، ایک دفتر تحریر جمع ہونے کے باوجود جب کوئی کارروائی نہ ہوئی تو ہندوئوں نے مزید دکانیں بنا لیں ، جن میں بلیئرڈ ہائوس بھی شامل تھے،کچھ نیٹ کیفے بھی بن گئے۔
حالانکہ یہ مسجد مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کیلئے بھی جائے پناہ تھی۔ 1947کے بدترین مسلم کش فسادات کے دور میں بھی یہ جائے پناہ بنی۔ ہر جانب مسلمانوں کا قتل عام جاری تھا لیکن اس مسجد کے دالان اور قلعہ میں مسلمانوں نے ہندوئوں کو پناہ دی ۔
قصبے ”کھڑکی‘‘ میں مسلمانوں کی اکثریت تھی ، ہندوئوں کو خطرہ تھا۔ کہیں مسلمان ان پر حملہ نہ کریں ، اگرچہ خطرہ بے بنیاد تھا، کھڑکی قصبے کے 84 سالہ مکین نتھو سنگھ کوشک کے بقول ”انہوں نے مسجد کے قلعے میں جائے پناہ تلاش کی۔اور اس مسجد میں مسلمانوں نے کئی روز تک پہرہ دیا تاکہ اس کے قلعے کے اندر ہندو محفوظ رہیں۔ اگرچہ کوئی ایک مسلمان بھی ہندوئوں کو قتل کرنے نہ آیا لیکن اس مسجد کے قلعے میں ہندوئوں کی جانیں محفوظ رہیں ۔وقت بدلا۔کل کو جنہیں جان بچانے کا شوق تھا آج وہ جانیں لینے کے درپے ہیں۔
ہجرت کے بعد ‘کھڑکی مسجد‘ نے حالات کو پلٹا کھاتے دیکھا۔یہاں مسلمانوں کی آبادی 25فیصد کے قریب ہوگی، لیکن اکثریت کے خوف سے آزادی کے بعد وہ بھی یہاں سے ہجرت کر گئے۔کہاں گئے ،کچھ معلوم نہیں، مارے گئے یا زندہ ہیں اس کا بھی پتہ نہیں۔جاتے وقت وہ اپنی املاک اور مکانات ہندوئوں کی حفاظت میں دے کر گئے ۔لیکن ہندوئوں نے اب مسجد اورمسلمانوں کے مکانات پر قبضہ کرلیا ہے، اور تجاوزات کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ ان کاخیال ہے کہ ہندوستان میں جو زمین بھی ہے یہ سب کی سب ہندوئوں کی ملکیت میں ہے ،اس مسجد کو بھی انہوں نے اپنی ملکیت سمجھ لیا۔مسلمانوں نے جن ہندوئوں کو اپنی املاک حفاظت کے لئے دی تھیں وہی قابض بن بیٹھے ۔
77 سالہ اجیت چوہان نے بتایا کہ ”مسجد کے خارجی حصے میں ،جہاں پابندی نہ تھی ، ہندو بچوں کو بھی آنے کی اجازت تھی۔قلعے کی اس جگہ پر بچوں کو کھیلنے کی اجازت تھی، یہ مسجد کا حصہ نہ تھی بلکہ قلعے میں شامل تھی۔ اس مسجد نے جہاں دلی کی بنتی بگڑتی سیاست کو دیکھا، وہیں
یہ معاملہ سابق وزیر اعظم نہرو کے علم میں بھی لایا گیا تھا، جنہوں نے مہاجرین کی آبادکا ری کے انتظامات کر دیئے، لیکن مسجد کو خالی رکھنے کا حکم دیا۔اور اذان پر پابندی لگا دی جو اب تک جاری ہے۔1958میں اسے تاریخی عمارت قرار دے کر محکمہ آثارقدیمہ کے سپرد کر دیا گیا،لیکن اس کے کچھ حصوں پر سوسائٹی بنانے کی منظوری دے دی گئی ۔مکانات بن گئے ،بجلی لگ گئی اور سیوریج سسٹم بنا دیا گیا،جس سے مسجد کا حسن گہنا گیا ااور یہ مکانات میں چھپ گئی۔اس کا نام بدل کر ”کھڑکی قلعہ ‘‘رکھ دیا گیا ۔

علاؤ الدین خلجی، انڈیا کو متحد کرنے والا حکمران
خلجی کوئی بیرونی حملہ آور نہیں تھا،اسی انڈیا کا شہری تھا،وہ 1266ء میں دہلی میں پیدا ہوا، زندگی کا بڑا حصہ برصغیر پاک وہند میں گزرا، اسے ہر حوالے سے انڈین کہا جاسکتا ہے۔اسے اپنے دور کا عظیم ترین حکمران قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس نے تمام فیصلوں سے خود کو عظیم ترین بادشاہ اور جرنیل ثابت کیا۔وہ خلجی خاندان کا دوسرا بادشاہ تھا،اس نے 1296ء سے 1316ء تک بھارت کے بڑے حصے پر حکمرانی کی۔چپے چپے کی حفاظت کے لئے اس نے جان لڑا دی ورنہ منگولوں کے چھ حملوں نے انڈیاکو کھنڈر بنا دیا ہوتا ۔انڈیا کی خاطر اس نے 84 جنگیں لڑیں۔ہر جنگ میں مسکراتا ہوا فتحیاب ہوا۔ جنگوں کے بعد کشت و خون اس کی سرشت میں شامل نہ تھا،اس نے بلا وجہ خون کبھی نہیں بہایا بلکہ جنگ کے بعد پورا خطہ امن کا گہوارہ بن جاتا ۔شمال میں غزنی ، جنوب میں رامیشوام ، مغرب میں گجرات، کاٹھیاواڑ سے مشرق میں بنگال تک اس کی حکومت تھی۔ برصغیر پاک و ہند میں اتنے وسیع رقبے پر حکومت کرنے والا وہ پہلا حکمران تھا۔ دریائے نبادہ کے پار اپنی حکومت کا حصہ بنانے والا وہ واحد حکمران تھا۔سینکڑوں ہندو شہزادوں نے اس کی قیادت قبول کی ۔ ان سب کو خلجی کی انسان دوستی اور انصاف پر یقین تھا۔ علاو الدین خلجی نے انہیں عزت دی اور احترام کیا۔ ہندو شہزادوں نے بھی اسے خراج تحسین پیش کیا۔ فوج اتنی طاقت ور تھی کہ حکم عدولی کی جرأت کسی میں نہ تھی۔ خلجی کا حکم چلتا تھا،اسے ددھوکہ دینے کی طاقت کسی میں نہ تھی۔ملک بھر میں یکساں نظام حکومت نافذ تھا۔سلطنت میں عوام مطمئن اور پر سکون تھے۔ مسلمان ہو یا ہندو ،امیر ہو یا غریب، ہندو زمیندار ہو یا مسلمان کاشت کار،سب ہی حکومت کے ساتھ تھے ۔ سڑکیں چوروں اور ڈاکوئوں سے پاک تھیں ۔ پولیس ٹھگوں ، ڈاکوئوں اور لٹیروں کا صفایا کرچکی تھی۔ تجارت فروغ پارہی تھی ، مارکیٹ میں ضروریات زندگی کی فراوانی تھی ،وہ بھی انتہائی سستے داموں میں۔ عوام کی قوت خرید بہتر ہونے کا فائدہ سب کو پہنچا ،ٹیکس وصول کرنے کی ڈیوٹی خوف خدا رکھنے والے ایماندار لوگوں کو سونپی گئی۔ طرز حکومت اسلامی تھا ،یہ تبدیلی نیک شخصیت کے بغیر ناممکن ہے، دراصل ماضی میں التمش اور ظہیر الدین بابر کے اچھے کاموں پر بعد میں آنے والے حکمرانوں نے مٹی پھیر دی ، مگر خلجی اپنے احکامات پر عملدرآمد کرواتا رہا۔ اس کے دور میں دہلی میں علماء کرام اور دانشوروں کی ایک کہکشاں جمع تھی۔ اس نے حکومت سازی میں دانشوروں اور علماء سے کام لیا۔ صحیح آدمی کو صحیح وقت پر صحیح کام سونپا۔ وہ خود متحرک اور فعال تھا ، اس نے اپنے ارد گرد متحرک لوگ جمع کیے۔ اپنے ارد گرد عظیم لوگوں میں وہ ایک عظیم تر لیڈر تھا۔ان میں سے کچھ کا ذکر غلام سرور خان نے اپنی کتاب Life and Works of Khiljiمیں کیا ہے۔خلجی ، غلامی کا سخت مخالف تھا، اس کی سلطنت میں غلامی مٹ چکی تھی، وہ دوسری ریاستوں سے غلام خرید کر انہیں آزادی کی نعمت سے نوازتا رہا۔ غلاموں سے حسن سلوک کو دیکھتے ہوئے ہزاروں ہندو فوجی دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ۔یہ ”نومسلم‘‘ کہلائے ۔ خلجی فوج کا مایہ ناز جرنیل ملک کافور سابق غلام تھا، آقا نے ملک کافور کے 1 ہزار دینا ر مانگے ،خلجی نے ادا کرنے کے بعد غلام کو آزاد کر دیا، رہائی پانے کے بعد یہ غلام خلجی کی ذہنی غلامی میں آ گیا۔ وہ کافور میں چھپی ہوئی جرنیلی صلاحیتوں کو پہچان گیاتھا۔ غلام ملک کافور 1308ء میں ورانگل Warangal ) کوفتح کرنے کے بعد دریائے کرشنا کے جنوبی علاقے ”ہوئے سالا‘‘( Hoysala) اور مادھورا ( Madura) کو ”سلطنت دہلی‘‘کاحصہ بنانے میں کامیاب ہوگیا۔ 1311ء میں دہلی واپسی پر تین سالہ جنگ سے تھک چکا تھا۔ پرکشش شخصیت کا مالک جلال الدین خلجی اپنے خاندان میں ہمیشہ سے سب کی آنکھوں کا تارا تھا۔ رانتھن بور ( Ranthanbor)میں چچا سسر جلال الدین خلجی حکمران تھے ، محمد شاہ، خلجی خاندان کاوفادار تھا۔ خلجی کی تخت نشینی میں ا سکا بھی ہاتھ تھا،، بعدازاں اسکی نیت بدل گئی ۔ اقتدار کی ہوس میں اندھامحمد شاہ اپنے ہی محسن خلجی کو راستے سے ہٹانے اور خود حکمران بننے کے خواب دیکھنے لگا۔ بادشاہ کے دربار میں ہی سازشوں کے تانے بانے بننے لگا۔ علائو الدین خلجی لوہے کا چنا تھا،اسے غداری کی اطلاع مل گئی تو محمد شاہ فرار ہو کر راجپوت حکمران رانتھن بورکے قلعے میں پناہ گزیں ہو گیا۔ غدار کی سزا آج بھی موت ہے اور کل بھی موت تھی۔خلجی نے شاہ رانتھن بور سے اپنے غدار کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ حاکم دیوابھی راجپوت تھا،زبان دے چکا تھا، اس نے صاف انکارکیا۔علائو الدین کی راجہ رانتھن بور سے ٹھن گئی، اب غدار ایک نہیں ،دو تھے۔دونوں غداروں کو سبق سکھانے خلجی فوج کے ساتھ را نتھن بورروانہ ہوا۔راجہ کے جاسوس ہر جانب پھیلے ہوئے تھے،اسے خلجی کی آمد کی سن گن ہو گئی ، خلجی کے قریب آنے سے پہلے ہی راجہ نے دریائے بناس ( Banas) کے کنارے اسے روک لیا۔ خلجی جنگ نہیں چاہتا تھا، دوبارہ پرامن طریقے سے محمد شاہ کی حوالگی کے لئے ملتمس ہوا۔رانا آف رانتھن بور راجپوت تھا، زبان کا پکا تھا،محمد شاہ سے کئے گئے وعدہ سے مکرنے کی گنجائش نہ تھی،ناں کر دی۔خلجی دوسری ناں سنتے ہی آگ بگولہ ہو گیا۔ محاصرہ کئی روزجاری رہا۔بالآخر منظم فوجی حکمت عملی سے رانا کو اسی کے علاقے میں شکست دینے والا خلجی غدار کوساتھ لے کر ہی واپس آیا ۔ اس کی تاریخی کامیابیاں ” فرشتہ‘‘ ، ”سلطان آف بیچا پور‘‘ ، ”ابراہیم عادل شاہ دوئم‘‘، ”ضیاء الدین برانی‘‘، ”محمد بن تغلق‘‘ اور ”فیروز شاہ تغلق‘‘ نامی کتابوں میں بھی درج ہیں ۔ایس لال ، ستیش چندرا اور پیٹر جیکسن جیسے مصنفین اپنی کتب میں اس کاتذکرہ کئے بغیر رہ نہ سکے ۔

میسور کی تین شہزادیاں اور ویکسین کی ماڈلنگ
انگریزوں کے دور میں خشک سالی اور قحط انڈیا کی پہچان بن گئے تھے، لاکھوں لوگ بھوک اور بیماری سے مارے گئے۔ ہیضہ، چیچک اور ایسی دوسری بیماریاں عام تھیں۔ نوبت یہاں تک آ گئی کہ ہندوئوں نے چیچک کو بھی اپنا دیوتا مانتے ہوئے اس کی پوجا شروع کر دی ۔ ”چیچک دیوی‘‘ کے نام سے ایک نئے دیوی کے بت بنائے جانے لگے، لیکن چیچک کا مرض پھر بھی قابومیں نہ آیا۔”چیچک دیوی‘‘ کے چڑھاوے بے کار گئے۔ تاہم مغربی ممالک میں چیچک اور دوسری بیماریوں کی ویکسین کی تیاری پر کام شروع ہو چکا تھا،ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھی ویکسین بنا لی تھی، انڈیا میں ویکسین کی پہلی کھیپ 1800میں بھیجی گئی۔جہاز میں ویکسین کو محفوظ رکھنے کا پورا پورا انتظام تھا۔لیکن عوام کو اس علاج سے آگاہ کرنے کا کوئی طریقہ نہ تھا۔ یہی وہ وقت تھا جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے ماڈلنگ کے لئے تین شہزادیوں کو چن لیا۔ انہیں بھارت کی اولین ماڈلز بھی کہا جا سکتا ہے، ایسٹ انڈیا کمپنی نے ان تین شہزادیوں کو ماڈلنگ کے لئے راضی کیا ،ان کے اشتہار سے ویکسین کو مقبولیت حاصل ہوئی۔ 1805ء کی بات ہے۔میسور میں شہزادے کرشنا راجہ کی شادی 12 سالہ لڑکی دیوا جمانی سے ہونے والی تھی، وہ خود بھی 12برس کے ہی تو تھے۔ 1799ء میں میسور کے شیر ٹیپو سلطان کو دھوکے سے شکست دینے کے بعد انگریزوں نے اس خاندان کو حکمران بنایا تھا۔ 30 سالہ جلا وطنی کے بعد انگریزوں نے واڈی یارذ (Wadiyars) خاندان کے اس 12سالہ لڑکے کو بھی تخت نشیں کروا دیا تھا۔حقیقت میں ایسٹ انڈیا کمپنی ہی میسور کی حکمران تھی۔میسور کا یہ شاہی خاندان ایسٹ انڈیا کمپنی کا پہلے سے ہی انگریزوں کا مرہون منت تھا۔ اب انگریزوں کا ساتھ دے کر ان کی ویکسین کو عام کرنا ان پر قرض تھا۔شادی کو تھوڑا عرصہ ہی گزرا تھا کہ میسور میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو شہزادی جمانی کی ضرورت پڑ گئی۔چیچک کے مرض کی ویکسین تو منگوالی گئی تھی لیکن انڈیا والوں کو کیسے بتایا جاتا کہ دوا بن گئی ہے۔ ایڈورڈ جینر(Edward Jenner) نامی انگریزڈاکٹر نے شہزادی جمانی سے رابطہ کیا اور اسے اہمیت کے بارے میں بتایا۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ویکسین سے فائدہ نہ اٹھایاگیا توآبادی ختم ہو سکتی ہے۔ایسٹ انڈیا کمپنی انڈیا میں دنیا کی پہلی ویکسین متعارف کرانے جا رہی تھی۔اس میں برٹش ڈاکٹروں اور ماہرین کے علاوہ انڈین ویکسینیٹرز بھی شامل کئے گئے تھے۔کمپنی کے مطابق اگر یہ خواتین ماڈلنگ کریں تو دوا کو شہرت مل سکتی ہے۔ نئی نویلی دلہن مان گئی ۔میسور کے مسلمان کمپنی کے سخت مخالف تھے۔ ہندو بھی چیچک کی ویکسین کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔لیکن شاہی لباس میں ملبوس ،سونے سے لدی شہزادی اپنے علاقے میں مشہور تھی، اس سے ایسٹ انڈیا کمپنی کی ساکھ بھی بہتر ہو سکتی تھی،ویکسی نیشن کی مہم چلاتے وقت کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انگریزوں کا کہنا تھا کہ دایاں بازو کھلا رکھا جائے تاکہ قوم کو بتایا جا سکے کہ ٹیکہ کس جگہ لگے گا۔،لیکن شہزادی مصر تھی کہ وہ پورا جسم کا پردہ کرے گی ، اور ساڑھی میں ملبوس رہے گی،ویکسی نیشن مہم کے دوران وہ اپنی عزت پر آنچ نہیں آنے دے گی۔اس طرح تین شہزادیوں نے انڈیا میں ویکسی نیشن کی پہلی مہم میں حصہ لیا۔ان تین میں سے ایک شہزادی راجہ کی بیوی ہے۔ ان تینوں نے سونے چاندی کے زیورات کے ساتھ ماڈلنگ کرائی ۔پہلی ویکسین برطانوی ملازم کی تین سالہ بیٹی اینا ڈشتھیل کو 14جون 1802کو لگائی گئی تھی۔برہمنوں نے ٹیکے کی مزاحمت شرو ع کر دی، وہ ایک ہی ”ٹیکے‘‘ کو مانتے تھے، یہ نیا ٹیکہ کہاں سے آ گیا۔ انگریزوں کو ڈر تھا کہ کہیں یہ لوگ ایک دوسرے سے مل کر چیچک کے پھیلائو کا سبب نہ بن جائیں ،صحت مند افراد سے الگ رکھنا بھی ضروری تھا ، حفظان صحت کے اصولوں کی الگ تشہیر کی گئی۔

ایہہ کڈنا، حیرت انگیز جانور لاطینی زبان میں اس کا مطلب ہے ’’تمام شیطانوں کی ماں‘‘
آسٹریلیا، نیو گینیا اور تسمانیہ میں پائے جانے والے ”مور خور خار پشت‘‘ (Echidna)کو دنیا کے پراسرار ترین جانوروں میں شما ر کیا جاتا ہے ، کئی خوبیاں اسے دوسرے جانوروں سے الگ اور ممتاز کرتی ہیں۔”مور خور خار پشت ‘‘کا مزاج اور رہن سہن دوسرے جانوروں سے قدرے مختلف ہے۔ یہ دن کو باہر نہیں نکلتا ،گرمی بہت لگتی ہے، یہ شام ڈھلنے پر باہر نکلتا ہے۔ اس کی دس گیارہ باتیں حیران کر دینے والی ہیں جن پر حیواناتی سائنسدان غور کر رہے ہیں کہ ایسا کیوں ہے۔ سب سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ مور خور خار پشت جانور کو انگریزی میں (Echidna) کہا جاتا ہے۔ لاطینی زبان میں اس کے کئی مطالب ہیں۔ یہ اس جانور کے لئے مستعمل ہے جس کا سر انسان نما اور دھڑ مچھلی جیسا ہو۔لاطینی زبان میں ” شیطانوں کی ماں ‘‘کو بھی ”ایہہ کڈنا ‘‘کہا جاتا ہے۔ اپنی حیرت انگیز خوبیوں کی بدولت اسے ”شیطان کی ماں‘‘ کہا گیا ہے۔ حالانکہ یہ انتہائی بھولا جانور ہے اور عام طور پر کسی کو نقصان نہیں پہنچاتالیکن اگر تنگ کیا جائے تو اس کے خار انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔یہ کسی کو تنگ نہیں کرتا بس اپنے آپ میں گم رہتا ہے، ہمہ وقت بل میں چھپا رہتا ہے، اپنے بل سے بھی کم ہی باہر نکلتا ہے خطرے کے وقت یہ خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ اس کی کانٹے دار کھال نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اسے دن بھر کھانے پینے کے سوا کوئی اورکام نہیں۔ اس میں کئی دوسرے جانوروں کی خوبیاں بھی موجود ہیں،چونچ پرندوں اور کھال کا اوپری حصہ ”پارکیوپائن ‘‘سے مشابہت رکھتاہے۔اسی طرح یہ میمل ہے مگراس کی مادہ انڈے دیتی ہے۔ اگرچہ آسٹریلیا میں کئی ایسے میمل پائے جاتے ہیں جو بچے دینے کی بجائے انڈے دیتے ہیں ،یہ بھی ان میں سے ایک ہے ۔ مادہ ایک موسم میں ا یک سے زیادہ انڈہ نہیں دیتی ۔ زندگی بھر میں مورخور خارپشت کی مادہ دو سے زیادہ انڈے نہیں دیتی۔ انڈے بھی رینگنے والے جانور کی طرح دیتی ہے۔انڈہ دینے کے بعد مادہ اپنی تھیلی میں خود ہی قید ہو جاتی ہے ،دس دن میں بچہ نکلنے کے بعد باہر آتی ہے۔ بچوں کو دودھ پلانے کا عمل بھی ان کا دوسرے جانوروں سے مختلف ہے۔ کینگروجیسی تھیلی بھی اس کے پیٹ کے نچلے حصے میں فٹ ہوتی ہے ۔ دودھ اسی تھیلی میں جمع ہو جاتا ہے جو بچے پی لیتے ہیں۔اس کا وزن 4سے 10پائونڈ اور لمبائی 12سے 17انچ کے درمیان میں ہوتی ہے۔اس کی دو انواع ہیں۔ ایک نوع کی چونچ لمبی اور دوسری نوع کی چونچ ذرا چھوٹی ہوتی ہے۔ دھڑ کے نچلے حصے اور ٹانگوں کے سوا جسم کے تمام حصوں پر سرکنڈوں جیسے دو انچ لمبے خار یا بال ان کی پہچان ہیں اسی لئے شدید سردی بھی پریشان نہیں کرتی۔اس جانور کے سونے کا بھی اپنا ہی انداز ہے، اسے اچھی نیند 77ڈگری فارن ہائیٹ پر آتی ہے اس سے زیادہ درجہ حرارت پر اس کی نیند اڑ جاتی ہے۔ یہ ٹھیک طرح سے سو بھی نہیں پاتا۔اس جانور کا درجہ حرارت دیگر جانوروں سے کم یعنی 89ڈگری فارن ہائیٹ رہتاہے، یہ بھی ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا، درجہ حرارت میں 6سے 8 ڈگری سنٹی گریڈ کی کمی یا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کی عمر 50برس تک ہو سکتی ہے جو دوسرے جانوروں سے بہت زیادہ ہے۔ اپنی عمر کا بڑا حصہ یہ تنہائی میں گزار دیتا ہے۔ ایک خاص موسم میں بہت سے مور خور خار پشت قطار میں ٹرین کی طرح کھڑے ہوجاتے ہیں۔خطرے کی صورت میں یہ گول مول ہو کر بے سدھ لیٹ جاتا ہے، دشمن مردہ سمجھ کر چلے جاتے ہیں، یوں یہ کچھ بھی کئے بغیر، یعنی لڑے بغیر جان بچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس جانور کے دانت نہیں ہوتے لیکن یہ دانتوں کا کام اپنی لمبی زبان سے لیتا ہے، جیسے سانپ اپنی زبان سے سب کچھ اندر کھینچ لیتا ہے اسی طرح یہ بھی زمین کے اندر پائے جانے والے کیڑوں مکوڑوں کو اپنی زبان کی مدد سے کھینچ لیتا ہے۔ اس کا دماغ دوسرے جانوروں سے کہیں بڑا ہوتا ہے ۔ شائد اس جانور میں ”Neocortex‘‘ کا سائز دوسرے جانوروں کے مقابلے میں کافی بڑا ہوتا ہے اور یہی دماغ کے سائز میں اضافے کا موجب بنتا ہے ۔ لیکن یہ زیادہ سوچنے والے جانوروں میں شمار نہیں کیاجاتا۔ اکثر جانوروں میں نیوکورٹیکس اس سے چھوٹا ہوتا ہے۔بہت سے جانوروں کی کھال میں کئی طرح کے پسو پروان چڑھتے ہیں، لیکن اس کی کھال پسوکے لئے بہترین ہے ، اس جانور کے پسو دوسرے جانوروں کی بہ نسبت بہت زیادہ بڑے ہوتے ہیں جن کا سائز 4ملی میٹر ہوتاہے۔انہیں دنیا کا سب سے بڑا پسو ماناجاتا ہے ۔

حکا یت ِ رُومی جان کا صدقہ مال
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس ایک نوجوان آیا اور درخواست کی کہ اے اللہ کے نبی! میں نے سنا ہے کہ آپ ؑتما م جانوروں اور پرندوں کی بولیاں جانتے ہیں ۔ آپؑ یہ فن مجھے بھی سکھا دیجئے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے نورِ بصارت سے اس نوجوان کے ذہن میں چھپی ہوئی اصل بات دیکھ لی اور اس سے کہا ”اس خیالِ خام سے باز رہ۔ اس میں بے شمار خطرے پنہاں ہیں۔ جانوروں کی بولیاں سیکھ کر خدا کی معرفت حاصل نہیں ہوتی۔‘‘موسیٰ کلیم اللہ نے اس نوجوان کو بہت سمجھایا ، لیکن جس قدر آپؑ اسے روکتے اور سمجھاتے، اسی قدر وہ ضد کرتا جاتا۔ اس نے کہا : ”اے پیغمبر خدا! مجھے اس بات سے محروم کرنا آپؑ کے لطف و کرم اور مہر و محبت سے بعید ہے۔‘‘تب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کیا ”یا الٰہی! تو بے نیاز ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نوجوان کی عقل کو شیطانِ مردود نے اپنا کھلونا بنا لیا ہے۔ تو ہی بتا ٗ میں کیا کروں؟ اگر اسے جانوروں کی بولیاں سکھا دوں تو یہ بات اس کے حق میں نیک نہ ہوگی اور اگر نہ سکھائوں تو اس کا دل صدمے سے چور ہوتا ہے۔‘‘حق تعالیٰ نے حکم دیا ”اے موسیؑ تم اس نوجوان کی خواہش پوری کرو۔ کیونکہ ہم کسی کی دعا رد نہیں کرتے‘‘۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار پھر اس نوجوان کو باز رکھنے کی کوشش کی۔نوجوان کہنے لگا ”بہت بہتر ،کم ازکم دو جانوروں کی بولیاں تو ضرور ہی سکھا دیجئے۔ ایک اس کتے کی بولی جو میرے مکان کے دروازے پر پہرا دیتا ہے اور دوسری اس مرغ کی بولی جو میرے گھر میں پلا ہوا ہے۔ ‘‘حضرت موسیٰ علیہ السلام فرمایا ”اچھا ،جا آج سے ان دونوں حیوانوں کی بولی کا فن میں نے خدا کے حکم سے تجھے عطا کیا۔‘‘وہ نوجوان خوش خوش گھر واپس گیا ۔تھوڑی دیر بعد خادمہ نے رات کا بچا کھچا روٹی کا ایک ٹکڑا باہر پھینک دیا۔ اسی وقت مرغ پھڑ پھڑاتا ہوا آیا اور وہ ٹکڑا اٹھا کر اپنی چونچ میں دبا لیا۔ پہرا دینے والے کتے نے یہ دیکھ کرمرغ سے کہا ”یارتو بڑا لالچی ہے۔باسی روٹی کا یہ ٹکڑا ہمارے حصے کا تھا وہ بھی تو نے اُچک لیا۔‘‘مرغ نے کتے کا شکوہ سنا تو جوب میں کہا ”بھائی، اس باسی روٹی کا رنج نہ کر ذرا صبر سے کام لے۔ خدا نے تیرے لیے بہترین نعمت مقررکی ہے۔ کل ہمارے مالک کا چہیتا گھوڑا مرنے والا ہے۔ اس کا گوشت خوب پیٹ بھر کر کھائیو۔‘‘اس نوجوان نے مرغ کی یہ بات سنتے ہی تھان پر سے گھوڑا کھولا، بازار میں لے جا کر اس کے دام کھرے کیے اور خوشی خوشی گھر واپس آیا۔اگلے روز مرغ نے کتے سے کہا ” گھوڑا تو مرنے ہی والا تھا۔ یہاں نہ مرا ، دوسری جگہ جا کر مرگیا۔ ہمارا آقا گھوڑا بیچ کر نقصان سے تو بچ گیا ۔ کل اس کا اونٹ مر جائے گا۔ پھر تیری پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہوگا۔‘‘نوجوان لپکا ہوا گیا اور اونٹ کو بھی بازار میں لے جا کر دام وصول کر لیے۔ دل میں خوش تھا کہ ان جانوروں کی بولیاں سیکھ کر فائدے ہی میں رہا۔ تیسرے دن کتے نے غرا کر مرغ سے کہا ‘زمانے بھر کے جھوٹے‘ کب تک کاٹھ کی ہانڈی آگ پر چڑھائے جائے گا۔ تو تو بڑا ہی فریبی نکلا۔ آخر تجھے جھوٹ بولنے میں مزا کیا آتا ہے؟‘‘مرغ نے کتے کی یہ جھاڑ سن کر کہا ”یارِ جانی‘ میں جھوٹ نہیں بولتا۔ مالک نے اونٹ کو بھی لے جا کر بیچ ڈالا اور پیسے جیب میں رکھے۔ اب وہ اونٹ جس بدنصیب نے خریدا تھا ، اس کے گھر جا کر مرگیا ہے۔ بہرحال، تو غم نہ کر۔ کل ہمارے آقا کا غلام مرے گا۔ غلام کے مرنے کے بعد آقا فقیروں کو روٹیاں اور گوشت بانٹنے کا اہتمام کرے گا، پھر تیرے مزے ہی مزے ہیں، اب خوش ہو جا۔‘‘مرغ کی بات سنتے ہی نوجوان نے غلام کو بھی ایک شخص کے ہاتھ اچھی قیمت پر بیچ دیا۔اس نے دل میں کہا، خدا کا لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے تین حادثوں سے بال بال بچا لیا۔چوتھے دن کتے نے لال پیلی آنکھیں نکال کر مرغ سے کہا ”جھوٹوں کے بادشاہ‘ تو نے یہ بھی سوچا کہ تیری یہ دروغ گوئی کب تک چلے گی؟ ‘‘مرغ نے جواب دیا ”میں نے سچ کہا تھا۔ آقا اگر اس غلام کو نہ بیچتا تو وہ اس مکان میں مرتا۔ جس نے اسے خریدا ، وہ اب رو رہا ہوگا۔ لیکن اب خود ہمارے آقا کی باری آگئی ہے۔ کل یہ مر جائے گا۔ آقا نے مرغ کی زبانی اپنے مرنے کی خبر وحشت اثر سنی تو پیروں تلے کی زمین نکل گئی۔ گرتا پڑا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوااور فریاد کی کہ اے خدا کے سچے نبی ، مجھے ملک الموت کے پنجے سے بچایئے۔ حضرت موسیٰ علیہ اسلام نے فرمایا :”ارے احمق! اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے۔ فوراً بازار میں جا اور اپنے آپ کو بھی بیچ ڈال۔ تو تو اس کام میں بڑا ہوشیار ہے۔ اس مرتبہ بھی اپنا نقصان کسی اور کے سر منڈھ دے اور خود کو بیچ کر جو مال ملے وہ اپنے خزانے میں بھر لے۔ سچ ہے ،مصیبت کو عقل مند پہلے دیکھ لیتا ہے اور بے وقوف آخر میں۔‘‘اس نوجوان نے پھر منت سماجت شروع کردی اور اس قدر رویا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس پر رحم آیا۔ ارشاد ہوا ”اے نوجوان ‘ اب تو تیر کمان سے نکل چکا ، قضا نے تیرا گھر تاک لیا ہے او راسے ٹالنا میرے بس میں نہیں۔ ‘‘اچانک نوجوان کا جی گھبرایا، ہاتھ پائو سنسنانے لگے۔ یکایک خون کی ایک قے ہوئی۔ وہ قے ہیضے کی نہ تھی ، موت کی تھی۔ اسی وقت چار آدمی اسے کندھوں پر لاد کر گھر لے گئے۔زبان بند ہوئی، آنکھوں کی پتلیاں پھر گئیں ، آخرکار اس نے ایک ہچکی لی اور اپنی جان، جان آفریں کو سونپ دی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خبر سنی تو درگاہِ الٰہی میں دعا کی کہ اے باری تعالیٰ! اسے ایمان کی دولت نصیب فرما۔

’’ لوہے‘‘ کی بارش
لوہا دنیامیں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے، زیر زمین مختلف معدنیا ت میں چوتھے نمبر پر سب سے زیادہ مقدار میں لوہا ہی موجود ہے۔یہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے، اس کے بغیر پر تعیش زندگی کا تصور بھی خام ہے۔ ہم جس بستر پر سوتے ہیں ،وہ لوہے اور لکڑی کے سوا کچھ بھی نہیں، جس فرج میں اشیاء محفوظ کرتے ہیں ،وہ بھی لوہے ہی کا کرشمہ ہے۔سائیکل سے لے کر ہوائی جہاز تک،لوہا نہ ہو تو ہماری زمین پر رفتار اور آسمان میں پرواز ختم ہو جائے۔گھرکی تعمیر ہو یا آلات جراحی، کھیل کا میدان ہو یا ہوٹل، لوہے کے بغیر چھت ملے گی نہ آپریشن ہوں گے۔کہتے ہیں،کہ کئی کاموں کے لئے لوہا آسمان سے بھی ”برسا‘‘۔ یہ کوئی نئی دریافت نہیں،انسان 12ویں صدی عیسوی سے پہلے لوہے کے استعمال سے واقف تھا۔ مگر 12ویں صدی عیسوی میں لوہاکہاں سے حاصل ہوا؟ اس پر اختلاف ہے۔ 1324قبل مسیح میں مرنے والا فرعون مصرطوطن خانن لوہے کی اشیاء کے ساتھ دفن ہواتھا۔اس زمانہ کوکانسی کا دور کہا جاتا ہے، اس وقت انسان لوہے کی تیاری سے ناواقف تھا ۔ لیکن طوطن خانن کو کلہاڑے، لوہے کے ہار اور لوہے کے ”سرہانے‘‘کے ساتھ مٹی میں دبایا گیا۔ فراعنہ مصر نے یہ ”جدید ترین اشیاء ‘‘کس طرح تیار کیں؟، سائنسدان اس پر متفق نہیں۔ فرانسیسی ادارے ”نیشنل سنٹر برائے ریسرچ ‘‘کے ایلبرٹ جن بون کی تحقیق کا موضوع یہی ہے۔وہ لکھتا ہے، ”یہ میرا تاثر ہے، بعض ماہرین آثار قدیمہ شاید یقین نہ کریں ،دور کانسی میں بھی لوگ لوہے کی اشیاء سے واقف تھے۔ یہ لوگ لوہے کی اشیاء تیار کرتے رہے ہیں۔آپ اڑن طشتریوں کے گرنے کو یکسر مسترد کریں گے، مگر یہ محض پریوں کی کہانیاں یایا جن بھوتوں کے قصے نہیں ،بلکہ حقیقت ہے کہ آسمان سے ” لوہے کی بارش‘‘ ہوتی رہی ہے۔ کئی تہذیبوں کا شہاب ثاقب سے واسطہ پڑا۔قدیم مصری تصویروں( Hieroglyphics)میں آسمان سے لوہے کی بارش کی منظر کشی کی گئی ہے۔ اس کا حوالہ کنفیوشس کی تحریروں میں بھی ملتا ہے۔ اس عظیم چینی مفکر نے کرہ ارض پر شہاب ثاقب یا اڑن طشتریوں کے گرنے کا واقعہ بیان کیاہے۔یہ دونوں 645قبل از مسیح سے تعلق رکھتے ہیں۔ مگر شہاب ثاقب کبھی بھی مغربی دنیا کے سائنس دانوں کی دل چسپی کا مرکز نہیں رہے۔ انہوں نے ان پر سرے سے کوئی تحقیق ہی نہیں کی۔ایل برٹ جبرون لکھتا ہے کہ مغربی ماہرین آثار قدیمہ کو قدیم تہذیبوں کو سمجھنے میں بہت وقت لگا۔ آسمان اور زمین پر ہونے والے کیمیائی اور دوسرے عمل کے باہمی تعلق کو سمجھنا آسان نہیں۔ مثال کے طورپر زمانہ قدیم میں مصر میں استعمال ہونے والے لوہے کے بارے میں پہلے کہا گیا کہ یہ انا طولیہ سے منگوایا جاتا ہے جہاں سمین ڈگ انڈسٹری کام کر رہی تھی۔ اور شاید حطیطی تہذیب کے لوگوں نے 15 ویں صدی قبل از مسیح میں لوہے کا استعمال سیکھ لیا تھا۔ شہاب ثاقب کا قدیم ترین حوالہ بھی اسی زمانے اور اسی جگہ سے تعلق رکھتا ہے ۔حطیطی تہذیب کی دستیاب دستاویز یعنی cuneiform میں شہاب ثاقب کا حوالہ درج ہے۔ اس کی نشاندہی معروف محقق جوڈک کنگسن روڈ مین نے اپنے مضمون ”میٹیو رائٹس ان دی ایشین نیر ایسٹ ‘‘ میں بھی دیا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ ان سے نکلنے والی روشنی ایسی چکدار تھی کہ مشرق سے مغرب تک پھیل گئی۔ پھر آسمان میں غائب ہو گئی۔ جوڈو کنگسٹن یقین ظاہر کرتا ہے کہ قدیم لوگ ان شہاب ثاقب اور اڑن طشتریوں سے تیار کی گئی چیزیں مصریوں کو بیچا کرتے تھے۔ بعض ماہرین آثار قدیمہ نے یقین ظاہر کیا ہے کہ حطیطی تہذیب میں لوہا تیار کر لیا گیا تھا۔ ایسا نہیں ہے۔ وہ تو محض اڑن طشتریوں سے صرف اشیاء تیارکر رہے تھے۔ اڑن طشتریوں اور شہاب ثاقب کا تصور لوہے کے ابتدائی دور میں بھی ملتا ہے۔ معروف سائنسدان مارکوس مارٹینان ٹورس نے آرکیو انرجی پر تحقیق کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ زمانہ قدیم میں لوگ خود لوہا بنایا کرتے تھے یا اڑن طشتریوں سے حاصل کر تے تھے ؟ زیادہ واضح نہیں ہے۔محقق جبون نے یورپ اور مشرق وسطیٰ میں متعدد عجائب گھروں کا دورہ کیا ہے۔ اس نے یورپ میں اپنی آنکھوں سے ایکسرے فلورسنس اسپیکٹرو میٹر جیسے آلات کو بھی دیکھاہے۔ ایکسرے مشینیں ہم اپنی دور جدید کی دریافت سمجھتے ہیں لیکن وہ تو مشرق وسطیٰ اور یورپ کے عجائب گھروں میں قدیم آلات کے طور پر بھی موجود ہیں۔ انہی ایکسرے مشینوں کی مدد سے زمانہ قدیم کے لوگ کرئہ ارض پر لوہے کی موجودگی کا کھوج لگاتے تھے۔ چین میں شانگ سلطنت کے دور میں بننے والے آلات بھی ملے ہیں۔

خوشگوار ازدواجی زندگی کے اصول
خوشگوار زندگی کے کئی اصول ہیں، جن میں ظاہری شخصیت بھی شامل ہے اور ذہن سوچ بھی۔ صفائی اور تازگی آپ کے جسم، بالوں، آنکھوں اور لباس سے عیاں ہونی چاہئے۔ مرجھائی ہوئی اور پریشان حال شخصیت کسی کو متاثر نہیں کرتی، خوش و خرم، مسکراتی اور چہکتی، پاک و صاف شگفتہ شخصیت بے پناہ کشش رکھتی ہے اور یہ پاکیزگی اور شگفتگی صرف باہر نہیں اپنے گھر میں بھی ضروری ہے۔ عورت کی دلکشی ہنستی مسکراتی اور صاف ستھری شخصیت میں ہے۔ لباس خواہ کیسا ہو صاف ستھرا ہونا چاہئے اور ان کو سلیقے سے پہننا چاہئے، بال صاف بھی ہوں اور سنوارے ہوئے بھی، ناخن صاف اور تراشے ہوئے، جسم پاکیزہ اور مہکتا ہوا، بناؤ سنگھار میں سادگی ہو غیر معمولی نمائش نہیں۔چہرے پہ سکون و شگفتگی ہو، چڑ چڑا پن، غصہ اور نک چڑھی شخصیت سارے حسن کو زائل کر دیتی ہے۔ مسکراتا اور مطمئن چہرہ مقناطیسی کشش پیدا کرتا ہے، دانت صاف ہونا ضروری ہیں اور آنکھوں میں بھی تروتازگی صفائی سے آتی ہے، ان چند باتوں پر توجہ دی جائے تو شکل و صورت خواہ کیسی ہو آپ کا سراپا دلکش بن جاتا ہے۔زندگی کو زندہ دلی کا نام دیا گیا ہے۔ جو بھی رونق محفل بننا چاہے اسے یہ اصول اپنانا ہوگا۔ زندہ دل لوگ ہر سمت مسرتیں بکھیرتے ہیں اور یہی سبب ہے کہ ہر جگہ دلعزیز ہوتے ہیں، زندگی سے پیار کرنا سیکھئے یعنی اسے ہنستے کھیلتے بسر کرنے کا انداز اپنائیے، مسکراتے چہروں میں بے پناہ کشش ہوتی ہے۔ روتے بسورتے مرد اچھے ہوتے ہیں نہ ہی خواتین ۔اور زندگی کا شکوہ کرتے لوگوں سے لوگ بیزار رتے ہیں۔ دنیا میں کون ہے جسے دکھ درد اور مسائل کا سامنا نہیں، لیکن بعض خواتین کی عادت ہوتی ہے کہ ہر محفل میں اپنا دکھڑا رونے بیٹھ جاتی ہیں ایسی خواتین سے سب دور بھاگتی ہیں، خود آپ بھی۔ لیکن آپ اپنی بات کرنے بیٹھتی ہیں تو اس کمزوری کو بھول جاتی ہیں، یاد رکھیے کہ دنیا ہمدردی اور محبت کا پھول ہے آپ دوسروں کے دکھ درد اور ان کی بات توجہ سے سن کر اور ان کو محبت سے مشورے دے کر ہلکا کر سکتی ہیں۔آپ کو سب سے زیادہ غیر مقبول بتانے والی چیز اپنی برتری کا اظہار اور دوسروں پر تنقید کرنے کی عادت ہے۔بعض خواتین ہر محفل میں یہی دو کام کرتی ہیں اور اپنی شخصیت کو ناپسندیدہ بنالتی ہیں، ایسی خواتین کا کوئی بھی دوست نہیں ہوتا۔ آئندہ اس بات کو یاد رکھئے، جہاں بھی جائیے جس سے بھی ملئیے، اس کی ذات ، اس کے لباس اور اس کی اچھی باتوں کی ستائش میں فراخدی سے کام لیجئے، اس کی ہمت افزائی کیجئے اور اس سے اپنائیت کا سلوک کیجئے۔ ہر دلعزیز کا یہ بہترین اصول ہے۔ لوگوں سے ملنے جلنے کا انداز مہذب اور شائستہ ہونا چاہیئے لیکن اس میں تصنع اور بناوٹ باکل نہ ہو ممکن ہے آپ کو احساس نہ ہو لیکن بناوٹ کو لوگ فورًا محسوس کر لیتے ہیں اس لئے اپنے اندر شائستگی اور تہذیب پیدا کیجئے تاکہ قدرتی طور پر طرز عمل خوشگوار بن جائے۔ بہت زیادہ پرتکلف انداز مصنوعی محسوس ہوتا ہے اور حد سے زیادہ بے تکلفی بھی پسند نہیں کی جاتی۔ ہمیشہ میانہ روی کو اپنانے کی کوشش کیجئے۔کچھ لوگ اجنبی ماحول میں بھی بہت جلد گھل مل جاتے ہیں اور بعض اپنے ماحول میں بھی اجنبی ہوتے ہیں، ظاہر ہے گھل مل جانے کی صاحیت ان کو ہر دل عزیزبناتی ہے۔ اخلاق ایک ایسا حسن ہے کہ اجنبی کو بھی دوست بنا دیتا ہے۔ شائستگی شخصیت کو جاذب نظر بناتی ہے اور خوش مزاجی آپ کے لئے لوگوں کے دلوں میں جگہ پیدا

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں