یہ ایک ایسا افسوسناک واقعہ تھا جس نے پریمی جوڑے رومیو اور جولیٹ کی یاد تازہ کر دی

یہ ایک ایسا افسوسناک واقعہ تھا جس نے پریمی جوڑے رومیو اور جولیٹ کی یاد تازہ کر دیا۔

نائیجیریا میں ایک جوڑے نے رواں ماہ کے آغاز میں اس وقت خود کشی کر لی جب ان کے والدین نے انھیں آپس میں شادی کرنے سے منع کر دیا۔ منع کرنے کی بنیادی وجہ یہ تھی اُن میں سے ایک غلاموں کی اولاد تھی۔

خود کشی سے پہلے تحریر کیے گئے اپنے ایک نوٹ میں انھوں نے لکھا ’وہ (والدین) کہتے ہیں ہم ایک قدیم عقیدے کی وجہ سے شادی کی بندھن میں نہیں بندھ سکتے۔‘

ایک دوسرے کی محبت میں مبتلا ہونے والے اس جوڑے کا تعلق جنوبی مشرقی ریاست کے علاقے اوکیجہ سے تھا، جہاں نائجیریا کے نوآبادیاتی حکمران برطانیہ کی جانب سے ملک کے دیگر حصوں کی طرح غلامی کو سرکاری طور پر ختم کر دیا گیا تھا۔

لیکن ایگبو نامی نسلی گروہ میں آزاد غلاموں کی اولاد کو اب بھی اپنے آباؤ اجداد کی حیثیت کی پہچانا جاتا ہے اور مقامی ثقافت میں ایسے افراد سے شادی کی ممانعت ہے اس بات سے قطع نظر کہ یہ افراد اب پیدائشی طور پر آزاد ہیں۔

اس جوڑے نے لکھا ’خدا نے سب کو یکساں طور پر پیدا کیا ہے تو انسان ہمارے باپ دادا کی لاعلمی کی وجہ سے کیوں امتیازی سلوک برتتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

مذہب اور قانون کے درمیان پھنسی ایک شادی

’مجھے اس کی ذات پات سے کوئی مطلب نہیں تھا‘

’پہلا دلت شوہر قتل، اب دوسرے کے قتل کا بھی خوف‘

فیور کہتی ہیں کہ ’انھوں (لڑکے کے والدین) نے اپنے بیٹے کو اس تعلق کو توڑنے کا کہا‘

بہت سارے ایگبو جوڑے اپنی نسل اور خاندان کی وجہ سے اس طرح کے امتیازی سلوک کا سامنا کرتے ہیں۔

تین سال قبل 35 سالہ فیور، جو اپنی کنیت استعمال نہیں کرنا چاہتیں، ایک ایسے شخص سے شادی کی تیاری کر رہی تھیں جس کے ساتھ وہ پانچ سال سے تعلقات میں منسلک تھیں۔ پھر اُس شخص کے ایگبو خاندان کو پتہ چل گیا کہ وہ (فیور) غلام کی اولاد ہیں۔

فیور کہتی ہیں کہ ’انھوں (لڑکے کے والدین) نے اپنے بیٹے کو اس تعلق کو توڑنے کا کہا۔‘

پہلے تو ان کے منگیتر نے انکار کیا لیکن جلد ہی والدین اور بہن بھائیوں کے دباؤ میں آ کر اس نے رشتہ ختم کر دیا۔

وہ کہتی ہیں ’مجھے برا لگا۔ مجھے بہت تکلیف ہوئی۔ مجھے بہت تکلیف ہوئی۔‘

خوشحال لیکن ’کمتر‘

شادی وہ واحد رکاوٹ نہیں ہے جس کا سامنا غلاموں کی اولادیں کرتی ہیں۔

ان پر روایتی بڑے عہدوں تک پہنچنے اور اشرافیہ کی گروہوں میں داخلے پر بھی پابندی عائد ہے، اور اکثر انھیں سیاسی عہدے کے لیے انتخاب لڑنے اور پارلیمنٹ میں اپنی جماعتوں کی نمائندگی کرنے سے بھی روک دیا جاتا ہے۔

 

اوگے ماداؤگو روایتی رہنماؤں سے ملنے اور ان کے خیالات کو تبدیل کرنے کے لیے جنوب مشرق کے چاروں طرف سفر کرتی ہیں

تاہم ان کی تعلیم یا معاشی ترقی میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہے۔ ان محرومیوں نے انھیں مذہب اور باضابطہ تعلیم کی جانب دھکیل دیا۔ خاص کر ایک ایسے وقت میں جب دوسرے مقامی افراد، غیر ملکیوں کے بارے میں شک و شبہے کا شکار تھے۔

کچھ غلام اولاد آج اپنی برادریوں میں بہت خوشحال ہیں، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ وہ چاہے کتنا بھی کما لیں، پھر بھی انھیں کمتر ہی سمجھا جاتا ہے۔

2017 میں، 44 سالہ اوگے ماداؤگو نے ہماری سوسائٹی میں روایتی اور ثقافتی استحکام کے خاتمے کے لیے اقدام کی بنیاد رکھی۔

پچھلے تین برسوں سے وہ جنوب مشرقی نائیجیریا کی پانچ ریاستوں میں سفر کر رہی ہیں اور غلاموں کی اولاد کے لیے مساوی حقوق کی وکالت کر رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’سیاہ فام لوگ امریکہ میں جس طرح کی تکلیف سے گزر رہے ہیں، یہاں کی غلام اولاد بھی اسی تکلیف سے گزر رہی ہے۔‘

مادائوگو غلاموں کی اولاد نہیں ہیں، لیکن انھوں نے امو ریاست میں بڑھتے ہوئے اس عدم مساوات کا مشاہدہ کیا اور اپنے قریبی دوست کی تباہی (جسے غلام کی اولاد سے شادی کرنے سے روکا گیا تھا) کو دیکھ کر اس سے نمٹنے کے لیے حرکت میں آئیں۔

اپنے دوروں کے دوران ماداگو نے اثر و رسوخ رکھنے والے روایتی افراد اور غلام اولادوں سے الگ الگ ملاقات کی، پھر دونوں گروپوں کے مابین بات چیت سیشن میں ثالثی کی۔

وہ کہتی ہیں ’اگر مردوں نے بیٹھ کر یہ قواعد بنائے یہیں تو ہم بھی بیٹھ کر دوبارہ سے قواعد
اوگے ماداؤگو امید کرتی ہیں کہ بلیک لائیوز میٹر کے احتجاج سے ایگبو کے رویوں کو تبدیل کرنے میں مدد ملے گی

ایگبو کی غلام نسل، اوہو اور اوسو میں تقسیم ہیں۔ اوہو کے آباؤ اجداد کی ملکیت انسانوں کے پاس تھی، جب کہ اوسو کے مالک دیوتا تھے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے افریقی مطالعات کے پروفیسر یوگو نووکیجی کہتے ہیں ’اوسو غلامی سے بھی بدتر ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ مشنریوں کے ذریعے اوسو کو غلط طور پر غلاموں میں شمار کیا گیا تھا۔‘

’غلامی، غلامی پر برتری حاصل کرسکتی تھی اور خود غلام آقاؤں کی حیثیت اختیار کرلی جاتی تھی لیکن اوسو نسلوں تک یہ حیثیت اختیار نہیں کر سکتا تھا۔‘

اوسو کے خلاف امتیازی سلوک بدتر ہوتا ہے

اوہو کو بیرونی طور پر پسماندہ کردیا گیا ہے۔ لیکن اوسو کے معاملے میں ان کے آباؤ اجداد کو کہاں سے غلام بنا کر لایا گیا تھا، اس بارے میں کچھ حتمیٰ معلومات نہیں۔ اس لیے اوسو کے ساتھ تعلقات ناصرف معاشرتی بدنامی بلکہ ان کے مالک دیوتاؤں کے خوف سے بھی توڑ دیے جاتے ہیں۔

فیوور کے منگیتر کو اس کے والد نے بتایا تھا کہ اگر اس نے فیوور سے شادی کی تو اس کی زندگی کا دورانیہ کم ہو جائے گا۔

’انھوں نے اس میں خوف ڈالا اور اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں چاہتی ہوں کہ وہ مر جائے۔‘

اس طرح کے خوف نے نائجیریا کے آئین میں موجود امتیازی سلوک کے خلاف قوانین کا نفاذ کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ 1956 کے ایک قانون جسے ایگبو کے قانون سازوں نے بنایا تھا، کے مطابق اوہو یا اوسو کے خلاف امتیازی سلوک پر پابندی عائد ہے۔

امو ریاست کے ایک کیتھولک آرچ بشپ انتھونی اوبینا، جو امتیازی سلوک کے خاتمے کی وکالت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں ’قانونی پیش گوئیاں کچھ خاص رواج کے خاتمے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ آپ کو نچلی سطح پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘

اپنی وکالت کے دوران ماداگو نے لوگوں کو ان مختلف طریقوں کے بارے میں تعلیم دی جن میں اوسو سے متعلق روایتی رہنما خطوط کی خلاف ورزی کی جاتی رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے ’آج ہم ان کے گھروں میں کرایہ دار ہیں، ہم ان کی تنخواہ پر ہیں، ہم ان سے قرض لینے جاتے ہیں۔‘

اوسو کے ساتھ اس طرح کی رفاقت ماضی میں ناقابل تصور تھی۔ جنوب مشرقی نائیجیریا میں غلاموں کی اولاد کی تعداد کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔

لوگ اپنی حیثیت کو چھپاتے ہیں، حالانکہ چھوٹی برادریوں میں ایسا کرنا ناممکن ہے جہاں سب کی نسل کا علم ہوتا ہے۔ کچھ برادریوں میں صرف اوہو یا اوسو ہوتا موجود ہیں، جبکہ کچھ جماعتوں میں دونوں ہوتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں، اوہو اور اوسو کی طرف سے بڑھتے ہوئے احتجاج کی وجہ سے بہت ساری برادریوں میں تنازعات اور بدامنی پھیل گئی ہے۔

کچھ غلام نسلوں نے اپنی قیادت اور اشرافیہ کے گروہوں کے ساتھ اپنی الگ سوسائیٹیز بنالی ہیں۔

 

آرچ بشپ اوبینا، جنھیں ’مخلوط جوڑوں‘ کی شادیوں میں شرکت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، کہتے ہیں: ’مجھے کچھ جوڑوں کو ان کے والدین اور رشتہ داروں کے تشدد سے محفوظ رکھنا پڑا ہے‘

تقریبا 13 سال پہلے، امو ریاست میں اوسو نے نینیجی کے نام سے ایک گروپ تشکیل دیا، جس کا مطلب ہے ’ایک ہی بچہ دانی سے۔‘

نینیجی اپنے ہزاروں ممبروں کو جو فوائد فراہم کرتا ہے ان میں دنیا کے مختلف حصوں میں اپنے بالغ بچوں کے مابین شادیوں کا اہتمام کرنا بھی شامل ہے۔

’اوسوڈینما، جو ایک متمول اوسو خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور جن کے شوہر ننیجی کے سرپرست ہیں، کہتی ہیں ’لوگ آپ کے پاس اسی وقت آتے ہیں جب وہ آپ سے کوئی کام لینا چاہتے ہیں۔‘

’لیکن جب آپ کے بچے انھی لوگوں کے بچوں سے شادی کرنا چاہتے ہیں، تو وہ شکایت کرتے ہیں کہ وہ تو اوسو ہے۔‘

آرچ بشپ اوبینا، جنھیں ’مخلوط جوڑوں‘ کی شادیوں میں شرکت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، نے بتایا : ’مجھے کچھ جوڑوں کو ان کے والدین اور رشتہ داروں کے تشدد سے محفوظ رکھنا پڑا ہے۔‘

اوگاڈینما، جنھوں نے اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے خاندانی نام استعمال نہ کرنے کی درخواست کی تھی، انھیں بھی اس وقت تعصب کا سامنا کرنا پڑا جب وہ 10 سال قبل ایک سیاسی عہدے کے لیے انتخابی مہم چلا رہی تھیں۔

لوگوں کی طرف سے ایسی درخواستیں داخل کی گئیں جن کا کہنا تھا کہ وہ مقابلہ کرنے کے لیے غیر موزوں‘ ہیں۔ ان کی پارٹی کے قومی رہنما، جو یوروبہ، جن کے لیے ان کی حمایت کرنا مشکل تھا، نے انھیں راضی کیا کہ وہ جیت نہیں پائیں گی۔

’اس نے مجھے صاف صاف کہا: ‘کچھ ایسی بات ہے کہ لوگ کہہ رہے آپ ایگبو ہیں، وہ لوگ آپ کے لوگوں کو آپ کو ووٹ نہیں ڈالنے دیں گے۔‘

نائیجیریا کے دو دیگر بڑے نسلی گروہوں، یوروبا یا ہاؤسا میں غلام ذات پر مبنی امتیاز عام نہیں ہے۔ لیکن مغربی افریقی ممالک جیسے مالی اور سینیگال کے کچھ نسلی گروہوں میں اس کی اطلاع ملی ہے۔

مادائوگو کے گروپ میں اب چار افراد پر مشتمل عملہ اور ایک درجن کے قریب رضاکار ہیں۔ یہ کام سست روی کا شکار اور سخت رہا ہے، لیکن مٹھی بھر روایتی حکمرانوں نے اپنی برادریوں میں عدم مساوات کے خاتمے کے عمل کا آغاز کیا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ابتدا میں ان کی سرگرمیوں کے مخالف لوگوں کے جانب سے کیے گئے سوشل میڈیا حملوں پر وہ حیران رہ گئیں تھیں۔

’مجھے یہ پیغام پھیلانے کے لیے بہت سارے ایگبو گروپس میں شامل ہونا پڑا اور ان میں سے بہت سے لوگوں نے میری توہین کی اور مجھے بتایا کہ ان کی روایت برقرار رہے گی۔‘

نالی ووڈ کا عنصر

اوگادینما کا خیال ہے کہ یہاں تک کہ پڑھے لکھے اور روشن خیال لوگوں میں بھی ایسے رویوں کو افریقی ادب کے ذریعہ بڑھاوا دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر نائیجیریا کے مصنف چنوا اچیبی کی ’تھینگز فال اپارٹ‘۔

’وہ دیوتا پرست شخص تھا۔ اور اس کے بعد اس کے بچے، اچیبی، جو خود ایک ایگبو تھا، انھوں نے بھی اپنی 1958 کی کتاب میں اوسو کے بارے میں لکھا۔

،تصویر کا کیپشن
بشپ اگبو کا کہنا ہے ‘ایسے عقائد جو ہم نے توہم پرستوں کے طور پر پہلے ہی قبول کر لیے تھے، اب وہ افریقیہ میجک کی وجہ سے حقیقی سچائی کے طور پر واپس آرہے ہیں۔ وہ ہماری ثقافت کی نمائش کے طور اسے پیش کرتے ہیں لیکن وہ معاشرے پر پائے جانے والے اثرات سے آگاہ نہیں ہیں۔’

’وہ نہ تو شادی کرسکتا تھا اور نہ ہی آزادانہ پیدائش کے باعث اس کی شادی ہو سکتی تھی۔ ایک اوسو، آزادانہ طور پر پیدا ہونے والے بچے کی محفل میں شریک نہیں ہوسکتا تھا، وہ اس کی چھت کے نیچے پناہ نہیں لے سکتے تھے ۔۔۔ جب اس کی موت ہوگئی تو اسے اپنی طرح کے افراد کے بیچ دفن کردیا گیا۔۔ جنگل میں۔‘

اوگاڈینما کو تشویش لاحق ہے کہ دنیا بھر کے نائیجیریا کے طلبا، نصاب کے حصے کے طور پر جو ناول پڑھتے ہیں اس سے وہ لاشعوری طور پر اوسو کے بارے میں روایتی عقائد کو اپناتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’اگر نائیجیریا کے بچوں کی ہر نسل اس اوسو کے بارے میں پڑھ رہی ہے تو کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اس سے ان کی سوچ متاثر ہوگی؟‘

ریاست اینگو کے ایک انگلیائی بشپ الیسیس اگبو کے مطابق، نالی ووڈ کا بھی اس میں کردار ہے، جو اس امتیازی سلوک کے خاتمے کی وکالت کرتا ہے۔

نائجیریا کی فلموں کے اپنے مخصوص ٹی وی چینلز ہیں، جن میں انتہائی مقبول افریقہ میجک بھی شامل ہے۔

بشپ اگبو کا کہنا ہے کہ ’ایسے عقائد جو ہم نے توہم پرستوں کے طور پر پہلے ہی قبول کر لیے تھے، اب وہ افریقیہ میجک کی وجہ سے حقیقی سچائی کے طور پر واپس آرہے ہیں۔ وہ ہماری ثقافت کی نمائش کے طور اسے پیش کرتے ہیں لیکن وہ معاشرے پر پائے جانے والے اثرات سے آگاہ نہیں ہیں۔‘

لیکن دنیا بھر میں حالیہ بلیک لائیوز میٹر مظاہروں کے ساتھ ، ماداگو نے امید ظاہر کی ہے کہ مزید ایگبو افراد اپنا رویہ تبدیل کرنے کے لیے کوششیں کریں گے۔

وہ کہتی ہیں ’اگر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ سیاہ فام امریکیوں کے اذیت ناک سفر کا آغاز یہاں ہوا ہے تو، بی ایل ایم احتجاج ہمارے کام کو مثبت طور پر متاثر کرے گا۔‘

’لیکن اس کے لیے افریقیوں کو اندرونی طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ان کے وطن میں کیا ہو رہا ہے۔‘

 

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *