مسلمانوں کے لیے اللہ کی نعمتیں

کیا آپ جانتے ہیں کہ چھینک کے بعد الحمداللہ کیوں کہا جاتا ہے؟

 

 

سب کہیں گے کہ آپؐ کی حدیث ہے۔جی بلکل مگر اس کے پیچھے بھی ایک بہت بڑی سائنسی حقیقت ہے۔

 

 

چھینک کی رفتار 100 کل میٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ جب ہم چھینکتے ہیں تو ہمارا دل ایک لمحے کے لیے رک جاتا ہے جو چھینکنے کے بعد دوبارہ ڈھڑکنا شروع ہو جاتا ہے

 

 

  1. ۔اس کے علاوہ دماغ کے پچھلے حصے میں مٹر کے سائز کا پچوٹری گلینڈ ہوتا ہے جو دماغ کے ساتھ ایسے ہی جڑا ہوتا ہے جسے مٹر جڑا ہوتا ہے۔جو ہلکا سا ہلنے سے ٹوٹ سکتا ہے۔جب ہم چھنکتے ہیں ہیں تو اُس کو بھی جھٹکا لگتا ہے مگر وہ ٹوٹتا نہیں ہے۔اگر وہ ٹوٹ جائے تو انسان اپنے حواس کھو دے۔اس لیے انسان اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ وہ دوبارہ بلکل زندہ اورصحت مند ہے۔
یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *