سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے

دو ماہ قبل مجھے والد کی بیماری کی وجہ سے رات گئے ہسپتال جانا پڑا۔ راستے میں ایک ویران جگہ پر پٹرول ختم ہونے کی وجہ سے میری گاڑی رک گئی۔ میں نے بھائی کو فون کیا، اسے آنے میں کم از کم گھنٹہ لگنا تھا۔ میں انتظار کرنے لگی۔

 

 

کچھ دیر بعد وہاں سے سترہ اٹھارہ سال کا ایک لڑکا بائیک پر تیزی سے گزرا۔ مگر گاڑی سے کچھ آگے جانے کے بعد وہ رکا اور واپس آنے لگا۔ مجھے خطرے کی گھنٹی بجتی محسوس ہوئی، میں نے گاڑی لاک کی اور آیۃ الکرسی پڑھنی شروع کر دی۔ وہ کچھ فاصلے پر رکا اور ہاتھ کے اشارے سے کہا : ”کیا ہوا؟“ میں نے کہا پٹرول ختم ہو گیا ہے۔ اس نے پوچھا : ”بوتل ہے آپ کے پاس؟“ اتفاق سے گاڑی میں ڈیڑھ لٹر والی خالی بوتل موجود تھی جو میں نے اسے دے دی۔ وہ بائیک ٹینک سے اس میں پٹرول بھرنے لگا۔ دو تین منٹ بعد اس نے مجھے بوتل تھمائی اور بولا : ”احتیاط کیا کریں، تھوڑا سا آگے پٹرول پمپ ہے، وہاں تک چلی جائیں۔“ اور چلا گیا۔

 

 

مجھے نہیں معلوم وہ کون تھا، کہاں سے آیا تھا۔ ہاں جب بوتل بھر رہا تھا تب اسے ایک فون آیا۔ مکمل سناٹا تھا، سو مجھے کالر کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ غالباً اس کی امی تھیں۔ ”وہاج بیٹے کہاں رہ گئے ہو؟“ اس نے کہا : ”راستے میں ہوں، بس آ رہا ہوں۔“ میں نے اسے پٹرول کی قیمت کی پیشکش کی مگر وہ کہنے لگا : ”آپ مجھے اپنا بھائی سمجھیں۔“

 

 

میں ششدر رہ گئی۔ ہر مرد ایک سا نہیں ہوتا۔ ہمیں من حیث القوم ایسے ہی با کردار مردوں کی ضرورت ہے جو اپنی عورتوں کو تحفظ دینا جانتے ہیں۔ موقع کی تلاش میں نہیں ہوتے۔ اس ماں کو سلام جس کی تربیت نے ایسا نوجوان جنم دیا۔

 

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *