گلوکار شہزاد رائے کی زندگی کا اہم ترین واقعہ

جانیے شہزاد رائے کی زندگی کا اہم واقعہ

کچھ عرصہ قبل گلوکار شہزاد راۓ اپنے بارے میں گفتگو کرتے ہوۓ بڑے فخر سے کہہ رہا تھا.
کہ کنسرٹ میں” ہمیں سننے ہزاروں لوگ آجاتے ہیں ۔
بازار میں جائیں تو ان گنت نگاہیں ہمارا تعاقب کرتی ہیں ۔
نئ البم آۓ تو ہاتھوں ہاتھ بک جاتی ہے۔
جب ہم کوئ گانا پبلک میں گاتے ہیں تو ایک دنیا ہمارے ساتھ جھوم جھوم کر گانے لگتی ہے
لیکن

 

اور پھر اس کےساتھ ہی گلوکار کا لہجہ افسردە ہوگیا
اور اس نے ایک عجیب دکھ بھرے لہجے میں کہا
لیکن لوگ دل سے عزت نہیں کرتے۔
ہم بہت حیران ہوۓ
اور پوچھا کہ وە کیسے؟
لوگ تو تمہارے اور بہت سے دوسرے فنکاروں کے دیوانے ہیں۔
شہزاد راۓ ایک سمجھدار فنکار ہے
اور بہت سےدوسرے شوبز لوگوں کے بر عکس عقلمند اور حقیقت پسند بھی ۔

 

اس پر ہنس کر کہنے لگا میں تمہیں ایک سچا واقعہ سناتا ہوں۔
بات تمہاری سمجھ میں آجاۓ گی۔
اور واقعی شہزاد راۓ کی کہانی سن کر بات ہماری سمجھ میں آگئ۔
آپ بھی سنئے اسی کی زبانی۔
شاید بہت سی گرە کھل جائیں ۔
ایک دفعہ پنجاب کے ایک بہت بڑے زمیندار کے گھر پر فنکشن تھا۔ غالبا” زمیندار صاحب کے بیٹے کی شادی تھی۔ مجھ سمیت کئ دوسرے فنکاروں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ جس کو بھی بلایا وە پہنچا کہ پیسہ منہ مانگا دیا جا رہا تھا۔ کئ چھوٹی موٹی اپوائنٹمنٹ چوہدری صاحب کی فنکشن میں شرکت کے لیۓ کینسل کی گیئں۔ سب کو پیسہ ہی اتنا بھرپور مل رہا تھا۔ بہرحال پورا طائفہ چوہدری صاحب کے ہاں پہنچ گیا۔ فنکشن فیصل آباد کے علاقے میں ایک گائوں میں زمیندار صاحب کی قلعہ نما حویلی میں تھا۔ وہاں جاتے ہوۓ جو تھوڑے بہت خدشات تھے وە اس وقت دور ہوگۓ جب چوہدری صاحب بہ نفس نفیس ہمارے استقبال کو آۓ۔ اور حویلی کے ہی ایک سیکشن کی بالائ منزل پر ہمارے قیام کا اس قدر شاندار بندوست کیا گیا کہ کیا کسی فائو سٹار ہوٹل میں ہوگا۔

 

رات فنکشن پر بھی بہت سی سیاسی اور سماجی شخصیات مدعو تھیں جنکے سامنے گا کر ہمیں خود اپنی عزت و احترام کا مزید احساس اجاگر ہو۔ زمیندار صاحب کے کارندوں نے بھی ہماری آئو بھگت میں کوئ کسر نہ آٹھا رکھی۔ رات گۓ فنکشن ختم ہونے کے بعد جب ہم سونے کے لیۓ گۓ تو ہم خود اپنی نظروں میں پہلے سے کہیں زیادە قدآور ہو چکے تھے۔

 

میری آنکھ علی الصبح کھل گئ۔ میں اٹھ کر کھڑکی کے پاس آکھڑا ہوا اور باہر کے دل فریب منظرکا نظاە کرنے وہیں کھڑا ہو گیا ۔ گائوں والے تو سحر خیزی کے عادی ہوتے ہیں ۔ باہر بہت سے لوگ رات کی فنکشن کا سامان سمیٹنے میں مصروف تھے۔ میں انہیں دیکھ ہی رہا تھا کہ دوسری جانب سے چوہدری صاحب بہ نفس نفیس خود ہاتھ میں ایک سٹک تھامے آتے نظر آۓ۔ غالبا” باغیچے میں مارننگ واک سے واپس آرہے تھے ۔ میں اس منظر سے محظوظ ہی ہو رہا تھا کہ چوہدری صاحب کی آواز سنائ دی

 

 

” اوۓ رحمان !؂ کنجراں دے چاۂ ناشتے دا انتظام تے ٹھیک ہو گیا نا”
” ہاں چوہدری صاحب۔ تساں فکر نہ کرو۔ کوئ شکایت دا موقع نہ مل سی”
اور پھر چوہدری صاحب نے جو ہم کنجروں کے لیۓ کافی فکر مند تھے

 

مزید تاکید کرتے ہوۓ فرمایا٬
” ہاں بھئ اے کنجر ہمارے مہمان ہیں
اور میرے پتر کی شادی پر آۓ ہیں ۔ خوش خوش واپس جانے چاہئیں ”
تو یہ تھی ہماری عزت ان کی نظر میں ۔
ہمیں ڈھیروں پیسہ ملا۔
آئو بھگت بھی بہت ہوئ
جو شاید وہاں کی ریت تھی
لیکن انکی نظروں میں ہم فقط کنجر ہی تھے۔
اور کنجر تو کنجر ہی ہو تا ہے.
اس کی عزت نہیں ہوتی.

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *