اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے کے دس طریقے

صبر اور شکر، عموماً یہ دو لفظ ایک ساتھ سننے میں آتے ہیں۔ آزمائشوں پر صبر کرنا اور نعمتوں پر شکر کرنا زندگی کو سہل بنانے کے دو خوبصورت اصول ہیں۔ صبر کے پھل کے ذائقوں سے پھر کسی روز ملاقات کریں گے۔ آئیے! آج شکر کرنا سیکھتے ہیں۔

قرآن پاک میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں:

’’تم شکر کرو، میں تمہیں اور زیادہ دوں گا‘‘
اللہ پاک کی عطا کی گئی زندگی پر راضی رہنا اور زندگی کا حسن بڑھاتی نعمتوں پر شکر ادا کرنا اس ذاتِ مبارک کا اپنے بندے پر حق ہے جس نے ہماری زندگی کو ان نعمتوں سے سجایا۔ سر سے لے کر پاؤں تک ہم اپنے جسم کے اعضاء اور ان سے جڑی نعمتوں پر ہی شکر ادا کرنے لگیں تو ان کا ہی شمار ممکن نہیں۔

آج کل کے مشینی دور میں ہم ہر شے کی سائنسی توجیح تلاش کرتے ہیں۔ اور اس توجیح کے ساتھ قرآن پاک کی یاددہانی منسلک ہوجائے تو شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں بچتی۔کیا آپ جانتے ہیں کہ شکر گزاری، شکر ادا کرنا اور اس کا اظہار کرنے کا بظاہر چھوٹا سا عمل آپ کی جسمانی اور ذہنی صحت پر بہت گہرا اثر ڈالتا ہے۔ بارہا ریسرچ سے یہ بات ثابت کی جاچکی ہے کہ شکر گزار ہونا:

آپ کی خوشیوں کے ذائقے کو بڑھاتا ہے۔

بہتر اور پرسکون نیند کی وجہ بنتا ہے۔

جسم کو طاقت اور اعتماد فراہم کرتا ہے۔

بے چینی/اضطراب (anxiety) اور اداسی (Depression) کی علامات کے تدارک میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

جسمانی درد میں بھی حیرت انگیز کمی کا باعث بنتا ہے۔

شکر کی یہ بظاہر مثبت عادت نہ صرف یہ کہ آپ کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لئے کرشماتی ثابت ہوتی ہے بلکہ آپ کے روز مرہ کے معاملات اور تعلقات پر بھی اپنے اثرات ثبت کرتی ہے۔ یہ عادت رشتوں کے بیچ کی کڑواہٹ کے لئے زہرِ قاتل کا کام کرتی ہے۔ آپ کے دفتر/ کام کرنے کی جگہ پر موجود لوگوں کے ساتھ آپ کے تعلقات کو خوبصورت بناتی ہے۔

زندگی کے معاملات کو لے کر شکایات، بے چینی، اضطراب اور انتہائی حالت میں دولت کی ہوس کو چھوتی خواہش کی موجودگی میں اپنی زندگی میں موجود نعمتوں کا کفر کرتے لوگوں میں ’’شکر گزار‘‘ بننا نشے کی مانند ہے۔ آپ ایک بار اس کا اصل ذائقہ چکھ لیں تو پھر ناشکری کی کیا مجال کہ وہ آپ کے پاس پھٹک بھی پائے۔ ’مرض بڑھتا گیا، جوں جوں دوا کی‘ کے مصداق آپ جتنا اس عادت کو اپنی زندگی کاحصہ بنائیں گے اس کے معاملات و واقعات اتنے ہی مثبت اور خوبصورت ہوتے جائیں گے۔

ہماری زندگی شکر کے لائق نعمتوں سے بھری پڑی ہے اب سوال یہ ہے کہ آخر آغاز کہاں سے کیا جائے؟ اس کے لئے چند معمولات پر نظر ڈالتے ہیں۔

1۔ صبح کا آغاز شکر گزاری کے اظہار سے کیجیئے

شکر کی عادت کا بیج بونے کے لئے سب سے زرخیز زمین ہے صبح کا وقت۔۔۔ یعنی دن کا آغاز ہے

’’سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور ہمیں آخر کار اس کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

اللہ کے نبی ﷺ کی سکھائی گئی اس دعا سے اندازہ ہوتا ہے کہ صبح آنکھ کھلتے ہی سب سے پہلے شکر ادا کرنا واجب ہے کہ ہمیں موت نما نیند سے نکال کر ایک اور روشن دن دیا گیا۔ دن کے آغاز کی اس پہلی سوچ، پہلی دعا ، پہلے شکر کا اثر دن بھر کے تمام کاموں پر پڑتا ہے۔

’’اس نئے دن کے لئے شکریہ اللہ جی۔۔۔ میں شکر گزار ہوں کہ مجھے ایک نیا دن عطا کیا گیا‘‘

2۔ عبادت کیجئیے

دن کا آغاز عبادت ( نماز و تسبیحات) سے کرنا دراصل شکر گزاری کاہی اظہار ہے کہ ہمیں ہمارے خالق نے ایک نیا دن نعمت کی طرح دیا ہے سو اس کی عبادت ، اس کا شکر ادا کرنے کا ہی ایک طریقہ ہے۔

ہماری عبادات عموماً ہماری خواہشات اور اغراض کے گرد گھومتی ہیں لیکن اگر اپنی عبادات کو شکر کی غرض سے جوڑ لیا جائے تو اس کے فوائد دوچند ہوجاتے ہیں۔

’’ میں شکر گزار ہوں کہ میری زندگی کی مشکلات مجھے مضبوط تر بنارہی ہیں‘‘

3۔ روزانہ شکر گزاری تحریر کرنے کی عادت ڈالیں

’’شکریہ‘‘کے مصنف ڈاکٹر رابرٹ اپنی تحقیق کا ذکر کرتے ہیں کہ دو گروہوں پر تجربہ کیا گیا۔ ایک کو اپنی ڈائری میں ہفتہ وار پانچ چیزیں تحریر کرنے کو کہا گیا جس کے لئے وہ شکر گزار ہیں اور دوسرے گروہ کو وہ پانچ چیزیں تحریر کرنے کو کہاگیا جس کے لئے وہ شکوہ کناں ہیں۔ پہلے گروہ کو اپنی خوشی، اطمینان، جسمانی اور ذہنی صحت میں اضافے کا اظہار کرتے پایا گیا جبکہ دوسرے گروہ کا تجربہ اس کے الٹ تھا۔

نعمتوں کو شمار کرنا آپ کے نزدیک ان کی اہمیت کو بڑھا دیتا ہے۔ جس کے مقابلے میں شکایات اپنی اہمیت کھونے کھونے لگتی ہیں۔

4۔ غور و فکر کرنا/ مراقبہ کرنا:(Meditation)

شکر گزار مراقبہ (Gratitude Meditation)، مراقبہ اور شکر گزاری مل کر آپ کی خوشیوں کو دوآتشہ کردیں گے۔ اپنی زندگی میں موجود مثبت چیزوں پر شکر گزار ہونا اور منفی چیزوں کے اندر بھی مثبت تلاش کرنا اس مراقبے کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہ آپ کی خود اعتمادی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

5۔ چہل قدمی کیجئے

چہل قدمی کی عادت کے جسمانی صحت پر اثرات سے کسے انکار ہے اس چہل قدمی کے ساتھ شکر گزاری کی عادت جوڑئیے۔ جسے ماہرینِ نفسیات سیورنگ واک (Savoring Walk ) کا نام دیتے ہیں۔ چہل قدمی کرتے ہوئے شعوری طور پر ان چیزوں پر توجہ مرکوز کیجئیے جنھیں عموماً آپ نظر انداز کردیتے ہیں۔ وہ آپ کے جسم کو حرارت کا احساس دلاتا سورج ہوسکتا ہے یا خوشگواریت کا احساس دلاتی ہوا۔ کوئی کھلتا پھول یا کسی تتلی کا پھول در پھول سفر کرنا ، کسی پرندے کا گیت یا کسی شناسا کی آواز بظاہر بے ضرر چیزوں پر مثبت انداز میں نظرِ ثانی زندگی کو دیکھنے اور پرکھنے کا انداز بدلنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

6۔ ہفتے کا ایک دن شکایت سے مستثنیٰ قرار دیجئیے

ہفتے کا ایک مخصوص دن زندگی سے تمام شکایا ت کو ذرا پرے کرکے صرف اور صرف نعمتوں کو گنیے۔ یقین کیجئیے آپ خود محسوس کریں گے کہ آپ کی زندگی میں نعمتوں کے مقابلے میں آپ کی گنتی ختم ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔

7۔ شکر گزاری کا اقرار کرنا

میں شکر گزار ہوں کہ میری زندگی میں محبت کرنے والے لوگ موجود ہیں۔

میں شکر گزار ہوں کہ میں اپنی پسند کا کھانا چکھ سکتا ہوں،کھا سکتا ہوں۔

میں شکر گزار ہوں ہر اس چیز کے لئے جو میری زندگی میں موجود ہے۔

یہ اور اس طرح کے لاتعداد جملے آپ کو یاددہانی کراتے ہیں کہ زندگی چند بْرے تجربات سے بہت آگے کی چیز ہے۔

8۔ تحریری شکریہ ادا کرنا

اپنی زندگی میں موجود لوگوں کو کسی تحفے، کسی کارڈ یا پھر خط کے ذریعے ان کی آپ کی زندگی میں موجودگی کا شکریہ ادا کرنا رشتوں کی پائیداری کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون کا بھی باعث بنتا ہے۔ اپنے اردگرد لوگوں کو احساس دلائیے کہ وہ آپ کے لئے اہم ہیں۔ آپ ان کی قدر کرتے ہیں، ان سے جذباتی وابستگی محسوس کرتے ہیں اور ان کی اپنی زندگی میں موجودگی کو شکرکرنے کی وجہ سمجھتے ہیں۔

9۔ مدد کے لئے ہاتھ بڑھائیے

اپنے اردگرد نظر دوڑائیے، آپ کو بہت سی اداس روحیں مسیحائی کی منتظر دکھائی دیں گی۔ ان کی مدد کرنے کے لئے خود کو آمادہ کیجئے۔ اپنی تکالیف سے صرفِ نظر کرکے کسی دوسرے کی جانب مدد کا ہاتھ بڑھانا اس بات کا اظہار ہے کہ آپ اپنی تکالیف کے مقابلے میں دوسروں کا درد زیادہ محسوس کرتے ہیں۔

فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا

مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

دوسروں کی مدد پر آمادگی آپ کے اندر شکر گزاری کا جذبہ بیدار کرتی ہے۔ دوسروں کی مشکلات اور پریشانیوں کو جان کر اپنی تکلیف بیت چھوٹی محسوس ہوتی ہے اور اس سے منسلک منفی اثرات بھی زائل ہوتے محسوس ہوتے ہیں۔اور یہی انسانیت کی معراج ہے۔

10۔ رات کو سونے سے پہلے شکر گزاری کا اعادہ کرنا مت بھولئے

دن بھر کی تھکن سمیٹ کر بستر پر لیٹنا اور ایک پرسکون نیند کی خواہش انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ بستر پر لیٹنے اور سونے کے درمیانی وقفے کو کارآمد بنائیے۔ صبح کی پہلی سوچ کی مانند رات کی آخری سوچ کا چہرہ بھی تبدیل کیجئے۔ سونے کے مسنون اعمال کے ساتھ ساتھ دن بھر کے معاملات پر نظر ثانی اور ان کا مثبت نکتہ نظر سے جائزہ لینا بہت سی مثبت تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔

ایک مکمل دن کے معمولات کا جائزہ لیتے ہوئے شعوری طور پر ان واقعات پر توجہ دیجیے جو شکر گزاری کا مؤجب بن سکتے ہیں۔ وہ کسی دیرینہ دوست کا غیر متوقع میسج یا کال، کسی مہمان کی پرمسرت صحبت، کسی بچے کی معصوم ہنسی، کسی پیارے کی مسکراہٹ، کسی جانب سے موصول ہونے کا شکریہ یا کوئی تعریفی جملہ اور اس طرح کی کئی دوسری وجوہات ہوسکتی ہیں۔

آپ کے پاس ایک آرام دہ بستر کی دستیابی، کمرے میں موسم کی سختی و نرمی کے مطابق اے سی، پنکھا ، ہیٹر یا محض چھت کی موجودگی ہی ایسی نعمتیں ہیں جن سے بہت سے لوگ محروم ہیں۔

بنا دواؤں کے نیند آنا، بنا کسی شدید تکلیف کے دن بھر گزارنا۔ غرض شکر گزاری کی اتنی وجوہات ہیں کہ آپ سوچنے بیٹھیں تو دنگ رہ جائیں گے۔ دن بھر کے معمولات کا جائزہ اور ان سے متعلق شکر گزاری کا اظہار اعصابی تناؤ، نفسیاتی دباؤ میں نمایاں کمی کا باعث بنتا ہے۔ نتیجتاً نیند بہتراور پرسکون ہوتی ہے۔

زندگی کے معاملات اور عادات میں یہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں آپ کی شخصیت کو سنوارنے اور نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ آپ ’’شکر گزاری‘‘ کو ایک موقع تو دیجئیے اس کے اثرات مجھ سے بڑھ کر آپ بتاپائیں گے۔ تو آئیے! شکر گزاری کی عادت کو اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں۔ اس سفر میں ایسا وقت بھی آئے گا یہ عادت سانس لینے جیسی ضرورت بن جائے گی اور زندگی مشکلات اور پریشانیوں کے باوجود مسکرائے گی۔

انشاء اللہ

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *