لاہور (ویب ڈیسک) ہم ایک عجیب قوم ہیں۔ مدتوں سے سوئے پڑے ہیں۔ جاگتے ہیں تو باہم الجھتے ہیں اور الجھتے ہی رہتے ہیں۔ قائدِ اعظم اور اقبال ؔ جیسے عدیم النظیر لیڈروں کو سموچا نگل گئے۔ اقبالؔ جس نے کہا تھا آہ کس کی جستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے راہ تو، رہرو بھی تو،

نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔ رہبر بھی تو، منزل بھی تو دوطرح کے طرزِ عمل ہیں۔ مہاتیر محمد نے کشمیر پر ایک بار پھر نعرہ ء مستانہ بلند کیا ہے۔ بھارت کے سفاک اور متعصب حکمرانوں کے لیے انہوں نے بدمعاش کا لفظ استعمال کیا، پاکستانی لیڈر بھی جس کی جرات

اور جسارت نہیں کرتے۔ مہاتیر نے کہا:بھارت بدمعاشی چھوڑدے اور ایک مہذب ملک کی طرح سامنے آئے۔کپتان نے شکریہ ادا کیا ہے لیکن یہ امکان کم ہے کہ ہم مہاتیر کے راستے پر چلیں۔ ریاضت، مشقت اور منصوبہ بندی سے اپنے پاؤں پہ کھڑے ہوں۔ جب مہاتیر نے اقتدار سنبھالاتو ملائیشیا غریب ملکوں میں سے ایک تھا۔ ربڑ اور پام آئل کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ غلامی کے مہ وسال اور ایک منقسم قوم۔ دولت چینیوں کے پاس تھی، جیسا کہ قیامِ پاکستان سے پہلے سکھوں اور ہندوؤں کے ہاتھ میں۔ عام آدمی افلاس میں سسک رہا تھا اور اس کے لیے کوئی نوید نہ تھی۔ کوئی امید بر نہیں آتی کوئی صورت نظر نہیں آتی مہاتیر محمد سے عمران خاں کی ملاقات ایک عالمی کانفرنس میں ہوئی۔ اسی زمانے میں بزرگ مدبر نے کہا تھا: ہم پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر عمران جیسا کوئی حکمران ہو۔ جیسے پرسوں فرانسیسی صدر میکروں نے کہا کہ تباہ حال لبنان کی مدد کے لیے وہ تیار ہیں مگر بدعنوان لوگوں کو نہیں دیں گے۔ عدالتی نظام کی مگر کس کو فکر ہے۔ نعرے بازی ہے اور فقط نعرے بازی۔ اقتدار کی ہولناک لڑائی

کے علاوہ سیاستدان جس میں الجھے رہتے ہیں، پانچ ادارے ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ سول سروس، پولیس، پٹوار، ناقص عدالتی نظام اور سب سے بڑھ کر ایف بی آر۔ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا تھا: کم از کم پانچ سو ارب روپے ایف بی آر والے ہڑپ کر جاتے ہیں۔ سامنے کی بات یہ ہے کہ رشوت میں پانچ سات سو ارب وصول کرنے والے ٹیکس دہندگان کو تین چار ہزار ارب روپے کی رعایت دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ بھیک مانگنا پڑتی ہے۔ ہزاروں ارب کے کرنسی نوٹ چھاپے جاتے ہیں لیکن ایف بی آر پہ ہاتھ ڈالنے کی جرات کسی میں نہیں۔کسی کو سول سروس، پولیس، عدلیہ اور پٹوار کو سدھارنے کی فکر نہیں۔ ان عظیم لیڈروں میں سے کسی ایک کو بھی نہیں، فدائین جن پہ قربان ہوتے ہیں۔ ایک ذرا سی تنقید ان پر کی جائے تو دشنام کا طوفان اٹھتا ہے۔ پندرہ برس ہوتے ہیں، عمران خاں ملائیشیا میں مہاتیر محمد سے ملے۔ پھر انہیں اسلام آباد مدعو کیا۔ اپنی خوبصورت رہائش گاہ پر مہاتیر نے عمران خاں سے کہا: ترقی صرف صنعت کاری سے ممکن ہے۔ بولے: ہم نے الیکٹرانکس کے پرزے جوڑنے (assembling) سے آغاز کیا تھا۔ پھر دو عشرے پر پھیلی معاشی ارتقا کی تفصیل بیان کی۔ عمران خاں نے کہا ’’اور ایک اچھا عدالتی نظام؟‘‘ انہوں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور کہا: ہاں ظاہر ہے، عدالتی نظام بھی۔ ہم ایک عجیب قوم ہیں۔ مدتوں سے سوئے پڑے ہیں۔ جاگتے ہیں تو باہم الجھتے ہیں اور الجھتے ہی رہتے ہیں۔ قائدِ اعظم اور اقبالؔ جیسے عدیم النظیر لیڈروں کو سموچا نگل گئے۔ اقبالؔ جس نے کہا تھا آہ کس کی جستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے راہ تو، رہرو بھی تو، رہبر بھی تو، منزل بھی تو۔(ش س م)