امریکی انتخاب:بائیڈن کی برتری، ٹرمپ کا گنتی رکوانے کیلیے عدالت جانے کا اعلان

واشنگٹن: اہم ریاستوں مشیگن اور وسکونسن میں برتری کے بعد ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن صدارتی دوڑ میں اپنے حریف صدر ٹرمپ سے آگے نکل گئے ہیں

تاہم صدر کی کمپین ٹیم نے تین ریاستوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی اور انتخابی نتائج رکوانے کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ریاست وسکونسن کے 10الیکٹورل ووٹ جیتنے کے بعد جو بائیڈن کے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد 248 ہوچکی ہے

اور انہیں 16 الیکٹورل ووٹ والی ریاست مشیگن میں بھی معمولی برتری حاصل ہے

 جبکہ اب تک کے نتائج کے مطابق صدر ٹرمپ 214 الیکٹورل ووٹ کے ساتھ پاپولر ووٹ میں بھی مدمقابل بائیڈن سے پیچھے ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے مینیجر نے اعلان کیا ہے

 کہ وسکونس میں مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث صدر ٹرمپ وہاں دوبار گنتی کی باضابطہ درخواست دائر کریں گے

 جب کہ کمپین ٹیم نے ریاست مشیگین میں ووٹوں کی گنتی رکوانے کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔

 علاوہ ایزں ٹرمپ کی ٹیم کی جانب سے پنسلوینیا میں بھی گنتی رکوانے کے لیے عدالت جانے کا اعلان کردیا گیا ہے۔

وسکونسن میں برتری کے بعد بائیڈن کے وائٹ ہاؤس تک پہنچنے کے امکانات بڑھے ضرور ہیں تاہم کانٹے دار مقابلہ جاری ہیں

اور مزید فیصلہ کُن ریاستوں کے نتائج سے صورت حال تبدیل ہوسکتی ہے۔

علاوہ ازیں بدھ کی صبح دونوں امیدواروں کے اعلیٰ مشیروں نے اپنے اپنے بیانات میں انتخابی کام یابی اور برتری کے دعوے بھی کیے ہیں۔

مختلف اداروں کی جانب سے جاری کردہ غیر حتمی کے مطابق دونوں امیدواروں کے درمیان جاری اس مقابلے میں پنسلوینیا،

وسکونسن اور مشیگین کی ریاستوں کے نتائج فیصلہ کُن قرار دیا جارہا ہے جب کہ اور ایریزونا، جارجیا اور نواڈا، نارتھ کیرولینا میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اب تک کے موصول ہونے والے نتائج کے مطابق ان اہم ریاستوں میں سے دو مشیگن

 اور وسکونسن میں ڈیموکریٹ امیدوار بائیڈن کو معمولی برتری حاصل جب کہ 20الیکٹورل ووٹ رکھنے والی ریاست پنسلوینیا میں نتائج آنے تک ٹرمپ بائیڈن سے آگے ہیں۔

یہ خبر پڑھیے: ’مخالفین انتخابی نتائج تبدیل کرنے کےلیے جعلی ووٹ ڈلوا رہے ہیں،‘ ٹرمپ کا الزام

واضح رہے کہ صدرٹرمپ یا جوبائیڈن کو صدارت سنبھالنے کے لیے 538 میں سے کم از کم 270 الیکٹورل ووٹس درکار ہیں۔

  تادم تحریر موصول ہونے والے نتائج کے مطابق جو بائیڈن کو 248 اور ڈونلڈ ٹرمپ کو 214 الیکٹورل ووٹ حاصل ہوچکے ہیں۔

 جب کہ پولنگ کے مکمل نتائج آنے اور ان کے حتمی سرکاری اعلان کےلیے رواں سال 14 دسمبر کی تاریخ رکھی گئی ہے۔

یہ خبر بھی دیکھیے: امریکا میں مسلح شخص کی فائرنگ میں 3 افراد ہلاک اور ایک زخمی

انتخابی نتائج کے لیے تین انتہائی اہم ریاستیں

پنسلوینیا کے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد 20 ہے ار انتخابی جائزوں میں پہلے ہی اس کے نتائج کو اہم قرار دیا جارہا تھا۔

 اے پی کے جاری کردہ نتائج کے مطابق ٹرمپ کو یہاں بائیڈن پر 60 ہزار ووٹو سے زائد کی برتری حاصل ہے جب کہ 36 فی نتائج آنا باقی ہیں۔

مشیگن مین بائیڈں کو ٹرمپ پر برتری حاصل ہے۔ 16 الیکٹرول ووٹوں کی اس ریاست کے تقریبا 96 فی صد نتائج آچکے ہیں

 اندزہ لگایا جارہا ہے کہ ڈیٹرائٹ جیسے ڈیموکریٹک حامیوں کے علاقوں میں نتائج آنے کے بعد یہ برتری واضح ہوجائے گی۔

وسکونسن میں الیکڑول ووٹوں خی تعداد 10 ہے۔ 2016 کے امریکی انتخاب سے قبل دو دہائیوں تک اس ریاست سے ڈیموکریٹ کام یاب ہوتے آرہے ہیں

 تاہم ٹرمپ نے گزشتہ انتخابات میں یہاں کام یابی حاصل کی تھی۔ اس ریاست کے 95 فیصد نتائج آچکے ہیں

جن میں بائیڈن کو ٹرمپ پر معمولی برتری حاصل ہے۔

نتائج میں تاخیر کیوں؟

2020 کے انتخابات میں امریکا میں سب سے زیادہ ووٹ ڈالے گئے ہیں اور اس الیکشن کا ٹرن آؤٹ امریکی تاریخ کے 112 سال میں سب سے زیادہ رہا ہے۔

کورونا وائرس وبا کے باعث اس پر 10 کروڑ افراد نے انتخابات سے قبل ہی رائے دہی کا حق استعمال کرنے کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈاک کے ذریعے یا پوسٹل ووٹ دیا۔

اتنی بڑی تعداد میں پوسٹل ووٹ موصول ہونے کی وجہ سے کئی ریاستوں میں ان کی گنتی جاری ہے

 جس کی وجہ سے نتائج میں تاخیر ہورہی ہے جب کہ زیادہ کانٹے دار مقابلے والے انتخابی علاقوں میں فریقین کی جانب سے دوبارہ گنتی کروانے کے باعث بھی نتائج میں تاخیر ہورہی ہے۔

فیصلہ کُن ریاستوں کے نتائج کب آئیں گے؟

امریکا کے مقامی وقت کے مطابق وسکونس، مشی گن ، جارجیا اور ایریزونا میں بدھ (4 نومبر) کو نتائج متوقع ہیں۔ پنسلونیا کے گورنر کا کہنا ہے

 کہ بڑی تعداد میں پوسٹل بیلٹ کی گنتی نہ ہونے کے باعث نتائج جمعہ 6 نومبر کو مکمل ہوں گے۔

 نواڈا اور الاسکا میں 10 اور نارتھ کیرولینا میں مکمل نتائج 12 نومبر کو سامنے آنے کی توقع کی جارہی ہے۔

تاہم 14 دسمبر کو حتمی نتائج جاری کیے جائیں گے اگرچہ اس سے قبل ہی الیکٹرول ووٹس کی صورت حال سے کام یاب امیدوار سامنے آچکا ہوگا۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Articles You May Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *