مخالفین انتخابی نتائج تبدیل کرنے کےلیے جعلی ووٹ ڈلوا رہے ہیں،‘ ٹرمپ کا الزام

واشنگٹن: امریکی صدر اور ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے پرجوش خطاب میں دعوی کیا ہے

 کہ وہ الیکشن جیت چکے ہیں لیکن ان کی فتح کو شکست میں بدلنے کی کوششیں جارہی۔

 اسی کے ساتھ انہوں نے ووٹنگ کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان بھی کیا۔

انہوں نے اپنے مخالفین پر الزام لگایا کہ وہ پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد بھی جعلی ووٹ ڈلوا رہے ہیں تاکہ انتخابی نتائج تبدیل کیے جاسکیں۔

بتاتے چلیں کہ امریکا میں 59 ویں صدارتی انتخاب کےلیے ووٹنگ مکمل ہوجانے کے بعد ووٹوں کی گنتی

 کا عمل جاری ہے جس میں جو بائیڈن کی ٹرمپ پر برتری ابھی تک برقرار ہے۔

حالیہ امریکی صدارتی انتخاب میں ری پبلکن پارٹی کے امیدوار اور موجودہ امریکی صدر، 74 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ اور 77 سالہ ڈیمو کریٹ امیدوار جو بائیڈن میں کانٹے کا مقابلہ جاری ہے۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب تک 213 الیکٹورل ووٹس حاصل کرچکے ہیں جب کہ مخالف امیدوار جو بائیڈن 236 الیکٹورل ووٹس کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ پر سبقت رکھتے ہیں۔

American President election

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، الیکٹورل ووٹس کے اعتبار سے اگرچہ بائیڈن کو برتری حاصل ہے

 لیکن اگر عوامی ووٹوں کی بنیاد پر دیکھا جائے تو بائیڈن اور ٹرمپ کو حاصل ہونے والے ووٹوں کی تعداد میں صرف ایک فیصد کا فرق ہے۔

واضح رہے کہ امریکا میں مجموعی طور پر 538 الیکٹورل ووٹس ہیں جن میں سے 270 یا زیادہ الیکٹورل ووٹس حاصل کرنے والا امیدوار فاتح قرار دیا جاتا ہے۔

American President election 1

ڈیمو کریٹ امیدوار جو بائیڈن کو ریاست کیلیفورنیا، نیویارک، الینوئے، رہوڈ آئی لینڈ، میساچیوسیٹس،

نیوجرسی، میری لینڈ، کنیکٹی کٹ، ڈیلاویئر، اوریگون اور واشنگٹن میں برتری حاصل ہے

جب کہ وایومنگ، نارتھ ڈکوٹا، نبراسکا، آرکنساس، مسی سپی، اوکلاہوما، الاباما، ٹینیسی، جنوبی کیرولائنا، میسوری اور یوٹاہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کامیابی حاصل کرچکے ہیں۔

تاہم کسی بھی امیدوار کی حتمی کامیابی کےلیے سوئنگ اسٹیٹس کا کردار بہت اہم ہوگا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پولنگ بند ہونے کے بعد ووٹ کاسٹ نہیں ہوسکتے، وہ انتخابات چوری کرنے کی کوشش کر رہے لیکن ہم انہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے، میں آج رات بیان دوں گا اور وہ ایک بڑی جیت ہے۔

دوسری جانب صدارتی امیدوار جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ ہم فتح کی جانب بڑھ رہےہیں، یقین رکھیں ہم فتح یاب ہوں گ

سوئنگ اسٹیٹس

سرِدست امریکی صدارتی انتخاب میں کسی بھی امیدوار کی فیصلہ کن فتح کا انحصار ’’سوئنگ اسٹیٹس‘‘ پر ہے،

جن میں سے بیشتر کے حتمی نتائج ابھی تک موصول نہیں ہوئے ہیں۔

تاہم ایگزٹ پول سے پتا چلتا ہے کہ 168 الیکٹورل ووٹس والی ان امریکی ریاستوں میں ٹرمپ کو برتری حاصل ہے

جو اگلے چند گھنٹوں کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح میں بھی تبدیل ہوسکتی ہے۔

یہ پڑھیے:  صدارتی الیکشن میں درست پیشگوئی کرنے والے امریکی پروفیسر نے ٹرمپ کی شکست بتادی

گزشتہ صدارتی انتخاب میں ٹرن آؤٹ 58.1 فیصد تھا جبکہ اس مرتبہ امید ہے کہ یہ 60 فیصد کے آس پاس ہوسکتا ہے۔

اگر اتنی تعداد میں امریکی عوام ووٹ دیں گے تو یہ ممکنہ طور پر یہ اس صدی میں ووٹ دینے والوں کی سب سے زیادہ شرح ہوگی۔

انتخابی نتائج میں ریاستوں کا کردار

امریکی صدارتی انتخاب میں ریاستوں کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔

 امریکا میں دو بڑی سیاسی جماعتیں ڈیمو کریٹک اور ری پبلکن پارٹی انتخابی میدان میں مدمقابل ہوتی ہیں۔

کسی بھی امریکی ریاست میں جس پارٹی کے زیادہ ووٹ ہوتے ہیں،

وہ ریاست اسی پارٹی کے رنگ سے منسوب کی جاتی ہے۔ اسی لیے ڈیموکریٹس کی حامی ریاستیں ’’بلیو اسٹیٹس‘‘ جبکہ ری پبلکن کی حامی ریاستیں ’’ریڈ اسٹیٹس‘‘ کہلاتی ہیں۔

الاباما، آرکنساس، ایڈاہو، انڈیانا، کنٹکی، لیوزیانا، مسی سپی، نبراسکا، شمالی ڈکوٹا، اوکلاہوما،

جنوبی کیرولائنا، جنوبی ڈکوٹا، ٹینیسی، یوٹاہ، مغربی ورجینیا، وایومنگ، الاسکا، کنساس، میسوری، مونٹانا اور ٹیکساس ’’ریڈ اسٹیٹس‘‘ ہیں۔

متعلقہ لنک: امریکا کے صدارتی انتخابات، کئی انہونیاں ہوسکتی ہیں

کیلیفورنیا، کولوراڈو، کنیکٹی کٹ، ڈیلاویئر، ہوائی، الینوائے، مین، میری لینڈ، میسا چیوسیٹس، نیو جرسی، نیو میکسیکو، نیویارک، اوریگون،

 رہوڈ آئی لینڈ، ورمونٹ، ورجینیا، واشنگٹن، ایریزونا، مشی گن، منیسوٹا، نیواڈا، نیو ہیمپشائر، پنسلوینیا اور وسکونسن کا شمار ’’بلیو اسٹیٹس‘‘ میں کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ صدرٹرمپ یا جوبائیڈن کو صدارت سنبھالنے کے لیے 538 میں سے کم از کم 270 الیکٹورل ووٹس کی ضرورت ہے۔

پولنگ کے مکمل نتائج آنے اور ان کے حتمی سرکاری اعلان کےلیے رواں سال 14 دسمبر کی تاریخ رکھی گئی ہے۔ائج آنے اور ان کے حتمی سرکاری اعلان کےلیے رواں سال 14 دسمبر کی تاریخ رکھی گئی ہے۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Articles You May Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *