گلگت بلتستان: کیا خطے کی آئینی و قانونی حیثیت بدلنے جا رہی ہے؟

  1. گلگت بلتستان: کیا خطے کی آئینی و قانونی حیثیت بدلنے جا رہی ہے؟
    16 ستمبر کو اسلام آباد میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کشمیر اور گلگت بلتستان کے امور کے وزیر علی امین گنڈا پور نے یہ خبر بریک کی کہ تمام فریقین کی مشاورت کے بعد حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کو مکمل آئینی حقوق اور پارلیمنٹ میں نمائندگی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے صوبے کا درجہ دے دیا جائے۔

صحافی شبیر حسین بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ عمران خان جلد ہی علاقے کا دورہ کریں گے اوراس حوالے سے باقاعدہ اعلان کریں گے کیونکہ وہ گلگت بلتستان کے عوام کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان سے مکمل الحاق کے وعدوں کو پورا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

شبیر حسین کے مطابق علی امین گنڈاپور نے یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ صوبہ بننے کے بعد گلگت بلتستان میں چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کے تحت بننے والے خصوصی اکنامک زون پر کام کی رفتار میں تیزی آئے گی جبکہ صحت، سیاحت اور تعلیم کے شعبوں میں نمایاں بہتری کی راہ ہموار ہو گی۔

اسی شام راولپنڈی میں ایک اور خفیہ ملاقات ہوئی۔

پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ، آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حیمد اور پاکستان کی حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی اہم سیاسی جماعتوں کی نمایاں قیادت اس ملاقات مںی موجود تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ملاقات کا ایک بڑا مقصد حزب اختلاف کی جماعتوں کو گلگت بلتستان کے حوالے سے ریاستی اداروں کی سوچ سے آگاہ کرنا اور اسے خطے کو پاکستان کا حصہ بنانے کے لیے مستقبل میں کی جانے والی آئینی ترامیم کے لیے تعاون پر آمادہ کرنا تھا۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ ملاقات مجموعی طور پر کچھ بہتر نوٹ پر ختم نہیں ہوئی لیکن 20 ستمبر کو جب اسلام آباد میں ملک کی حزب اختلاف کی کثیرالجماعتی کانفرنس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا تو اس میں گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

سی پیک کا دروازہ

تاریخی طور پر گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر کا حصہ تھا۔ لیکن سنہ 1948 میں مقامی لوگوں کی مدد سے یہ پاکستان کے زیر کنٹرول آ گیا۔ تقریبا 15 لاکھ آبادی کا یہ خطہ اپنے دیو مالائی حُسن، برف پوش پہاڑوں، خوبصورت وادیوں اورپھلوں سے لدے باغوں کی وجہ سے کسی جنت سے کم نہیں۔ لیکن حُسن کے ساتھ اس علاقے کی جعرافیائی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔

اس کی سرحدیں چین، انڈیا، تاجکستان اور پاکستان سے ملتی ہیں، جن میں سے تین ملک ایٹمی طاقت ہیں۔

گلگت بلتستان، چین پاکستان اقتصادی راہداری کا دروازہ ہے۔ یہاں پاکستان کی جانب سے صوبائی نظام تو نافذ کیا گیا ہے جیسا کہ یہاں کا اپنا گورنر اور وزیرِ اعلیٰ ہے لیکن قانونی اعتبار سے اس علاقے کو پاکستان میں وہ آئینی حقوق حاصل نہیں جو ملک کے دیگر صوبوں کو حاصل ہیں۔

پہلے یہاں پر ’سٹیٹ سبجیکٹ رول‘ نام کا قانون نافد تھا جس کے تحت یہاں صرف مقامی لوگوں کو ہی سرکاری ملازمتیں کرنے، سیاسی عہدے رکھنے اور جائیدادیں خریدنے کا حق حاصل تھا۔ لیکن ستر کی دہائی میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں اسے ختم کر دیا گیا۔

اس کے بعد یہاں مختلف قوانین کے تحت نظام چلایا جاتا رہا لیکن مقامی لوگوں کا ہمیشہ سے ہی مطالبہ رہا کہ پاکستان باقاعدہ طور پر گلگت بلتستان کے ساتھ الحاق کر کے اسے مستقل طور پر پاکستان میں ضم کر لے۔

جبکہ کشمیری اس مطالبے کی پرزور مخالفت کرتے رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ گلگت بلتستان متنازع علاقے کا حصہ ہے اور اسے اس وقت تک ایسا ہی رہنا چاہیے جب تک کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔

کشمیری سمجھتے ہیں کہ مستقبل میں کسی بھی استصواب رائے میں کشمیر کی آزادی کی آواز اسی صورت زیادہ موثر ہو گی جب اس میں گلگت بلتستان کے عوام کی حمایت بھی شامل ہو۔

اور ماضی میں پاکستان اسی لیے مقامی آبادی کے پُرزور مطالبے کے باوجود گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کو بدلنے سے کتراتا رہا ہے۔

 

کیا بدلنے جا رہا ہے؟

سیاسی اور سلامتی امور کے ماہر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے نیا عبوری صوبہ بنانے کا فیصلہ ہو جانے کا اشارہ تو دے دیا گیا ہے۔ لیکن یہ ہو گا کیسے، اس کی کوئی تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی گئیں۔

’عبوری صوبہ بنانے کے پیچھے سوچ یہی ہے کہ کچھ اس طرح سے اس معاملے پر آگے بڑھا جائے کہ عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلہ کو سیاسی اعتبار سے نقصان نہ پہنچے۔ سوال یہ ہے کہ گلگت بلتستان کا صوبہ کس حد تک باقی چار صوبوں کی طرح ہو گا اور کس حد تک اس کی حیثیت کو مختلف رکھا جائے گا؟ یہ وہ تفصیلات ہیں جنھیں سامنے نہیں لایا گیا۔ لیکن اس علاقے کی موجود حیثیت میں تبدیلی سے پاکستان کے ساتھ گلگت بلتستان کا رشتہ بالکل بدل جائے گا۔‘

ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ یہ عین ممکن ہے کہ قانون اور پارلیمانی امور کی وزارت اس حوالے سے آئینی ترمیم کے مسودے پر کام کر رہی ہو۔ تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

’اپوزیشن کے تعاون کے بغیر آئین میں ترمیم کرنے کے لیے حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت نا ممکن ہو گی۔ تاہم اب حزب اختلاف پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ ملک کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اس معاملے کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔‘

ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کے مطابق اس وقت گلگت بلتستان، پاکستان کی سلامتی کے لیے اہم ترین بن چکا ہے۔

’گلگت بلتستان کو پاکستان میں ضم کرنے کا فیصلہ ملک کی سلامتی مفادات کے پیش نظر کیا جا رہا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ سی پیک کے راستے کو محفوظ کیا جائے۔ اور اس حوالے سے ضروری ہے کہ مقامی لوگوں کے تحفظات کا ازالہ ہو اوراس علاقے پر سے سیاسی غیر یقینی کی کیفیت کو دور کیا جائے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’لیکن اس بات کا قویٰ امکان ہے کہ ضم کرتے ہوئے عبوری یا عارضی قسم کے الفاظ کو استعمال کیا جائے گا تاکہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے موقف کو عالمی سطح پر کم سے کم نقصان پہنچے۔ کشمیری اس پیشرفت سے زیادہ خوش نہیں ہوں گے لیکن پاکستان کوشش کرے گا کہ انھیں اعتماد میں لے۔ اس معاملے پر حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش ہو گی۔‘

 

سیاسی فائدہ

صحافی شبیرحسین کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں عوام کی اکثریت اس فیصلے پر انتہائی خوش ہے۔ یہ یہاں کے لوگوں کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ضم ہونے سے ان کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

لیکن شیبر حسین سمجھتے ہیں کہ اس حوالے سے کوئی باقاعدہ پیشرفت نومبر میں گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے بعد ہی ممکن ہے۔

’ظاہر ہے حکومت کو نیا صوبہ بنانے کے لیے آئین میں تبدیلی کرنا ہو گی۔ جو پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت سے ہو گی۔ یہ اپوزیشن کے تعاون کے بغیر ناممکن ہے۔ لیکن اپوزیشن پارٹیاں اس معاملے کو الیکشن تک التوا میں رکھنا چاہتی ہیں تاکہ عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف الیکشن مہم میں اس معاملے کو استعمال کر کے اس کا سیاسی فائدہ نہ اٹھا سکے۔‘

شبیر حسین کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کی کمیٹی نے اس حوالے سے آئینی ترامیم کو حتمی شکل دینے کے لیے مشاورت شروع کی ہے لیکن الیکشن تک اپوزیشن اس اجلاس سے خود کو الگ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

’فراڈ اور دھوکہ دہی‘

گلگت بلتستان کے قوم پرستوں کے کئی گروہ عبوری صوبے کے اعلان سے خوش نہیں ہیں۔ منظور پروانہ گلگت بلتستان یونائیٹڈ فرنٹ کے چیئرمین ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان اگر اس علاقے کو حقیقت میں دوسرے چار صوبوں کی طرح اپنا حصہ بنا لے تو اس سے زیادہ خوش آئند بات ہو ہی نہیں سکتی۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ جو تفصیلات اب تک سامنے آئی ہیں ان کے مطابق ایسا نہیں ہو گا۔

’ماضی میں بھی ہمیں ایسے لالی پاپ دیے جاتے رہے ہیں۔ کیا دنیا میں کوئی عبوری یا مشروط صوبہ کسی ملک میں شامل ہے؟ جب تک تنازع کشمیر ہے ہمیں مکمل طور پر ضم نہیں کیا جائے گا۔ نیا اعلان اس علاقے کے لوگوں کے ساتھ فراڈ اور دھوکہ دہی ہے۔‘

منظور پروانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے پانچ اگست کو جو نقشہ جاری کیا جس میں گلگت بلتستان کو اپنا حصہ دکھایا ہے۔

’اس نقشے کو سیاسی نقشہ بتایا جا رہا ہے۔ لیکن سیاسی نقشہ کیا ہوتا ہے؟ نقشہ تو جعرافیائی حقیقتوں پر مبنی ہوتا ہے۔ پاکستان ہم سے سیاسی کھیل نہ کھیلے ہمیں جعرافیائی طور پر مکمل طریقے سے پاکستان کا حصہ بنایا جائے۔ یہی اس علاقے کا مطالبہ ہے۔‘

منظور پروانہ یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ اب تک گلگت کے لوگوں کو اس قسم کے کسی اقدام کے لیے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ ’اگر صوبہ بنانا ہے تو قوم پرستوں سے مذاکرات کریں۔ پیلپز پارٹی، تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن سے نہیں۔ یہ جماعتیں یہاں کے لوگوں کی حقیقی نمائندگی نہیں کرتیں۔‘

انڈیا کا درعمل

انڈیا نے اب تک اس اعلان پر کوئی باقاعدہ ردعمل نہیں دیا۔ لیکن وہ اس علاقے کو متنازع سمجھتا ہے اور اس پر اپنا حق جتاتا ہے۔ انڈیا نے ماضی میں گلگت بلتستان کی آئینی اور قانونی حثیت میں تبدیلی کی ہمیشہ ہی مخالفت کی ہے۔

لیکن اس وقت پاکستان کے گلگت بلتستان کو باقاعدہ صوبہ بنانے کے اعلان کو انڈین میڈیا میں چین اور انڈیا کے لداخ میں حالیہ تنازع اور موجودہ صورتحال میں انڈیا پر دباؤ بڑھانے کے لیے پاکستان اور چین کی ملی بھگت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

 

تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی اس تاثر کو رد کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کبھی بھی فوجی سطح پر چین اور انڈیا کے تنازعے میں شامل نہیں ہو گا۔ تاہم اگر یہ تنازع جنگ کی صورت اختیار کرتا ہے تو پاکستان کھل کر چین کی سفارتی حمایت کرے گا۔ لیکن اس علاقے میں استحکام اور گلگت بلتستان کی حیثیت سے سیاسی بے یقینی ختم ہونے کا فائدہ چین اور اس کی اقتصادی راہداری کو ہو گا۔

ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کی رائے میں پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی صورت میں انڈیا کی طرف سے جنگ کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی بڑھ سکتی ہے، سفارتی تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں، انفارمیشن اور پراپیگنڈہ کی لڑائی شدت اختیار کر سکتی ہے اور پراکسی وارز میں تیزی کی توقع کی جا سکتی ہے لیکن انڈیا اور پاکستان دونوں ہی جان چکے ہیں کہ مکمل جنگ باہمی تباہی کا فارمولہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لیے اس سے پرہیز ہی کیا جائے گا۔

کیا لائن آف کنٹرول مستقل سرحد میں تبدیل ہو سکتی ہے؟

تجزیہ کار ڈاکٹر مسرت امین کہتی ہیں کہ پاکستان تمام ممکنہ اثرات اور نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے ہی اس معاملے پر آگے بڑھے گا۔ ابھی تو یہ اعلان ہوا ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ یہ طے ہونا باقی ہے کہ یہ عملی طور پر کیسے ہو گا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اسلام آباد یہ کوشش کرے گا کہ تمام سٹیک ہولڈز کے تحفظات اور مطالبات کو مدنظر رکھے۔ خاص طور پر مقامی لوگوں کی رائے کو وزن دیا جائے گا۔ کیونکہ یہ علاقہ پاکستان کی دفاعی اور اقتصادی سلامتی کے لیے انتہائی اہم بن چکا ہے اسلام آباد کی کوشش ہو گی کہ اندرونی طور پر اس پر کم سے کم تنازعات پیدا ہوں۔‘

ڈاکٹرمسرت امین سمجھتی ہیں کہ اس فیصلے کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔

’پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ انڈیا اس وقت لداخ کو لے کر دباؤ میں ہے۔ تو وہ اس موقع کا فائدہ انھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ابھی تک اسلام آباد نے اپنے پتے ہوشیاری سے کھیلے ہیں۔ وہ کوئی فوجی تنازعہ کھڑا نہیں کرنا چاہتا لیکن وہ انڈیا کو پانچ اگست 2019 کا جواب دینے کا حق بھی رکھتا ہے۔‘

مسرت امین کی رائے میں اسلام آباد مستقبل میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو اپنا مستقل حصہ بنانے کا قدم بھی اٹھا سکتا ہے۔ جیسے کے انڈیا نے کیا۔ اور ایسی صورت میں انڈیا کے پاس عالمی سطح پر واویلا کرنے کا کوئی اخلاقی جواز بھی نہیں ہو گا۔

لیکن اس سوال پر کہ پاکستان کا تاریخی موقف تو یہی رہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی مرضی سے حل ہو ڈاکٹرمسرت امین کا کہنا تھا کہ بدلتی ہوئی جیو اسٹریجک صورتحال میں پاکستان کشمیریوں کو بھی کسی ایسے حل کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

’جب انڈیا کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر سکتا ہے اور اس پر پاکستان کی آواز پر دنیا کو کوئی اثر نہیں ہوا تو پھر مستقبل میں کشمیر کے پاکستان میں انضمام کے امکان کو بھی یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔‘

ڈاکٹر حسن عسکری رضوی بھی لائن آف کنٹرول کے مستقل سرحد بننے کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ماضی میں دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں ایسی تجاویز زیر غور آتی رہی ہی ہیں۔

کشمیر کا معاملہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کے بغیر حل نہیں ہو گا پر مودی سرکار کے ہوتے ہوئے تو مذاکرات کی بحالی کا فی الحال امکان نہیں۔ لیکن دوہزار چار سے دوہزار آٹھ کے دوران ہونے والے جامع مذاکرات میں لائن آف کنٹرول کو مستقل بارڈر بنانے سے متعلق تجاویز پر بات چیت ہوتی رہی ہے۔ اور مستقبل میں جب بھی مذکرات بحال ہوئے تو اس طرح کی تجاویز پر غور کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘

 

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *