ٹک ٹاک انتظامیہ امریکہ میں پابندیوں کیخلاف عدالت پہنچ گئی

ٹک ٹاک انتظامیہ امریکہ میں پابندیوں کے خلاف عدالت پہنچ گئی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو کیلیفورنیا کی عدالت میں چیلنج کر دیا۔

ٹک ٹاک کی جانب سے دی گئی درخواست میں امریکی صدر کا فیصلہ چین مخالف مہم کا حصہ قرار دیا گیا اور الزام عائد کیا گیا کہ ٹرمپ چین مخالف بیانیے سے دوبارہ الیکشن جیتنا چاہتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کا امریکا میں چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی کا اعلان

ٹک ٹاک انتظامیہ کی جانب سے مزید کہا گیا کہ صارف کے ڈیٹا کی رازداری اور حفاظت کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے۔

قبل ازیں ویڈیو ایپ ٹک ٹاک کی مالک کمپنی بائٹ ڈانس نے امریکہ میں اپنی ایپ پر پابندی کے رد عمل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے7 اگست کو ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے ٹک ٹاک کی مالک کمپنی بائٹ ڈانس کے ساتھ ہر قسم کی لین دین پر پابندی عائد کی تھی۔

اس حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کو قومی سلامتی کے پیشِ نظر ٹک ٹاک کے مالکان کے خلاف جارحانہ کارروائی کرنا ہوگی۔

اسلام کو ٹک ٹاک سے کوئی خطرہ نہیں ہے، فواد چوہدری

ویڈیو ایپلی کیشن کی انتظامیہ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور عالمی مارکیٹ کے قوانین کے خلاف ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ امریکی صدر ایک امریکی کمپنی سے ٹک ٹاک خریدنے سے متعلق ڈیل کررہے ہیں۔

چین کی بائٹ ڈانس نامی کمپنی نے دسمبر 2018 میں ٹک ٹاک کو متعارف کرایا تھا اور اب یہ دنیا کی مقبول ترین سوشل میڈیا ایپ چکی ہے۔

امریکہ میں 2020 کے پہلے تین ماہ میں 315 ملین افراد نے ٹک ٹاک ایپ ڈاون لوڈ کی تھی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے

کہ چینی قوانین کے تحت وہاں نجی کمپنیوں کو وہاں کی خفیہ ایجنسیوں کیساتھ تعاون کرنا پڑتا ہے جس کے باعث امریکی عوام کی معلومات کے غلط استعمال کا خدشہ ہے۔

امریکہ میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بارے میں کہا کہ چینی ایپلی کیشنز امریکہ کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

مائیک پومپیو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ٹک ٹاک ایپ براہ راست چین کی بر سراقتدار کمیونسٹ پارٹی کو ڈیٹا فراہم کررہی ہے۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Articles You May Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *